دیہاڑی کی تطویل : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 846
عنوان دیہاڑی کی تطویل
شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
پڑھا گیا 235590
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

دیہاڑی کی تطویل کے بنیاد
مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات / مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

دیہاڑی کی تطویل - کی دوسری شاخیں-

دیہاڑی کی تطویل


شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

سے کوئی مِل سے چلا جائے تو وہ 100,000پونڈ کے برابر سرمائے کو بے کار کر جائے گا۔ 69؂محض خیال آرائی! کہ ایسے سرمائے کو ایک لمحے کے لئے‘‘ بے کار کر دیناجس پر 100,000پونڈ لاگت آئی ہے! درحقیقت ، یہ ایک بہت بڑا [نقصان] ہے ، کہ اگر ہمارے کارکنان میں سے کوئی ایک بھی فیکٹری سے چلا جائے! مشینری کا بڑھا ہوا استعمال ، جیسا کہ ایش ورتھ سے حاصل ہونے والی ہدایات کے بعد سینئر واضح طور پر سمجھتا ہے، دیہاڑی کی مسلسل طور پر بڑھتی ہوئی تطویل کی‘‘ خواہش پیدا کرتا ہے۔70؂

مشینری نہ صرف قوتِ محن کی قدر کے مول گراتے ہوئے براہِ راست، اور اُن اشیاء کو سستا کرتے ہوئے جو اس کی بحالی کے لیے درکار ہوتی ہیں بالواسطہ طور پر متعلقاتی قدرِ زائد پیدا کردی ہے ؛ بلکہ اس طرح سے بھی کہ جب یہ پہلے پہل جب یہ کسی صنعت میں کہیں کہیں متعارف ہوتی ہے تو یہ اُس مشینری کے مالک کے لگائے گئے مزدوروں کی محنت کو ایک اعلیٰ درجے اور زیادہ اثر پذیر محنت میں بدلتے ہوئے بھی یہ ایسا کرتی ہے؛ وہ اِس طرح کہ یہ پیدا ہونے والی چیز کی سماجی قدر کو اِس کی انفرادی قدر سے بڑھا دیتی ہے، پس یہ سرمایہ دار کو اِس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ ایک دن کی قوتِ محن کی قدر کو ایک دن کی مصنوعات کے ایک چھوٹے حصے سے بدل سکے۔ تبدیلی کے اس عہد میں، یعنی جب مشینری کا استعمال ایک قسم کی اجارہ داری بن جاتا ہے ، نفعے غیر معمولی ہو جاتے ہیں ، اور سرمایہ دار‘‘ اپنی محبت کے پہلے دن سےاستحصال کے کھلے استعمال میں کوشاں ہو جاتا ہے۔ منافعے کی مقدار زیادہ نفعے کے لئے اُس کی بھوک کو تیز تر کرتی ہے۔

جب ایک خاص صنعت میں مشینری کا استعمال زیادہ عام ہو جاتا ہے، تو مصنوعہ کی سماجی قدر اس کی انفرادی قدر سے نیچے چلی جاتی ہے، اور یہ قانون کہ قدرِ زائد اس قوتِ محن سے پیدا نہیں ہوتی جس کی جگہ مشینری نے حاصل کی ہے، بلکہ اُس قوتِ محن سے پیدا ہوتی ہے جو مشینری پر کام کرتے ہوئے حقیقی طور پر خرچ ہوتی ہے، اپنا اظہار پاتا ہے۔ قدرِ زائد محض تغیر پذیر سرمائے ہی سے جنم لیتی ہے، اور ہم نے دیکھا کہ قدرِ زائد کی مقدار دو عوامل پر منحصر ہے یعنی قدرِ زائد کی شرح اور بیک وقت لگائے جانے والے مزدوروں کی تعداد۔اگر دیہاڑی کی طوالت معین ہو تو قدرِ زائد کی شرح کو محنِ لازم اور محنِ زائد کے ایک دن میں آپس میں متعلقاتی دورنیے کی رو سے جانا جائے گا۔بیک وقت لگائے جانے والے مزدوروں کی تعداد کا دارومدار اپنی حد تک ، تغیر پذیر سرمائے کے ساتھ بقا پذیر سرمائے کے تناسب پر ہوتا ہے۔ تاہم، اب مشینری کا زیادہ استعمال، محن کی افزودگی بڑھاتے ہوئے، محنِ لازم کے خرچ پر محنِ زائد کی مقدار میں اضافہ کر دے گا؛ یہ واضح ہے کہ یہ اس نتیجے کو محض مزدوروں کی اُس تعداد میں کمی کرتے ہوئے ہی حاصل کر سکتا ہے جسے سرمائے کی ایک خاص مقدار استعمال میں لاتی ہے۔ جو پہلے قوتِ محن پر خرچ کیا جانے والا تغیر پذیر سرمایہ تھا ، یہ اس کو ایسی مشینری میں بدل دیتا ہے جو بقا پذیر سرمایہ ہونے کی وجہ سے قدرِ زائد پیدا نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر یہ ناممکن ہے کہ 2مزدوروں سے 24مزدوروں کے مساوی قدرِ زائد حاصل کر لی جائے۔ اگر ان 24افراد میں سے ہر کوئی 12گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ قدرِ زائد کی مد میں دے ، تو 24آدمی مل کر 24گھنٹے کا محنِ زائد دیں گے، جبکہ 24گھنٹے دو آدمیوں کا کُل محن بنتا ہے۔پس قدرِ زائد کی پیداوار کے لئے مشینری کا استعمال ایک ایسا تضاد پیدا کرتا ہے جو اس کی فطرت میں شامل ہے، کیونکہ سرمائے کی دی گئی مقدار کے پیدا کردہ قدرِ زائد کے دو عناصر میں سے ایک، یعنی قدرِ زائد کی شرح، کو دوسرے عنصر یعنی مزدوروں کی تعداد میں کمی کئے بغیر بڑھایا نہیں جا سکتا۔ یہ تضاد اسی وقت عیاں ہو جاتا ہے جونہی ایک خاص صنعت میں مشینری کے عمومی استعمال کے ذریعے مشین سے پیدا ہونے والی شے کی قدر اسی قسم کی تمام اشیاء کی قدر کو طے کرے؛ اور یہی وہ تضاد ہے جو اپنی باری آنے پر، سرمایہ دار کو اس حقیقت کی جان کاری کے بغیر ہی دیہاڑی کی بے جا تطویل کی جانب مائل کرتا ہے،71؂ تاکہ وہ نہ صرف متعلقاتی بلکہ مطلق محنِ زائد میں بھی اضافہ کرتے ہوئے استحصال میں آنے والے مزدوروں کی متعلقاتی تعداد میں آنے والی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

پھر اگر ایک طرف مشینری کا سرمایہ دارانہ استعمال دیہاڑی کی بڑھی ہوئی طوالت کے لئے نئے اور طاقتور محرکات مہیا کرتا ہے، جو محن کے طریقوں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے ساتھ ساتھ سماجی نظامِ محنت کے خاصے کو کچھ اِس انداز میں بدلتا ہے کہ اس رُجحان کے خلاف بننے والی تمام مخاصمتیں ٹوٹ کر رہ جائیں؛ دوسری طرف یہ _کچھ تو سرمایہ دار کے لئے مزدور پیشہ کے نئے طبقات پیدا کرتے ہوئے، اور کچھ مزدور طبقے کو آزاد کرتے ہوئے_ کام کرنے والی زائد آبای کو پروان چڑھاتا ہے، 72؂جو سرمائے کے احکامات کی بجا آوری کے لئے مجبور ہوتی ہے۔ پس جدید صنعت کی تاریخ میں یہ حیران کن مظہر بھی کہ مشینری دیہاڑی کی طوالت پر عائد ہونے والی اخلاقی اور فطری ہر دو قسم کی حد بندیوں کو دور کر دیتی ہے۔ اسی طرح یہ معاشیاتی قولِ محال بھی، کہ وقتِ محن میں تخفیف کرنے کا طاقتور ترین آلہ مزدور اور اُس کے کُنبے کے لئے مختص وقت کے ہر لمحے کو سرمایہ دار کی منشا کے مطابق اُس کے سرمائے کی قدر کو پھیلانے کا کامیاب ترین وسیلہ بن جاتا ہے۔ دورِ قدیم کا عظیم ترین مفکر ارسطو خواہش کرتا ہے:‘‘ اگر ہر اوزار، جب بنایا جاتا ہے یا پھر خود اپنے بل بوتے پر بھی ایسا کام کر سکے جواِس کے شایانِ شان ہو، جیسے Daedalusکی پیدا کی گئی چیزیں خود بخود ہی حرکت کرتی ہیں، یا پھر Hephaestos کی قربان گاہیں اپنے مقدس کام کے لئے خود ہی حرکت میں آ جاتی ہیں، اگر جولاہے کے‘‘ مَکّوخود بخود ہی بُنائی کرنا شروع کر دیں تو پھر استاد کاریگروں کے لئے نہ شاگردوں کی ضرورت رہے اور نہ مالک کے لئے غلاموں کی۔ 73؂اسی طرح سیسرو( Cicero)کے عہد کا ایک یونانی شاعر Antipatrosغلہ کو پیسنے کے لئے پن چک




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

دیہاڑی کی تطویل ان داشلائوں میں استعمال ھے
دمحن کی تشدید