دیہاڑی کی حد بندیاں : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 820
عنوان دیہاڑی کی حد بندیاں
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 229495
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

دیہاڑی کی حد بندیاں کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

دیہاڑی کی حد بندیاں - کی دوسری شاخیں-

دیہاڑی کی حد بندیاں


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ


Chapter. X

دیہاڑی

The Working Day

فصلِ اول:۔ دیہاڑی کی حد بندیاں

Section. 1 The Limits of Working Day.

ترجمہ : امتیاز حسین ، ابن حسن



ہماری بحث کا آغاز اس مفروضے سے ہوا تھا کہ قوتِ محن کی خرید و فروخت اس کی قدرپرہوتی ہے۔ دوسری تمام اشیاء کی قدر کی طرح، اس کی قدر بھی اس کی پیداوار کے لیے درکار لازمی عرصۂ محن ہی کے ذریعے متعین ہوتی ہے۔ اگر ذرائع بقا کی اوسط پیداوار میں مزدور کے روزانہ چھ گھنٹے خرچ آتے ہوں تو اس کو اپنی روزانہ کی قوتِ محن پیدا کر نے کے لیے یا پھر اس سے مساوی قدرکی تخلیقِ نوکے لیے جو اسے اس کی فروخت کے بدلے میں حاصل ہوئی،اس کو چھ گھنٹے کام کرنا ضروری ہو گا۔اس کے محن کا لازمی حصہ 6گھنٹے تک چلا جاتا ہے چنانچہ اگر دوسرے حالات بدستور رہیں تو یہ ایک طے شدہ مقدار ہے۔ لیکن اس کے ساتھ دیہاڑی کی حد متعین نہیں کی گئی۔

فرض کرتے ہیں کہ خط A Bلازمی عرصۂ محن ،فرضاً 6گھنٹے، کی نشان دہی کرتا ہے۔ اگر محن کو A B سے1،3، یا 6گھنٹے تک بڑھا دیا جائے تو ہمارے پاس تین دیگر خط آ جائیں گے:

دیہاڑی 1

A___B_C.

-01-10-00-00-00دیہاڑی 2

A___B__C.

-01-10-00-00-00دیہاڑی 3

A___B___C.

-01-E4-06-00-00یہ خط 7،9،12گھنٹے کی مختلف دیہاڑیوں کو بیان کرتے ہیں۔خط A Bپر بڑھایا گیا خط B Cمحنِ زائد کی طوالت کو بیان کرتا ہے۔جب کہ دیہاڑی A B+B Cیا پھر A Cہے تو یہ B Cکی تغیر پذیر مقدار کی رو سے بدلتی رہتی ہے۔ چونکہ A Bمستقل ہے اس لیے B Cکی A Bکے ساتھ نسبت کسی وقت بھی اخذ کی جا سکتی ہے۔ دیہاڑی1 میں یہ [نسبت] خط A Bکا-03 ہے، دیہاڑی2 میں -03 ، اور دیہاڑی3 میں -03ہے۔ چونکہ نسبت :-03زائد عرصۂ محن تقسیم لازمی عرصۂ محن ہی قدرِ زائد کی شرح کو متعین کرتی ہے اس لیے آخر الذکر کو B Cکی A B سے نسبت سے جانا جاتا ہے۔ یہ تین مختلف دیہاڑیوں میں بالترتیب -03، 50اور 100فی صد تک بن جاتی ہے۔ دوسری طرف صرف قدرِ زائد کی شرح سے ہم دیہاڑی کی طوالت نہیں جان سکتے۔ مثال کے طور پر اگر یہ شرح، 100فی صد، ہو تو دیہاڑی کی طوالت 8،10،12، یا اس سے بھی زیادہ گھنٹے تک ہو سکتی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہو گا کہ دیہاڑی کے دو تشکیلی حصے یعنی لازم اور زائد عرصۂ محن، وسعت میں برابر ہیں ۔ لیکن یہ پتا نہیں چلتا کہ ان دونوں تشکیلی حصوں میں سے ہر ایک کی طوالت کتنی ہے۔

چنانچہ دیہاڑی ایک متغیر مقدار ہے نہ کہ متعین۔ البتہ اس کے حصوں میں سے ایک کا تعین وقت ِ کارسے ہوتا ہے جو خود مزدور کی قوتِ محن کی تخلیقِ نو کے لئے درکار ہے۔لیکن اس کی کُل مقدار محنِ زائد کے دورانیے کی رو سے بدلتی ہے۔ اس لحاظ سے دیہاڑی کی تعیین ممکن تو ہے مگر خواصی یا داخلی اعتبار سے نہیں۔1؂

ہر چند دیہاڑی جامد نہیں بلکہ رواں اور متحرک مقدار ہے، دوسری طرف اس کا بہاؤ مخصوص حدودمیں رہتے ہوئے صرف بدل سکتا ہے۔ البتہ اس کی کم از کم حد کا تعین ممکن نہیں ، یہ ایک الگ بات ہے کہ اضافی خط یا extension line یعنی B Cیا محن زائد کو صفر کے برابر کر دیں تو ہمارے پاس یہ کم از کم حد آ جاتی ہے جو دیہاڑی کا وہ حصہ ہے جس میں مزدور کو خود اپنی بقا کے لیے لازمی طور پر کام کرنا ہوتا ہے۔ پیداوار کے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد پر یہ محنِ لازم دیہاڑی کا محض ایک حصہ ہی تشکیل دے سکتا ہے؛ اور دیہاڑی کو اس کم از کم [حصے] تک گھٹایا نہیں جا سکتا۔ دوسری طرف دیہاڑی کی ایک زیادہ سے زیادہ حد بھی ہے جس کو ایک مخصوص حد سے بڑھایا نہیں جا سکتا۔ یہ زیادہ سے زیادہ حد دو چیزوں سے مشروط ہے ۔ 24گھنٹے کے ایک دن میں ایک انسان اپنی قوتِ حیات کو محض ایک خاص حدتک استعمال کر سکتا ہے۔ جیسے ایک گھوڑا صرف آٹھ گھنٹے روزانہ کام کر سکتا ہے۔ اور ایک دن کے کسی حصے میں اس قوت کو آرام اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے، اور کسی دوسرے حصے میں انسان کو دیگر جسمانی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں، جیسے کھانا پینا ، صفائی ستھرائی ، اور کپڑے پہننا وغیرہ ۔ ان خالصتاً جسمانی پابندیوں کے علاوہ کچھ اخلاقی حد بندیاں بھی دیہاڑی کی طوالت کے آڑے آتی ہیں۔ مزدور کو اپنی ذہنی اور سماجی حاجات کی تسکین کے لیے بھی وقت درکار ہو گاجن کی تعداد اور وسعت کا دارومدار معاشرے کی ترقی کی عمومی حالت پر ہے۔ چنانچہ دیہاڑی کی طوالت کے گھٹنے بڑھنے پر یہ طبعی اور سماجی حد بندیاں اثر انداز ہوتی ہیں۔ لیکن حد بندیوں کے ان دونوں عوامل میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے بڑی لچک پائی جاتی ہے، جس وجہ سے اس میں خاصی وسعت کی گنجائش نکل آتی ہے۔چنانچہ ہمیں 8،10،12، 14،16،18گھنٹوں کی دیہاڑیاں ملتی ہیں جن کی طوالتیں بھی مختلف ہیں۔

سرمایہ دار نے قوتِ محن کو معمول کی قیمت پر خریدا ۔ چنانچہ ایک دن کے لیے اس کی قدرِ صرف پر سرمایہ دار ہی کا حق ہے۔ چنانچہ اُس نے مزدور سے ایک دیہاڑی کے لیے کام کرانے کا حق حاصل کر لیا ہے۔ لیکن یہ دیہاڑی ہوتی کیا ہے؟2؂

دیہاڑی ہر حال میں ایک فطری دن سے چھوٹی ہوتی ہے۔ لیکن کتنی؟ سرمایہ دار اس انتہائی حدکی بابت ، یعنی دیہاڑی کی لازمی حد کے بارے، اپنے ہی نظریات رکھتاہے۔ بطور سرمایہ دار وہ صرف مجسم شدہ سرمایہ ہی ہے۔ اس کی روح سرمائے کی روح ہے۔ لیکن سرمائے کی زندگی کا واحد محرک ہے قدر اور قدرِ زائد پیدا کرنا تاکہ اس کے مستقل عنصر یعنی ذرائع پیداوار کو اس قابل بنایا جا سکے کہ یہ محنِ زائد کی زیادہ سے زیادہ ممکن مقدار کو جذب کر سکے۔3؂

سرمایہ مردہ محن ہے یعنی بد روح کی مانند ، محن کی شکتی کو چوس کر زندہ ہے ، اور اس شکتی کو جس قدر چوسے اسی قدر اس کی زندگی بڑھتی ہے۔ جس وقت کے دوران مزدور کام کرتا ہے وہی وقت ہے جس کے دوران مزدور اس قوتِ محن کو خرچ کرتا ہے جوسرمایہ دارنے اُس سے خرید کی ہوتی ہے۔4؂

اگر مزدور اپنا قابلِ استعمال وقت ا




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

دیہاڑی کی حد بندیاں ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی کی حد بندیاں
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے