دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 823
عنوان دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم )
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 200613
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) - کی دوسری شاخیں-

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم )


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

/a> کن معنوں میں لیتا ہے۔ اس نظام کی شدید ترین انتہاؤں، یعنی دیہاڑی کو ظالمانہ اور ناقابلِ یقینحد تک طویل کھینچنے کی خامی کو عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سرمایہ تو محض نظام کی عمومی حالت ہی کو زیرِ بحث لاتا ہے۔

لوہا ساز کارخانوں کے مالکین میسرز .نائلر اور وِکرس جن کے ملازمین کی تعداد چھ سے سات سو کے قریب ہے؛ اور ان مزدوروں میں صرف 10%ایسے ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے صرف 20لڑکے ایسے ہیں جو رات کی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں اپنے جذبات کا ذیل کے انداز میں اظہار کرتے ہیں: لڑکوں کو گرمی کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔ درجہ حرارت غالباً ْ86سے ْ90تک ہوتا ہے....۔ بھٹیوں اور پتریاں بنانے والے کارخانوں میں مزدور رات اور دن کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ مگر کام کے دیگر تمام شعبوں میں صبح 6سے شام6بجے تک ، دن کی شفتٹیں ہی چلتی ہیں۔ بھٹیوں کے اوقاتِ کار 12بجے سے 12بجے تک ہوتے ہیں۔ کچھ مزدور ہمیشہ رات ہی کی شفٹ میں کام کرتے ہیں جن میں دن یا رات کے کام کی تبدیلی نہیں ہوتی....۔ جو مزدور ہمیشہ رات کے وقت کام کرتے ہیں اور جو ہمیشہ دن کے اوقات میں کام کرتے ہیں ہمیں اُن کی جسمانی صحتوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اور یہ بھی اغلب ہے کہ لوگ اس صورت میں بہتر نیند لے سکتے ہوں اگر ان کے آرام کرنے کے اوقات کو بدلنے کے بجائے وہی رکھا جائے....۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کے تقریباً 20بچے رات کی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں....۔ رات کا کام اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے بغیر ٹھیک طور پر نہیں چلتا۔ پیداواری لاگت میں اضافہ اس پر اعتراض ہو سکتا ہے.....۔ہر شعبے سے متعلقہ ہنر مند افراد اورسربراہان کا ملنا مشکل ہوتا ہے لیکن لڑکے ہر تعداد میں مل جاتے ہیں....۔لیکن لڑکوں کا وہ چھوٹا تناسب جس میں ہم انہیں نوکر رکھتے ہیں اس کی لحاظ سے( رات کے کام پر لگائی جانے والی پابندیوں کا )یہ معاملہ ہمارے لیے انتہائی کم اہمیت کا حامل ہے۔67؂

میسرز جان براؤن اینڈ کو نامی ایک فولاد اور سٹیل ساز فرم میں 3,000جوانوں اور بچوں پر مشتمل ملازمین بھرتی ہیں۔ اس مِل کا ایک شعبہ جس میں لوہے اور وزنی سٹیل کا کام ہوتا ہے ریلے سسٹم(ادلی بدلی کے نظام )کے تحت دن رات جاری رہتا ہے۔ اس کے بارے میں مسٹر. جے. ایلس کا کہنا ہے : کہ سٹیل کے وزنی کاموں میں بیس یا چالیس آدمیوں کی مدد کے لیے ایک یا دو لڑکوں کو تعینات کرنا پڑتا ہے۔ اس مقصد کے تحت 18سال سے کم عمر 500سے زیادہ لڑکے بھرتی کئے جاتے ہیں اور ان 500لڑکوں میں سے تیسرا حصہ یا 170بچے 13سال سے کم عمر کے ہیں۔ قانون میں مجوزہ ترامیم کے بارے میں مسٹر ایلس کا کہنا ہے کہ: میرا نہیں خیال کہ اس بات پر اعتراض کیا جائے کہ18سال سے کم عمر کا کوئی لڑکا بھی 24میں سے بارہ گھنٹے سے زیادہ کام نہ کرے۔ لیکن میرے خیال میں ہم 12سال سے زیادہ عمر کی کوئی ایسی حد مقرر نہیں کر سکتے جس میں لڑکے رات کے کام سے مستثنیٰ قرار دیے جا سکیں۔ لیکن جن لڑکوں کو رات کی شفٹ کے لیے ملازم رکھا جاتا ہے عنقریب ہمیں 13سال سے کم حتیٰ کہ 14سال تک کی عمر کے لڑکوں کو ملازم رکھنے سے بھی روکا جانا چاہیے۔ جو لڑکے دن کی باریوں میں کام کرتے ہیں انہیں رات کی باریوں میں بھی کام کرنا چاہیے کیونکہ مرد صرف رات کے اوقات ہی میں کام نہیں کر سکتے، یہ بات ان کی صحت کو تباہ کر دیتی ہے.....۔تاہم ہمارا یہ خیال ہے کہ ایک ایک ہفتے کے فرق کے ساتھ رات کے اوقات میں کام کرنا مضر نہیں ہوتا۔(جبکہ میسرز. نیلر اور وِکر صاحبان نے اپنے کاروباری فائدے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رائے قائم کی ہے کہ ہو سکتا ہے بدل بدل کر جاری رہنے والا رات کا کام مسلسل چلنے والے رات کے کام سے زیادہ مضر ہو۔)ہمیں ایسے آدمی بھی مل جاتے ہیں جو صرف رات ہی کی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں بالکل اُن آدمیوں کی طرح جو صرف دن ہی کو کام کرتے ہیں....۔ 18سال سے کم عمر کے لڑکوں سے رات کا کام کروانے پر ہمارا اعتراض محض اسی وجہ سے ہے کہ اس طرح اخراجات بڑھ جاتے ہیں ، لیکن وجہ بھی یہی ایک ہے۔(کیا انسان دشمن احمقانہ پن ہے! )ہمارا گمان ہے کہ اخراجات میں اضافہ تجارت سے زیادہ ہو گا۔ اگر تجارت کامیابی کے ساتھ چلتی رہے تو خرچ کے اس اضافے کو انتہائی اچھے طریقے سے برداشت کر سکتی ہے۔( کتنی چٹخارے دار شوخیانہ بات ہے!)یہاں پر محن کی پہلے ہی کمیابی ہے اگر ایسا قانون لاگو کر دیا گیا تو اور کم پڑ جائے گی۔( مثال کے طورپر ایلیس براؤن اینڈ کوہی اس تکلیف دہ الجھن کا شکار ہو جائے کہ انہیں مزدوروں کو پوری دیہاڑی دینا پڑے گی۔)68؂

میسرز کیملز اینڈ کوکی فیکٹری Cyclops Steel and Iron Works بھی اتنے ہی بڑے پیمانے پر کام کرتی ہے جتنی کہ متذکرہ بالا جان براؤن اینڈ کوکی فرم تھی۔ اس فرم کے مینجنگ ڈائریکٹر نے تحریری گواہی حکومتی کمشنر مسٹر وہائٹ کے حوالے کی۔ لیکن بعد ازاں جب یہ مسودات اُن کو نظر ثانی کے لیے مہیا کئے گئے تو یہ دبا لیے گئے۔تاہم مسٹر وہائٹ کی یادداشت خاصی اچھی تھی۔اسے یہ بات اچھی طرح یاد تھی کہ Messrs. Cyclopsکے لیے بچوں اور جوانوں کا منع کیا گیا رات کا محن قطعی نا ممکن رہے گا، یہ ان کا کاروبار بند کرنے کے مترادف ہو گا، حالانکہ اُن کے کارخانے میں 18 سال سے زیادہ عمر کے لڑکوں کی تعداد 6%سے کچھ ہی زیادہ ہے اور تیرہ سال سے کم عمر لڑکے تو 1%سے بھی کم ہیں۔69؂

سینڈر سن برادرز اینڈ کونامی ایک مِل جس میں فولاد اور لوہے کا سازوسامان اور پتریاں وغیرہ بنتی ہیں ؛ اس مِل سے متعلقہ ایک شخص Mr. E. F Sanderson اسی مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہیں: اگر 18سال سے کم عمر کے لڑکوں کو رات کے وقت کام سے روک دیا جائے تو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر ہم لڑکوں کی جگہ آدمیوں کو ملازم رکھیں تو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو گا کہ اخراجات بڑھ جائیں گے۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اس کا نتیجہ کیا برآمد ہو گا ؛ لیکن اس عمل سے کارخانہ دار کے لیے یہ بات ممکن نہ ہو گی کہ وہ سٹیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دے۔نتیجتاً یہ اخراجات اُن ہی کو برداشت کرنا پریں گے، کیونکہ مزدور یقینا( کس عجیب بھیجے کے حامل یہ لوگ ہیں!)اس کی اجرت ادا کرنے سے انکار کر دیں گے۔ Mr. Sandersonیہ نہیں جانتے کہ ان بچوں کو کتنی اُجرت ادا کی جاتی ہے، لیکن غالباً چھوٹے لڑکوں کو 4یا5شلنگ فی ہفتہ دیا جاتا ہے.....۔ ان بچوں کو ایسا کام دیا جاتا ہے جو عموماً( واقعی عموماً ، نہ کہ ہمیشہ )اُن کی قوت کے مطابق ہوتا ہے؛ اور نتیجتاً بڑوں کی اضافی قوت کا کوئی فائدہ نہ ہو گا جو اُس نقصان کو پوراکرے، اس کی ضرورت تو محض اُن چند صورتوں ہی میں پڑے گی جب دھاتیں زیادہ وزن دار ہوں گی۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کریں گے کہ اُن کے ماتحت چند لڑکے نہ ہوں کیونکہ آدمی کم تابعدار ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ لڑکوں کے لیے ضرو




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) ان داشلائوں میں استعمال ھے
دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم )
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے