سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 802
عنوان سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228484
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات - کی دوسری شاخیں-
حواشی و حوالہ جات 5

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

کرتے ہیں ان کی اشیاء کی قوت کے علاوہ کوئی دوسری قوت نہیں ہوتی۔ان اشیاء کی رنگارنگ مادیت ہی مبادلے کے عمل کا مادی محرک بنتی ہے اور خریدار و فروخت کنندہ کو ایک دوسرے کا محتاج بناتی ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی خود اپنی حاجات کے لئے چیزیں مہیا نہیں کر سکتا، اور ہر ایک کے ہاتھ میں دوسرے کی ضروریات سے متعلقہ چیز تھمی ہوتی ہے۔اُن کی اقدارِ صرف کے اِن امتیازات کے علاوہ اشیاء میں صرف ایک فرق ہی رہ جاتا ہے یعنی ایسا فرق جو ان کی جسمانی بنتر اور اُس بنتر میں پایا جاتا ہے جس میں وہ خرید کے بعد بدلتی ہیں، مطلب یہ کہ اشیاء اور روپے کے درمیان پایا جانے والا فرق۔ اور نتیجتاً اشیاء کے مالکان محض فروخت کنندگان یعنی وہ جو اشیاء کے حامل ہوتے ہیں ،اور خریدار یعنی وہ جو روپے کے حامل ہوتے ہیں۔

پھر یہ فرض کریں کہ کسی غیر معمولی خاصیت کی بدولت فروخت کنندہ اپنی اشیاء کو ان کو قدر سے زیادہ میں بیچنے کے قابل ہو جاتا ہے ، یعنی جو 100کی حامل قدر کو 110میں، اس سلسلے میں قیمت سیدھے سادے انداز میں % 10 کا اضافہ ہوا ہے۔چنانچہ 10کی قدرِ زائد فروخت کنندہ کی جیب میں چلی جاتی ہے۔ لیکن جب وہ بیچ چکتا ہے تو خریدار بن جاتا ہے۔ اب شے کا ایک تیسرا مالک اس کے پاس فروخت کنندہ کی حیثیت سے آتا ہے، جو اسی حیثیت میں اپنی اشیاء %10 زیادہ مہنگی بیچنے کا فائدہ حاصل کرتا ہے۔ہمارا دوست فروخت کنندہ کی حیثیت سے 10صرف اس مقصد کے لئے حاصل کرتا ہے کہ خریدار کی حیثیت سے انہیں دوبارہ کھو دے۔11؂ حتمی نتیجہ یہ رہتا ہے کہ اشیاء کے تمام مالکان ایک دوسرے کو اپنی اشیاء ان کی قدر سے 10فی صد زیادہ میں بیچتے ہیں یہ عمل ہو بہو ایسا ہی ہے جیسے انہوں نے اشیاء کو ان کی اصل قیمت پر بیچا ہے۔قیمتوں کا اس طرح کا عمومی اور برائے نام اضافہ ایسا ہی اثر رکھتا ہے گویا اقدار سونے کے بجائے چاندی کے وزن میں ظاہر کی گئی ہیں۔ اشیاء کی نارمل قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن ان کی اقدار میں حقیقی تعلق بے بدل ہی رہے گا۔

اب ہم اس کی متضاد مثال زیرِ بحث لاتے ہیں، یہ کہ خریدار کو اشیاء کو ان کی قدر سے کم پر خریدنے کا موقع ملتا ہے۔ اس مسئلے میں یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری نہیں ہو گی کہ وہ بھی اپنی باری پر فروخت کنندہ بنے گا۔وہ خریدار بننے سے قبل ہی فروخت کنندہ تھاچنانچہ وہ بیچنے میں پہلے ہی 10% گنوا چکا تھا اس سے پہلے کہ بطور خریدار 10%کا فائدہ حاصل کرتا۔؂12۔ ہر چیز ایسے ہی ہے جیسے کہ پہلے تھی۔

قدرِ زائد کی پیدائش ، اور چنانچہ روپے کی سرمائے میں تبدیلی، نہ اس مفروضے پر بیان کی جا سکتی ہیں کہ اشیاء اپنی قدر سے زیادہ پر فروخت ہوئی ہیں اور نہ ہی اس پر کہ وہ اپنی قدر سے کم پر خریدی گئی ہیں۔13؂

کرنل ٹورنس کے انداز میں غیر متعلقہ مواد متعارف کرانے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا:‘‘ موثر طلب کا انحصار قوت اور ذہنی رجحان پر ہوتا ہے(! )، صارفین کے لحاظ سے ، تاکہ اشیاء کے لئے چاہے فوری یا بالواسطہ بارٹرکے ذریعے ان کی پیداوار کی بہ نسبت زیادہ سرمایہ دیں۔ ’’14؂گردش کے تعلق کی رو سے پیداکنندگان اور صارفین محض خریدار اور فروخت کنندگان کی حیثیت سے ہی آپس میں مل سکتے ہیں۔یہ دعویٰ کرنا کہ پیداکار کی حاصل کی گئی قدرِ زائد اپنی بنیاد اس حقیقت میں مخفی رکھتی ہے کہ صارف اشیاء کو ان کی اصل قدر سے زائد میں خریدتا ہے، دراصل اسی بات کا دوسرا انداز ہے کہ :اشیاء کا حامل فروخت کنندہ کی حیثیت سے زیادہ مہنگا بیچنے کا اہل ہوتاہے۔ فروخت کنندہ نے اپنی اشیاء خود پیدا کی ہوتی ہیں یا پھر ان کے پیدا کار کی نمائندگی کرتا ہے لیکن خریدار نے ان اشیاء کو کسی کم حد تک نہیں پیدا کیا ہوتا جس کی نمائندگی اس کا روپیہ کر رہا ہوتا ہے، یا پھر یہ ان [اشیاء] کے پیداکار کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے درمیان تخصیص یہ ہے کہ ایک خریدتا ہے اور دوسرا بیچتا ہے۔ یہ حقیقت ہمیں ایک قدم بھی آگے نہیں لے جاتی کہ اشیاء کے مالکان پیداکاروں کی حیثیت سے اشیاء کو ان کی قدر سے زیادہ میں بیچتے ہیں اور گاہکوں کی حیثیت سے ان کے لئے زیادہ معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ 15؂

اس غلط نظرئے کے شارحین کہ قدرِ زائد کی بنیاد اشیاء کی قیمتوں کے معمولی اضافے میں ہے یا اس سہولت میں جس کے تحت فروخت کنندہ زیادہ مہنگا بیچ سکتا ہے، ایک ایسے طبقے کے وجود کو فرض کرنا ہو گا جو صرف خریدتا ہے اور بیچتا نہیں، مطلب یہ کہ صرف استعمال کرتا ہے اور پیدا نہیں کرتا۔ایسے طبقے کاوجود ہمارے اس مقام کے تحت ناقابلِ بیان ہے جس تک ہم اب پہنچ سکے ہیں، مطلب یہ کہ سادہ گردش کا مقام۔ لیکن آیئے اب اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ روپیہ جس کے ساتھ اس قسم کا طبقہ مسلسل خریداریاں کر رہا ہے ، مسلسل ان کی جیب میں جاتا رہنا چاہیے، بغیر کسی مبادلے کے ،مفت میں، خواہ طاقت کے ذریعے یا حق کے بطور، خود اشیاء کے مالکان کی اپنی جیبوں سے۔ایسے طبقے کو اشیاء ان کی قیمت سے زیادہ میں بیچنا محض اس پیسے کے ایک حصے کو ان کی جیبوں سے نکالنا ہی ہے جو ماقبل ان کی جیبوں میں جا چکا ہے۔16؂ مشرقی ایشیا کے قصبوں میں اسی انداز میں قدیم روم کو روپے کا خراج دیا جاتا تھا۔ اسی روپے سے اہلِ روم ان سے اشیاء خریدتے ، اور انہیں زیادہ مہنگا خریدتے۔صوبائی لوگ تجارت کے معاملے میں اہلِ روم کو لوٹتے اور اسی انداز میں اپنے فاتحین سے اپنے خراج کا ایک حصہ ہتھیا لیتے۔اس کے باوجود اس تمام کاروبار کانتیجہ یہی نکلتا کہ درحقیقت مفتوحین ہی لٹتے۔ان کا سازوسامان خود انہی کے روپے کے عوض دیا جاتا۔امارت حاصل کرنے یا قدرِ زائد پیدا کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔

ہم اپنے آپ کو مبادلے کی انہی حدود میں رکھتے ہیں جہاں پر فروخت کنندگان خریدار ، اور خریدار فروخت کنندگان بھی ہیں۔ غالباً




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے