سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 802
عنوان سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228470
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات - کی دوسری شاخیں-
حواشی و حوالہ جات 5

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات



روپے کے سرمائے میں بدلنے پر گردش جس بنتر کو اپناتی ہے ، وہ ان تمام اصولوں کے مخالف ہے جس کی تحقیق ہم نے اب تک اشیاء، قدر ،روپے اور حتٰی کہ خود گردش کی اصلیت کو سامنے رکھتے ہوئے کی ہے۔ جو چیز اس بنتر کو اشیاء کی سادہ گردش سے ممیز ہے وہ در اصل ان دو مقابل عوامل یعنی خرید اور فروخت کے بہاؤ کا الٹا انداز ہے۔ ان عوامل کے مابین پائی جانے والی یہ خالصتاً بنتری تخصیص ان کے خاصے کو کیسے بدل لیتی ہے،جیسے یہ ایک جادو کا کمال ہو؟

لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں۔ اس کا یا کلپ کا سودے بازی میں شریک تین افراد میں سے دو کے لئے کوئی وجود نہیں ہوتا۔ سرمایہ دار کی حیثیت سے میں Aسے کچھ اشیاء خریدتا ہوں اور ان کو دوبارہ B کے آگے بیچ دیتا ہوں، لیکن اشیاء کا محض مالک ہوتے ہوئے میں ان کو B کے آگے بیچ دیتا ہوں اور Aسے نئی [اشیاء] خرید لیتا ہوں۔ Aاور B کوسودے بازی کے دونوں معاملات میں کوئی فرق نظر نہیں آیا ۔ وہ یا تو صرف خریدار ہیں یا پھر صرف فروخت کنندگان۔لیکن میں ان کو ہر موقعے پر یا تو صرف روپے کے حامل کے بطور ملتا ہوں یا پھر خریدار اور فروخت کنندہ کے بطور۔اور اس کے علاوہ یہ کہ سودے بازی کے ان دونوں معاملات میں Aکے لئے میری حیثیت صرف خریدار کی ہے اور Bکے لئے صرف فروخت کنندہ کی، یعنی ایک کے لئے صرف روپے کے بطور اور دوسرے کے لئے صرف اشیاء کے بطور۔ دونوں کے لئے بطور سرمایہ یا سرمایہ دار کے نہیں، یا،نہ ہی بطور کسی ایسی چیز کے نمائندے کے جو جو روپے اور اشیا سے کچھ علاوہ ہو سکتی ہے۔ میرے لئے Aسے خریداری اور Bسے فروخت ایک ہی سلسلے کا حصہ ہیں۔ Aکو میرے B کے ساتھ لین دین سے کوئی سرو کار نہیں، نہ ہی B کو میرے A کے ساتھ سودے بازی سے کوئی تعرض ہے ۔ اور اگر میں اس قابل ہو جاؤں کہ ان کے سامنے سودے بازی کے اس شاندار عمل کو پلٹا کر اپنے کام کی اصل نوعیت واضح کر دوں ، تو وہ غالباً مجھ کو یہ نصیحت کریں گے کہ میں سودے بازی کے اس عمل کی ترتیب کے سلسلے میں غلطی پر ہوں، اور یہ بجائے اس کے کہ ساری کی ساری سودے بازی ایک فروخت سے شروع ہو کر خرید پر مکمل ہو رہی ہے، اس کے برعکس فروخت پر شروع ہو کر خرید پر مکمل ہو رہی ہے۔ حقیقت میں میرا پہلا عمل یعنی خرید Aکے نقطۂ نظر سے فروخت تھا، اور میرا دوسرا عمل یعنی فروخت Bکے نقطۂ نظر سے خرید تھا۔بات یہاں تک ہی نہیں رہ جاتی ۔دونوںAاورBیہ کہیں گے کہ یہ سارے کا سارا سلسلہ بے مقصد ہے اور بے معنی سا ہے؛ اور اس وجہ سے مستقبل میں Aبراہِ راست Bسے خریدے گا اور Bبراہِ راست Aکو بیچے گا۔چنانچہ یہ ساری کی ساری سودے بازی تنہا معاملت میں بدلتے ہوئے ایک ہی عمل ہو کر رہ جائے گی۔ چنانچہ یہ اشیاء کی عمومی گردش میں ایک غیر متعلق درجہ ہو کر رہ جائے گا، مطلب یہ کہ Aکے نقطۂ نظر سے محض ایک فروخت اور Bکے نقطۂ نظر سے محض ایک خرید۔اس لئے لین دین کی سمت کا الٹ جانا ہمیں سادہ گردش کے کُرے سے باہر نہیں لے جاتا، چنانچہ ہمیں یہ بات ضرور نظر آتی ہے کہ آیا اس گردش میں کوئی ایسی بات موجود ہے جو گردش میں داخل ہونے والی قدر کو بڑھنے ، مطلب یہ کہ قدرِ زائدکو پھیلنے کی اجازت دیتی ہے ۔

اب ہم گردش کے عمل کی اس بنتر کا جائزہ لیتے ہیں جس میں یہ اپنے آپ کو اشیاء کے سادہ اور بلا واسطہ مبادلے کے بطور پیش کرتی ہے۔یہ معاملہ ہمیشہ اس وقت پیش آئے گا جب اشیاء کے دو مالکان ایک دوسرے سے خریدتے ہیں اور ادائیگیکے دن دونوں سے متعلقہ مقداریں مساوی ہیں اور ایک دوسرے کی برتری ختم کرتی ہیں۔ روپیہ اس سلسلے میں حساب کا روپیہ ہے اور اشیاء کی اقدار کو ان کی قیمتوں کے ذریعے بیان کرنے کا کردار ادا کرتا ہے، مگر بذاتِ خود اصل نقدی کے بطور ان کے سامنے نہیں ہوتا۔جہاں تک قدرِ صرف کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ بات صاف ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک کچھ فائدہ ضرور حاصل کر سکتا ہے۔دونوں ایسے سامان سے الگ ہو جاتے ہیں جو بطور اقدارِ صرف ان کے کسی کام کا نہیں ، اور دوسرے کا سامان حاصل کر لیتے ہیں جس کو وہ استعمال میں لا سکتے ہیں۔اس سلسلے میں ایک اور فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ Aجو شراب بیچ کر غلہ خریدتا ہے ، ممکن ہے کہ اسی عرصۂ محن کو استعمال کرتے ہوئے کسان B کی بہ نسبت زیادہ شراب پیدا کرسکتا ہو ، اور دوسری طرفB ممکن ہے کہ کلال Aکی بہ نسبت زیادہ غلہ پیدا کر سکتا ہو۔ چنانچہ اسی قدرِ مبادلہ سے A اس سے زیادہ غلہ اور B اس سے زیادہ شراب حاصل کر سکے گا ، جو دونوں کو قبل ازیں بغیر کسی مبادلے کے خود اپنی شراب اور اپنا غلہ پیدا کرنے سے حاصل ہوتا تھا۔ چنانچہ قدرِ صرف کے حوالے سے یہ کہنے کے لئے کافی جواز موجود ہے کہ :‘‘ مبادلہ ایک ایسی سودے بازی ہے جس سے فریقین میں سے ہر ایک کچھ حاصل کرتا ہے۔ ’’ 1؂قدرِ مبادلہ کے سلسلے میں صورتِ حال کچھ دوسری ہے۔‘‘ ایک ایسا آدمی جس کے پاس شراب کی بڑی مقدار موجود ہے لیکن غلہ کوئی نہیں تو وہ کسی ایسے آدمی کے ساتھ معاملہ بڑھائے جس کے پاس غلہ تو کافی مقدار میں ہے مگر شراب نہ ہو اور ان کے مابین 50کے برابر قدر کے غلہ اور اسی قدر کی شراب کا مبادلہ عمل میں آئے ۔ اس عمل میں دونوں میں سے کسی شخص کے لئے بھی قدرِ مبادلہ کا اضافہ نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مبادلے سے پہلے ہی دونوں ایک ایسی قدر کے حامل تھے جس کو اس نے اِس معاملت کے ذریعے حاصل کیا۔ ’’ 2؂اب اگر روپے کو اشیاء کے درمیان گردش کے ذریعے کے بطور شامل کیا جائے اور اسی کے ذریعے خرید اور فروخت کا عمل کیا جائے تو اس صورت میں بھی نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔3؂ایک شے کی قدر گردش میں جانے سے قبل ہی اس کی قیمت میں ظاہر ہوجاتی ہے، چنانچہ وہ گردش کی طے شدہ شرط ہوتی ہے نہ کہ اس کا نتیجہ ۔4؂

اگر کچھ چیزوں سے قطع نظر کر کے سوچا جائے ، یعنی ان حالات سے جو فی الوقت اشیاء کی سادہ گردش کے قوانین سے نہیں نکل رہے ، اس صورت میں ایک مبادلے میں کچھ نہیں رہتا،( اگر ہم ایک قدرِ صرف کی جگہ پر دوسری قدرِ صرف لانے سے قطع نظر کر لیں )مگر ایک صوری تبدیلی، مراد یہ کہ اس شے کے بنتر میں نری تبدیلی۔یہی قدرِ اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو


سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے