سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 802
عنوان سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228486
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات - کی دوسری شاخیں-
حواشی و حوالہ جات 5

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

ہماری الجھن کی اصل وجہ اس بنا پر پیدا ہوئی ہو گی کہ ہم نے عمل کاروں کو افراد کے بجائے جسمانتیںpersonifications تصور کیا۔

Aاتنا چالاک ہو سکتا ہے کہ Bیا Cسے ان کے جواب کے قابل نہ ہوتے ہوئے فائدہ حاـصل کر سکتا ہے۔ Aچالیس پونڈ قدر کی شراب Bکے ہاتھوں بیچ دیتاہے اور اُس سے مبادلے میں 50پونڈ قدر کا غلہ حاصل کرتا ہے۔ Aنے اپنے 40پونڈ کو 50پونڈ میں بدل لیا ہے، اس نے تھوڑے روپوں سے زیادہ روپے بنا لئے ہیں اور اپنی اشیاء کو سرمائے میں بدل لیا ہے۔آئے اس کا جائزہ مزید تفصیل سے لیتے ہیں۔ مبادلے سے قبل ہمارے پاس Aکے ہاتھوں میں 40پونڈ قدر کی شراب تھی، اور Bکے ہاتھوں میں 50پونڈ قدر کا غلہ یعنی کل 90پونڈ مالیت کی قدر۔ مبادلے کے بعد بھی ہمارے پاس وہی 90 پونڈ مالیت ہی کی قدر ہے۔ گردش میں موجود قدر میں ایک رائی کے برابر بھی اضافہ نہیں ہوا۔ یہ محض AاورBکے درمیان تقسیم ہو گئی ہے۔ Bکے لئے قدر کا خسارہ A کے لئے قدرِ زائد ہے۔ جو چیز ایک کے لئے نقصان ہے دوسرے کے لئے نفع ہے۔یہی تبدیلی اس وقت بھی وقوع پذیر ہوتی اگرAمبادلے کی خانہ پرُی کے بغیر ہی Bکے 10پونڈ براہِ راست چوری کر لیتا ہے۔گردش میں موجود اقدار کا مجموعہ واضح طور پر ان کی تقسیم کے سلسلے میں آنے والی کسی بھی قسم کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہو گا، جیسے کسی ملک میں قیمتی دھات کی مقدار اس بات سے نہیں بڑھ سکتی کہ کوئی یہودی ملکہ اینے کے فاردنگ کو ایک اشرفی میں بیچ دے۔کسی بھی ملک کا سرمایہ دار طبقہ مجموعی طور پر خود اپنے ذات سے تو تجاوز نہیں کر سکتا۔17؂

بات کو جتنا چاہے تروڑ مروڑ دیں لیکن حقیقت کبھی نہیں بدلتی ۔ اگر مساوی القوت کا مبادلہ کیا جائے تو نتیجے میں کوئی قدرِ زائد نہیں پیدا ہوتی،18؂ اور اگر غیر مساوی القوت کا مبادلہ کیا جائے تو پھر بھی کوئی قدرِ صرف حاصل نہیں ہو گی۔گردش یا اشیاء کا مبادلہ کوئی قدر پیدا نہیں کرتا۔19؂

سرمائے کے بنتری معیار کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ وجہ صاف ظاہر ہو چکی ہے کہ جس بنتر کے تحت یہ جدید معاشرے کے معاشی نظم و ضبط کی وضاحت کرتا ہے ، ہم نے اس کی معروف ترین ، دوسرے لفظوں میں دقیانوسی بنتروں یعنی تاجروں اور محاجنوں کے سرمائے کو اپنی بحث سے خارج کر دیا۔

چکر M_C_Mیعنی مہنگا بیچنے کی غرض سے خریداری حقیقی تاجرانہ سرمائے میں زیادہ وضاحت کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن حرکت گردش کے کُرے میں اندرونی طور پر ہی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ تاہم اب یہ اکیلی گردش کے لئے ناممکن ہو گا کہ وہ روپے کی سرمائے میں تبدیلی ، اور قدر زائد کی تشکیل کی ذمہ دار ٹھہرے، کیونکہ ایسا معلوم ہو گا کہ تاجر کے سرمائے کا وجود اس وقت تک ممکن نہ ہو گا جب تک مساوی القوت کا مبادلہ ہوتا رہے گا۔20؂ اور وہ اس لئے کہ اِس کی بنیاداس دوہرے فائدے میں ہے جو تاجر اپنے آپ کو فروخت کنندہ پیداکار اور خرید کنندہ پیداکار کے مابین عملی طور پرگھسیڑ کر حاصل کرتا ہے ۔اسی بات کی وضاحت میں فرینکلن کہتا ہے :‘‘جنگ ایک ڈکیتی ہے اور تجارت عام دھوکا دہی ۔ ’’21؂ اگر تاجر کے روپے کی سرمائے میں منتقلی کی وضاحت پیداکاروں کے ساتھ دھوکے بازی سے ہٹ کر کی جائے ، تو درمیان کی کڑیوں کے ایک طویل سلسلے کی وضاحت بھی ضروری ہو گی،جو موجودہ صورتِ حال میں کہ اشیاء کی سادہ گردش ہی ہمارے زیرِ بحث ہے حقیقت میں پہنچ سے باہر ہیں۔

جو ہم تاجرانہ سرمائے کے بارے میں کہہ چکے ہیں مہاجنی سرمائے پر زیادہ موثر طور پر لاگو آتا ہے۔ تاجری سرمائے میں یہ دوانتہائیں یعنی جو روپیہ منڈی میں بھیجا جاتا ہے اور بڑھا ہوا وہ روپیہ جو منڈی سے باہر بھیج دیا جاتا ہے ،خرید اور فروخت کی ذیل میں تو ضرور کوئی تعلق رکھتی ہیں، دوسرے لفظوں میں گردش کی حرکت سے۔مہاجنی سرمائے میں بنترM_C_Mبغیر کسی ذریعے کے محض دو انتہاؤ ں تک کم کر دی جاتی ہے، یعنی M_M، مطلب یہ کہ روپے کا مبادلہ روپے سے، ایک ایسی بنتر جو روپے کی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتی، اور اسی وجہ سے اشیاء کی گردش کے نقطۂ نگاہ سے ناقابلِ بیان ہی رہتی ہے۔پس ارسطو :‘‘ چونکہ مال بنانا chrematisticایک دوہری سائنس ہے جس کا ایک حصہ تجارت سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا معاشیات سے، ان میں سے آخر الذکر ضروری اور قابلِ تحسین ہے اور اوّل الذکر گردش پر منحصر ہے چنانچہ اس کو جائز طور پر رد کیا جاتا ہے(وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ فطرت پر نہیں بلکہ باہمی دھوکا دہی پر مبنی ہوتا ہے )، اسی لئے سود خور سے صحیح طور پر ہی نفرت کی جاتی ہے، کیونکہ خود روپیہ ہی اس کی کمائی کا ذریعہ ہوتاہے، اور اس کو اُس مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا جس کے لیے یہ معرضِ وجود میں آتا ہے۔کیونکہ اس کو اشیاء کے مبادلے کے لئے پیدا کیا جاتاہے ، لیکن سود روپے سے زیادہ روپیہ بناتاہے۔ پس اس کا نام( سود اور اولاد )۔ کیونکہ نومولود انہیں کے مشابہ ہوتے ہیں جو انہیں جنم دیتے ہیں۔ لیکن سود روپے کا روپیہ ہوتاہے ، پس زندگی پیدا کرنے کے تمام طریقوں میں سے فطرت سے سب سے زیادہ متضادیہی ہے۔ ’’22؂

اپنی تحقیق کے دوان ہم دیکھیں گے کہ تاجری اورمہاجنی سرمایہ دو نوں باہمی طور پر استخراجی بنتریں ہیں، اور اسی دوران یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ یہ دونوں بنتریں تاریخ میں سرمائے کی جدید معیاری بنتر سے قبل کیوں نمودار ہوتی ہیں۔

ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ قدرِ زائد گردش کے ذریعے پید انہیں کی جا سکتی ، اور ، چنانچہ یہ کہ اس کی بناوٹ کے لئے کوئی بات پس منظر میں رو پذیر ہونی ضروری ہے جو خود گردش میں واضح نہیں ۔23؂ لیکن کیا قدرِ زائد گردش سے ہٹ کرکسی اور مقام پر پیدا ہو سکتی ہے ، جو[مراد گردش] اشیاء کے مالکان کے ان باہمی جملۂ تعلقات کا کُل ہے جہاں تک کہ یہ ان کی اشیا سے متعین ہوتے ہیں؟ گردش سے ہٹ کر اشیاء کے مالکان کا محض اپنی اشیاء کے ساتھ تعلق ہوتاہے۔ پس جہاں تک قدر کا تعلق ہے تو یہ تعلق صرف اس بات تک ہی محدود ہے کہ اشیاء خود اس کے اپنے محن پر مشتمل ہیں جس کی مقدار ایک خاص سماجی معیار سے جانی جا سکتی ہے۔ یہ مقدار اُس شے کی قدر سے جانی جا سکتی ہے، اب چونکہ قدر گنتی کے روپے کے ذریعے جانی جاتی ہے ، ا




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمائے کے عمومی کلیے کے تضادات
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے