دیہاڑی کی تطویل : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 846
عنوان دیہاڑی کی تطویل
شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
پڑھا گیا 235539
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

دیہاڑی کی تطویل کے بنیاد
مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات / مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

دیہاڑی کی تطویل - کی دوسری شاخیں-

دیہاڑی کی تطویل


شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ




b.دیہاڑی کی تطویل

b. Prolongation of the working day



اگر قوتِ محن کی افزودگی میں اضافہ کرنے کا سب سے طاقتور ذریعہ مشینری ہو__یعنی شے کی پیداوار کے لئے درکار وقتِ محن کی تخفیف کا ذریعہ__ تو یہ سرمائے کے ہاتھ میں آ کر اُن صنعتوں میں انسانی فطرت کی مقرر کردہ تمام حدود سے دیہاڑی کی طوالت کو بڑھانے کا ایک طاقتور وسیلہ بن جاتی ہے، جن میں یہ پہلے وارد ہوئی۔ ایک طرف تو یہ اُن نئے حالات کو جنم دیتی ہے جن کے ذریعے سرمایہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اِسے ایک مستقل رجحان بنا سکے، اور دوسری طرف وہ نئے محرکات بھی پروان چڑھتے ہیں جن کے ساتھ دوسروں کے محن کے لئے سرمائے کی بھوک میں تیزی آتی ہے۔

پہلی صورت میں آلاتِ محن ، مشینری کی شکل میں خود کار ہو جاتے ہیں، چیزیں کاریگر سے آزادانہ ہی متحرک ہیں اور کام میں لگی ہوئی ہیں۔ پھر وہیں سے وہ صنعتی مسلسل حرکت بن جاتی ہے، جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پیداوار میں لگی رہے گی، کیا اس کا سامنا اس کے انسانی کاریگروں کے کمزور اجسام اور قوی ارادوں کی فطری رکاوٹوں سے نہیں ہوا۔ ایسا خود کار نظام، سرمائے کی طرح اور سرمایہ ہونے کی وجہ سے، سرمایہ دار کی شخصیت میں اُس کی ذہانت اور اِرادے کے ساتھ گُتھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس خواہش کی تجسیم اِس شکل میں ہوتی ہے کہ سرمایہ دار فرد کی فطری مزاحمت کو ممکنہ حد تک کم کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس مزاحمت میں مشینی کام کے ظاہری ہلکا پن کی وجہ سے، اور اس پر کام کرنے والی عورتوں اور بچوں کے شفاف اور اطاعت شعار خاصے کی وجہ سے ،مزید کمی آ جاتی ہے۔62؂

جیسا کہ ہم نے دیکھا، کہ مشینری کی افزودہ کاری اُس قدر سے بالعکس تناسب میں ہوتی ہے جو اس سے مصنوعہ کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ مشین کی زندگی جتنی طویل ہو گی ، اُن مصنوعات کی تعداد بھی اُتنی ہی زیادہ ہو گی جنہیں مشین سے منتقل ہونے والی قدر محیط کر رہی ہے، اور اُس قدر کا حصہ اُتنا ہی کم ہو گا جو ہر شے میں جمع ہو رہی ہے۔ تاہم، ایک مشین کا متحرک عرصۂ حیات واضح طور پر دیہاڑی کی طوالت پر منحصر ہوتا ہے، یا روزانہ کے عملِ محن اور اُن ایام کی تعداد کے حاصلِ ضرب سے جن کے دوران یہ عمل جاری رہا۔

کسی مشینری کی گھسائی اس کے عرصۂ حیات سے ٹھیک طور پر متناسب نہیں ہوتی۔اور اگر ایسا ہو بھی جائے ، تو مسلسل 7 -BD سال روزانہ 16گھنٹے چلنے والی ایک مشین ، کام کا اُتنا دورانیہ ہی طے کرے گی ، اور مصنوعہ میں اُس سے زیادہ کسی قسم کی قدر کا اضافہ نہیں کرے گی ، جتنی ایک مشین 8گھنٹے روزانہ کے حساب سے 15سال تک مسلسل چلے۔ لیکن پہلی صورت میں مشین کی قدر کی باز تخلیق دوسری صورت کی نسبت آدھے وقت میں مکمل ہو جائے گی، اور مشین کے ایسے استعمال سے سرمایہ دار7 -BD سال میں قدرِ زائد کی اُتنی مقدار حاصل کر لیتا ہے جتنی دوسری صورت میں وہ 15گھنٹوں میں کر سکے گا۔

ایک مشین کی ظاہری گھسائی دو اقسام کی ہوتی ہے۔ ایک کا تعلق استعمال سے ہے، جیسے سکّے استعمال سے گھِس جاتے ہیں، اور دوسری کا تعلق عدمِ استعمال سے، جیسے ایک تلوار کو اگر نیام میں چھوڑ دیا جائے تو زنگ آلود ہو جاتی ہے۔ آخرالذکر قسم کی وجہ عناصر [عناصرِ اربعہ]بنتے ہیں۔ اوّل الذکر وجہ کم و بیش مشین کے استعمال سے راست اور آخرالذکر وجہ کسی حد تک بالعکس طور پر متناسب ہے۔63؂

جسمانی گھسائی کے ساتھ ساتھ ایک مشین کسی حد تک یوں کہا جا سکتا ہے کہ اخلاقی طور پر بھی تنزل میں جاتی ہے۔ یہ قدرِ مبادلہ کو کھوتی رہتی ہے، یا اس صورت میں کہ اسی قسم کی مشینیں اس سے سستی تیار ہونے لگیں، یا پھر اس کے مقابلے میں اس سے بہتر مشینیں آ جائیں۔ 64؂ہر دو صورت میں ، مشین چاہے انتہائی تروتازہ اور زندگی سے بھرپور ہو ، اب اس کی قدر اُس محن سے نہیں جانی جائے گی جو اس میں مجتمع ہوا ہے، بلکہ اِس کی تعیین تو اُس محن سے ہو گی جو اس طرح کی یا اس سے بہتر مشین کی تیاری کے لئے درکار ہو گا۔ چنانچہ یہ کسی نہ کسی حد تک قدر سے محروم ضرور ہوئی ہے۔ اس کی کُل قدر کے پیدا کرنے کا دورانیہ جتنا کم ہو گا ، اخلاقی خسارے کا خطرہ اُتنا ہی کم ہو گا؛ اور دیہاڑی جتنی لمبی ہو گی وہ دورانیہ اُتنا ہی چھوٹا ہو گا۔ جب کوئی مشینری کسی صنعت میں پہلے پہل متعارف ہوتی ہے، اس کی زیادہ ارزاں باز تخلیق کے نئے اطوار انتہائی تیز رفتاری سے آتے ہیں،65؂ اور اس کی ترقی کا بھی یہی حال ہے، جو نہ صرف مشین کے انفرادی حصوں اور جزوی پُرزوں پر اثر انداز ہوتی بلکہ اِس کی پوری کی پوری ساخت ہی کو متاثرکرتی ہے۔ چنانچہ مشین کی زندگی کے ابتدائی ایام ہی میں دیہاڑی کو لمبا کھینچنے کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ممکن ہوتا ہے۔66؂

اگر دیہاڑی کی طوالت متعین ہو اور دوسرے تمام حالات مستقل رہیں تو مزدوروں کی دُگنی تعداد کا استعمال نہ صرف بقا پذیر سرمائے کے اُس حصے کو دُگنا کرنے کا تقاضہ کرتے ہیں، جو مشینری اور عمارات پر خرچ ہوا ہے بلکہ اُس حصے کو بھی جو خام مال اور معاون مواد پر خرچ ہوتا ہے۔دوسری طرف دیہاڑی کو لمبا کرنا، مشینری اور عمارات میں لگائے جانے والے سرمائے میں اضافے کے بغیر ہی ، پیداوار کو ایک توسیع شدہ پیمانے پرجاری رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ 67؂چنانچہ یہاں نہ صرف قدرِ زائد میں اضافہ حاصل ہوتا ہے بلکہ اس کو قائم رکھنے کا خرچ بھی کم ہوتا ہے۔یہ درُست ہے کہ دیہاڑی کی ہر تطویل کے سلسلے میں کم و بیش ایسا ہی ہوتا ہے؛ لیکن زیرِ مطالعہ صورتِ حال میں زیادہ تبدیلی کی نشاندہی ہوتی ہے، کیونکہ آلاتِ محن میں تبدیلی ہونے والا سرمایہ ایک زیادہ بڑی سطح تک وزنی ہو جاتا ہے۔68؂ نظامِ کارخانہ کا ارتقا سرمائے کی مسلسل طور پر بڑھتے ہوئے حصے کو ایک ایسی بُنتر میں متشکل کرتا ہے، جس میں، ایک طرف تو اس کی قدر اپنے آپ میں مسلسل پھیلاؤ کی اہل ہوتی ہے، اور دوسری طرف جس میں یہ قدرِ صرف اور قدرِ مبادلہ دونوں کو اُس وقت کھو دیتی ہے جب بھی زندہ محن کے ساتھ اس کا ربط کھو جاتا ہے۔ پروفیسر نساؤ. ڈبلیو. سینئر کے روئی کے سلسلے میں ایک بڑے معاون مسٹر ایش ورتھ نے کہا تھا کہ ،‘‘ جب ایک مزدور اپنا بیلچہ رکھ دیتا ہے تو اُس عرصے کے لئے وہ 18پینس کے برابر سرمائے کو بیکار کر کے رکھ دیتا ہے۔ اگر ہمارے ملازمین میں




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

دیہاڑی کی تطویل ان داشلائوں میں استعمال ھے
دمحن کی تشدید