سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 802
عنوان سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228487
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات - کی دوسری شاخیں-
حواشی و حوالہ جات 5

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

rticle.php?Dflt=مبادلہ&x=0'>مبادلہ یعنی متجسم سماجی محن کی یہی مقدار ہمیشہ شے کے مالک کے ہاتھ میں رہتی ہے، پہلے اس کی خود اپنی شے کی صورت میں ، پھر اس روپے کی صورت میں جس کے ساتھ اس نے اس کا مبادلہ کیا ، اور آخر میں اس شے کی صورت میں جو اس نے وہ رقم خرچ کر کے خریدی ۔ بنتر کی یہ تبدیلی قدر کے حجم کی تبدیلی پر لاگو نہیں آتی۔ لیکن جس تبدیلی سے ایک شے کی قدر اس عمل کے دوران دوچار ہوتی ہے اس شے کی شکلِ روپیہ میں آنے والی تبدیلی تک ہی محدود ہے ۔ یہ بنتر پہلے اس شے کی قیمت کے بطور اپنا وجود ظاہر کرتی ہے جو بیچنے کے لئے پیش ہوئی، پھر روپے کی ایک حقیقی رقم کے بطور جس کو پہلے ہی قیمت میں ظاہر کر دیا گیا تھا، اور آخر میں ایک مساوی القوت شے کی قیمت کے بطور۔ اگر اس کا الگ جائزہ لیا جائے تو بنتر کی یہ تبدیلی قدر کے حجم میں تبدیلی پر اثر انداز نہیں ہوتی جیسا کہ 5پونڈ کے نوٹ کو sovereigns،half sovereigns اور شلنگ میں بدل لینے سے [قدر میں کوئی تبدیلی نہیں] ہوتی ۔اس طرح اشیاء کی گردش صرف ان کی قدر کی شکل میں تبدیلی لاتی ہے اور متاثر کرنے والے عواملسے مبرّا ہے ، تو یہ لازماً مساوی القوت ہی کا مبادلہ ہونا چاہیے ۔ولگر معیشت قدر کے حقیقت کے بارے میں جتنا کم جانتی ہے ، اس کے باوجود جب بھی وہ گردش کے عمل کو اس کی خالص حالت میں دیکھنے کی خواہش ظاہر کرے، تو یہی فرض کرتی ہے کہ رسد اور طلب برابر ہوتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کا اثر قریب قریب صفر ہے۔اب جہاں تک اقدارِ صرف کے مبادلے کا تعلق ہے ، اگر خریدار اور فروخت کنندہ امکانی طور پر کچھ حاصل کر سکیں ، تو اقدارِ مبادلہ کے سلسلے میں ایسا نہیں ہوتا۔یہاں پر ہمیں یہ کہنا چاہیے:‘‘ جہاں پر برابری پائی جائے وہاں کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ ’’5؂ یہ سچ ہے کہ اشیاء ایسی قیمتوں پر بھی فروخت کی جا سکتی ہیں جو ان کی اقدار سے انحراف کر رہی ہوں، لیکن یہ انحرافات اشیاء کے مبادلی قوانین کی خامیاں تصور کئے جائیں گے،6؂ جو اپنی نارمل حالت میں مساوی القوت کا مبادلہ ہی ہے، نتیجتاً قدر کے اضافے کا کوئی طریقہ نہیں۔7؂

پس ہم دیکھتے ہیں کہ اشیاء کی گردش کو قدرِ زائد کے ذریعے کے بطور پیش کرنے کی تمام تر کوششوں کے پسِ پشت ایک بڑی خامی مخفی ہے ، یعنی قدرِ صرف اور قدرِ مبادلہ کو آپس میں خلط ملط کر دیا جاتاہے۔مثال کے طور پر کینڈی لیک Condillacکہتا ہے :‘‘یہ بات صحیح نہیں کہ اشیاء کے مبادلے کے سلسلے میں ہم قدر کے بدلے قدر دیتے ہیں، فریقین میں سے ہر کوئی ہر معاملیمیں بڑی قدر کے عوض کم دیتا ہے ۔... اگر ہم حقیقی طور پر مساوی اقدار کا مبادلہ کریں تو کوئی بھی فریق نفع نہیں حاصل کر سکے گا۔لیکن چونکہ دونوں فریق نفع حاصل کرتے ہیں یا انہیں نفع حاصل کرنا چاہیے ۔ کیوں؟ کسی چیز کی قدر صرف اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا ہماری حاجات کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ جو چیز ایک کے لئے زیادہ مفید ہے دوسرے کے لئے کم، یا پھر اس کا الٹ۔... یہ بات تصور نہیں کی جا سکتی کہ جو چیز خود ہماری ضرورت کی ہو گی ہم اسے فروخت کے لئے پیش کریں گے۔...ہم اپنی ضرورت کی شے کو حاصل کرنے کے لیے اپنی [ملکیتی] شے سے الگ ہو جائیں گے؛ ہم زیادہ کا عوضانہ کم دینا چاہتے ہیں۔...یہ بات سوچنا فطری عمل تھا کہ مبادلے میں قدر کے مقابلے قدر ہی دی جاتی ہے ، جب بھی تبدیل ہونے والی ہر دو چیزیں سونے کی اتنی ہی مقدار کے مساوی قدر کی حامل ہوں۔...لیکن ہمارے اعدادوشمار میں ایک اور قابلِ غور نکتہ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ہم ایک غیر ضروری چیز کا ضروری چیز کے ساتھ مبادلہ کرتے ہیں۔ ’’8؂ہم نے اس اقتباس میں دیکھا کہ کینڈی لیک نے کس طرح سے نہ صرف قدرِ صرف کو قدرِ مبادلہ کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا ، بلکہ انتہائی بچگانہ انداز میں یہ بھی فرض کر لیا کہ ایک ایسا معاشرہ جس میں اشیاء کی پیداوار بڑی ترقی یافتہ ہو وہاں ہر پیداکار اپنے لئے خود ہی اشیائے خوردونوش پیدا کر لیتا ہے، اور اس سے جو کچھ بچ جائے اس کو گردش میں ڈال دیتا ہے۔ 9؂کینڈی لیک کے دلائل جدید معیشت دان ابھی تک اکثر استعمال کرتے ہیں، بالخصوص جب مسئلہ یہ ثابت کرنا ہو کہ اشیاء کا مبادلہ اپنی ترقی یافتہ صورت، یعنی تجارت میں قدرِ زائد پیدا کرنے کااہل ہے۔مثال کے طور پر،‘‘ تجارت...مصنوعات میں قدر کا اضافہ کرتی ہے، کیونکہ وہی اشیاء استعمال کنندگان کے ہاتھوں میں اس سے زیادہ قدر کی حامل ہوتی ہیں جو وہ پیداکاروں ہاتھوں میں رکھتی ہیں، اور اس کوپوری طرح سے پیداور کا عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ ’’10؂لیکن اشیاء کی دو مرتبہ ادائیگی نہیں کی جاتی ،یعنی ایک بار اپنی قدرِ صرف کی رو سے اور پھر اپنی قدر کی رو سے۔ اورچونکہ ایک شے کی قدرِصرف فروخت کنندہ کی بہ نسبت خریدار کے لئے زیادہ مفید ہوتی ہے،اس لئے اس کی شکلِ روپیہ فروخت کنندہ کے لئے زیادہ مفید ہوتی ہے۔وگرنہ کیا وہ اسے بیچے گا؟ ہم یہاں پر صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ خریدار‘‘ قطعی طور پر پیداوار کا عمل’’سر انجام دیتا ہے، مثال کے طور پر جرابوں کو روپے میں بدل کر۔

اگر اشیاء یا پھر وہ اشیاء اور روپیہ جو مساوی قدرِ مبادلہ کے حامل اور نتیجتاً مساوی القوت، کا مبادلہ عمل میں آئے، تو یہ صاف ظاہر ہے کہ کوئی بھی اس سے زیادہ گردش سے نکال نہ سکے گا جتنی اس میں بھیجی گئی۔[چنانچہ]قدرِ زائد کی پیدائش عمل میں نہیں آئے گی۔اور اپنی نارمل بنتر میں اشیاء کی گردش مساوی القوت کے مبادلے کا تقاضا کرتی ہے۔لیکن حقیقی عملی صورت میں یہ عمل اپنی نارمل بنتر کو برقرار نہیں رکھتا۔چنانچہ ہم اب غیر مساوی القوت کا مبا دلہ فرض کرتے ہیں۔

کسی بھی صورت میں اشیاء کی منڈی اشیاء کے مالکان کی وجہ ہی سے متحرک ہوتی ہے۔اور وہ قوت جو یہ افراد ایک دوسرے پر استعمال




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے