دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 823
عنوان دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم )
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 200601
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) - کی دوسری شاخیں-

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم )


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

فصلِ چہارم:۔ دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم)

بقا پذیر سرمائے یا دوسرے لفظوں میں ذرائع پیداوار کا جائزہ اگر قدرِ زائد پیدا کرنے کے نقطۂ نظر سے لیا جائے تو پتا چلے گا کہ یہ محض محن کی تجذیب کے لیے ہی موجود ہیں، اور محن کے ہر قطرے کے تناسب سے محنِ زائد کی ایک خاص مقدار بھی۔جب وہ اس کام کی انجام دہی میں ناکام رہیں تو صرف ان کا وجود سرمایہ دار کے لیے نسبتی نقصان کا سبب ہے؛ وجہ اس کی یہ ہے کہ جس دوران میں وہ معطل رہتے ہیں اس وقت بیکار سرمائے کو پیش کر رہے ہوتے ہیں۔اور یہ نقصان اُس وقت قطعی طور پر حقیقی اور یقینی بن جاتا ہے جب اُن کے استعمال کے روک کی وجہ سے کام کے دوبارہ آغاز پر مزید خرچ کرنا پڑتا ہے۔ دیہاڑی کا فطری دن کی حدودسے تجاوز کرتے ہوئے رات تک طویل ہو جانا محض تخفیف کنندہ کا کام سر انجام دیتا ہے۔ یہ زندہ محن کے رَت نوش اژدھے کی پیاس میں تھوڑی سی کمی کا باعث بنتا ہے۔ چنانچہ دن کے پورے کے پورے 24گھنٹے کے دوران محن کا حصول ہی سرمایہ دار انہ پیداوار کا فطری رجحان ہے۔ لیکن چونکہ دن کے ساتھ ساتھ رات کو بھی ایک ہی فرد کی قوتِ محن کا استحصال ممکن نہیں چنانچہ اس جسمانی رکاوٹ پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ دن اور رات کے کام کی وجہ سے تھکنے والے مزدوروں کی باہمی ادلی بدلی کی جاتی رہے۔یہ ادلی بدلی کئی طرح سے منظم کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسا بندوبست کیا جا سکتا ہے کہ کچھ مزدوروں کوایک ہفتے کے لیے دن کے اوقات میں کام پر لگایا جائے اور اگلے ہفتے کے لیے رات کے اوقات میں۔یہ سب جانتے ہیں کہ ادلی بدلی کا یہ نظام؛ مزدوروں کے دو حصوں کا یہ متواترادل بدل( Relay system )کا نظام اس وقت بڑے زوروں پر تھاجب انگلستان میں روئی کے مصنوعات کا کاروبارکوعروج تھا؛ اور فی الوقت ماسکو کے ضلع میں روئی کاتنے کی صنعت میں بھی اپنے عروج پر ہے۔ 24گھنٹے کا یہ پیداواری عمل آج برطانیۂ عظمیٰ کی صنعتی دنیاکی کئی ایک شاخوں میں جو آزاد ہیں،بطور نظام رائج ہے جیسے ڈھلائی کی بھٹیوں میں، لوہار بھٹیوں میں، پلیٹیں بنانے والے کارخانوں میں اور انگلستان، ویلز اور سکاٹ لینڈ وغیرہ کے دھات سے متعلقہ دیگر اداروں میں ۔ یہاں پر وقتِ محن میں چھ دیہاڑیوں کے چوبیس چوبیس گھنٹوں کے علاوہ اتوار کے 24گھنٹوں کا بھی ایک معتدبہ حصہ شامل ہے۔ ان کے مزدوروں میں مرد، عورتیں، نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں۔ بچوں اور چھوٹے افراد میں8(بعض صورتوں میں 6)سے لے کر 18سال کے درمیان تمام عمر کے لوگ شامل ہیں۔60؂

ان صنعتوں کی کچھ شاخیں ایسی ہیں جن میں لڑکیاں اور عورتیں ساری ساری رات مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتی رہتی ہیں۔61؂

رات کے محن کے مضر اثرات سے قطع نظر کرتے ہوئے62؂ عملِ محن کا دورانیہ جو تسلسل کے ساتھ 24گھنٹے متواتر جاری رہتا ہے، نارمل دیہاڑی کی حدود کو طویل کھینچنے کے مناسب ترین مواقع فراہم کرتا ہے؛ خاص طور پران صنعت کی شاخوں میں جن کا ماقبل ذکر کیا جا چکا ہے اور جن کا کام انتہائی تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ سرکاری دیہاڑی کا مطلب یہ ہے کہ ہر مزدور کے لیے دن یا رات کے دوران 12گھنٹے کام کرنا لازم ہے۔ لیکن اس مقدار سے تجاوز کرتا ہوا کثرتِ کاراکثر اوقات انگلستان کی سرکاری رپورٹ کے الفاظ میںواقعی دہشت ناک بن جاتا ہے۔63؂

رپورٹ میں کہا گیا ہے: یہ ناممکن ہے کہ ذیل کے اقتباس میں بیان کی گئی کام کی مقدارکودیکھ کر کسی کے حلق سے یہ بات اتر جائے کہ اس کو سر انجام دینے والا 9یا 12سال کا ایک بچہ ہے....تاہم ہر کوئی لازمی طور پر اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ ماں باپ اور مالکان کو اختیارات کے استعمال کی ایسی اجازت ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔64؂

لڑکوں کا دن اور رات متواتر کام کرنے کاجو طریقہ یا تو عام حالات میں رائج ہے، یا پھر اُن حالات میں جب کام کا دباؤ ہوتا ہے اُس کا لازمی اندیشہ یہی ہوتا ہے کہ اُن لڑکوں سے اکثر اوقات طویل گھنٹوں کام لیا جائے۔ بعض حالات میں یہ اضافی گھنٹے لڑکوں کے لیے ظالمانہ اور نا قابلِ برداشت حد تک طویل ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ یقینی امر ہے کہ ان تمام لڑکے میں سے ایک یا زیادہ بچے کسی نہ کسی وجہ سے کام سے غائب ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے تو اُن کی جگہ پر ایک یا اس سے زیادہ ایسے لڑکوں کو کام پر لگا دیا جاتا ہے جنہوں نے دوسری باری میں کام کرنا ہوتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ ایک جانا بوجھا نظام ہے......جب میں نے ایک بہت بڑی رولنگ مل کے مالک سے پوچھا کہ غیر حاضر لڑکوں کی جگہ کس طرح پوری کی جاتی ہے تو اُس نے یہ کہتے ہوئے کہ جنابِ والا میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ یہ بات آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی حقیقت کو تسلیم کرلیا ۔65؂

ایک رولنگ مِل جس میں ڈیوٹی کا دفتری وقت صبح 6بجے سے شام -03بجے تک ہے ، اس میں ایک لڑکا گزشتہ 6ماہ سے ہفتے کے چار دن رات-03 بجے تک کام کرتا تھا۔ 9سال کی عمر کے ایک اور لڑکے نے بارہ بارہ گھنٹے کی تین شفٹیں مسلسل چلائیں؛ اور جب اس کی عمر دس سال ہوئی تو اُس نے دو دن اور دو راتیں مسلسل کام کیا۔ اور ایک تیسرا لڑکا جس کی عمر اب 10سال ہے صبح6بجے سے رات12بجے تک مسلسل تین راتیں کام کرتا رہا، اور باقی راتوں میں رات 9بجے تک۔ ، ایک اور لڑکا جس کی عمر اب 13سال ہے صبح6بجے سے اگلے دن 12بجے سہ پہر تک کام کرتا رہا اور سارے کا سارا ہفتہ اس کو یہی معمول تھا؛ اور بعض وقت تو اُس نے اکٹھی 3شفٹیں بھی چلائیں مثال کے طور پر سوموار کے دن سے لے کر منگل کی رات تک۔، ایک اور لڑکا اب جس کی عمر 12سال ہے Stavelyکے مقام پر لوہا پگھلانے والی ایک بھٹی میں کام کرتا تھاصبح6بجے سے رات12بجے تک کام کرتا رہاوہ اِسی قاعدے کے تحت برابر دو ہفتے کام کرتا رہاکیونکہ اس سے زیادہ عرصے تک وہ کام کرنے کے قابل نہ تھا۔ 9سالہ George Allinsworthپچھلے جمعے یہاں شراب بیچنے والے لڑکے کی حیثیت سے آیااگلی صبح ہم نے 3بجے کام کا آغاز کرنا تھاچنانچہ میں ساری رات یہیں ٹھہرا رہا۔ یہاں سے رہائش کا فاصلہ پانچ میل ہے۔ بھٹی والے فرش پر سویا ،پیش بند نے میرے لیے بچھونے کا کام دیا اور ایک معمولی سی جیکٹ کا اوڑھنا تھا۔ اگلے دو دن تک بھی میں پورے 6بجے تک یہاں پہنچتا رہا۔ ہاں یہاں گرمی بہت ہے۔ ایک سال پہلے بھی میں ملک کی کسی اور فیکٹری میں اسی کام پر معمور تھا۔ وہاں بھی ہفتہ کو صبح 3بجے ہی کام کرتا تھا۔ لیکن وہ جگہ میرے گھر کے قریب تھی چنانچہ گھر ہی میں سوتا تھا۔ اس کے بعد کے دنوں کو میں صبح 6بجے ہی کام کا آغاز کرتا تھا اور شام 6یا 7بجے فارغ ہوتا تھا۔ 66؂

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس 24گھنٹے کے نظام کو خود سرمایہ<




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) ان داشلائوں میں استعمال ھے
دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم )
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے