دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 823
عنوان دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم )
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 200620
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) - کی دوسری شاخیں-

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم )


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

ری ہے کہ وہ ہنر سیکھنے کے لیے چھوٹی عمر ہی میں کام شروع کر دیں۔ اگر محض دن کا کام ہی ان کے لیے رکھا جائے تو اُن کا یہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ دن کے اوقات میں بچے اپنے ہنر کو کیوں نہیں سیکھ سکتے؟ آپ کے پاس اِس کا کیا جواز ہے؟ جو آدمی وقفے وقفے سے رات اور دن کے اوقات میں کام کرتے ہیں وہ آدھے وقت کے لیے اپنے ماتحت لڑکوں سے دور رہیں گے اور اُس آدھے نفعے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جو اُن لڑکوں کی وجہ سے کماتے ہیں۔ وہ ایک نو آموز کو جو تربیت دیتے ہیں اسے لڑکے کے محن کا معاوضہ خیال کیا جائے گا،بڑا مزدور اسی انداز میں لڑکوں کے محن کو سستے داموں خرید لیتا ہے۔ہر آدمی یہ چاہے گا کہ اس نفعے کا آدھا خود حاصل کر لے۔ دوسرے لفظوں میں Messrs. Sandersonکو آدمیوں کی اجرت کا ایک حصہ لڑکوں کے رات کے کام کے بجائے خود اپنی جیب سے ادا کرنا پڑے گا۔اور اس طرح سے Messrs. Sandersonکے نفع میں کسی حد تک کمی آجائے گی اور یہی وہ عمدہ سینڈر سینیائی وجہ ہے جس بنا پر لڑکے صبح کے وقت اپنا ہنر نہیں سیکھ سکتے۔70؂مزید یہ کہ رات کا محن اُن لوگوں پر جا پڑے گا جنہوں نے لڑکوں کی جگہ کام کیااور جو اُن کی برداشت سے باہر ہو گی۔ اور یہ اتنی بڑی مشکل ہو گی کہ اُن کے لئے یہ بات نا گزیر ہو جائے گی کہ وہ رات کا کام بالکل ہی چھوڑ دیں، اور جہاں تک خود کام کا تعلق ہئے اس سلسلے میں ای. ایف سینڈرسن کا کہنا ہےیہ بھی ہمارے لیے اتنا ہی موزوں رہے گا، لیکن__۔لیکن میسرز سینڈرسن کی مصنوعات فولاد سازی کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں۔ فولاد سازی تو محض قدرِ زائد بنانے کا ایک بہانہ ہے۔ڈھلائی والی بھٹیاں، پتریاں بنانے والی مِلیں وغیرہ، عمارتیں، مشنری، لوہا، کوئلہ اور اس طرح کی دیگر چیزیں محض فولاد ہی میں نہیں بدل جاتیں بلکہ کچھ اور کام بھی سرانجام دیتی ہیں۔ یہ اس لیے ہیں کہ محنِ زائد کو جذب کر سکیں اور یہ فطری طور پر 24گھنٹے میں 12گھنٹے سے زیادہ محن جذب کر لیں گی۔اصل بات یہ ہے کہ ان سب چیزوں نے تو مشیعتِ ایزدی اور قانون کی عطا سے مزدوروں کی کچھ تعداد سے 24گھنٹے کام لینے کی بابت ایک حکم نامہ صادر کر رکھا ہے؛ اور جب ان چیزوں کی محن جذب کرنے کی خاصیت کو روکا جائے اوراس بنا پر ان میں سرمائے کا خاصہ نہ رہے تو سینڈر سن کے لیے خاص نقصان کا باعث بن جائیں گی لیکن اگر اِتنی قیمتی مشنری آدھے وقت کے لیے بیکار پڑی رہے تو نقصان کا باعث بنے گی اور جتنا کام ہم اب حاصل کر رہے ہیں اُس کے حصول کے لیے اِس سے دگنی عمارت اور مشنری درکار ہو گی، جس پر خرچ بھی دگنا آئے گا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ای. ایف. سینڈرسن کو وہ رعائتیں کس لیے میسر آئیں جن سے محض دن کے وقت کام کرنے والے سرمایہ دار استفادہ نہیں کر سکتے اور جن کی عمارتیں، مشنری، خام مال وغیرہ رات کے اوقات میں بیکار پڑے رہتے ہیں؟ ای. ایف.سینڈرسن تمام سینڈرسنوں کی نمائندگی کرتے ہوئے جواب دیتا ہے: یہ بات سچ ہے کہ جن کارخانوں میں مشنری بیکار پڑی رہتی ہے اور کام محض دن کے اوقات میں ہوتا ہے اُن کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہمارے معاملے میں بھٹیوں کا استعمال مزید نقصان کا باعث بنے گا۔ اگر اِن کو چلتا رکھا جائے تو ایندھن ضائع ہو گا( اُس نقصان کے بجائے جو اس وقت مزدوروں کی زندہ ماہیت کا ہو رہا ہے )، اور اگر اِن مشینوں کو چلایا نہ جائے توآگ جلانے اور بھٹی کو پھر سے گرمانے میں وقت تو ضرور ضائع ہو گا( جب کہ سونے کے اوقات کا نقصان حتیٰ کہ 8سال تک کے بچوں کا بھی ، سینڈرسن کے قبیل کے لوگوں کے لیے وقتِ محن کا حصول ہے)، اور خود بھٹی کو بھی درجۂ حرارت میں تبدیلی سے نقصان پہنچتا ہے۔( جبکہ ان ہی بھٹیوں کو دن اور رات کی لگاتار بدلتی ہوئی شفٹوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔)71؂






ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم ) ان داشلائوں میں استعمال ھے
دن اور رات کی محنت:ادلی بدلی کا نظام(ریلے سسٹم )
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے