سرمائے کے لئے عمومی کلیہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 800
عنوان سرمائے کے لئے عمومی کلیہ
شاخ روپے کی سرمائے میں تبدیلی
پڑھا گیا 218907
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ کے بنیاد
روپے کی سرمائے میں تبدیلی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ - کی دوسری شاخیں-

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ


شاخ روپے کی سرمائے میں تبدیلی
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ


اشیاء کی گردش سرمائے کا نقطۂ آغاز ہے۔اشیاء کی پیداوار، ان کی گردش ، اور اس گردش کی زیادہ ترقی یافتہ شکل جسے تجارت کہا جاتا ہے ،یہ [عوامل] اس تاریخی بنیاد کی تشکیل کرتے ہیں جس سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔سرمائے کی جدید تاریخ سولہویں صدی میں عالم گیر تجارت اور عالم گیر منڈی سے شروع ہوتی ہے۔


اگر ہم اشیاء کی گردش کی مادی ماہیت یعنی مختلف اقسام کی اقدارِ صرف کے مبادلے سے قطع نظر کر لیں ، اور صرف گردش کے اس عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معاشی ا شکال ہی کو مدِّ نظر رکھیں ، تو ہمیں اس کا آخری نتیجہ روپے کی صورت ہی میں حاصل ہو گا۔ اشیاء کی گردش کا یہ آخری نتیجہہی وہ اولین بنتر ہے جس میں سرمایہ ظاہر ہوتا ہے۔


علمِ تاریخ کی رو سے زمینی ملکیت کے برعکس سرمایہ ، اولاً تو بے بدل انداز میں روپے کی بنتر میں آتا ہے۔ یہ تاجر اور سود خور کے سرمائے کی مانند روپے کی دولت میں ظاہر ہوتا ہے۔لیکن ہمیں یہ جاننے کے لئے سرمائے کی ابتدا کا حوالہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں کہ سرمائے کے اظہار کی اولین صورت روپیہ ہے1؂۔ ہم خود اپنی آنکھوں سے روزانہ اس کامشاہدہ کر سکتے ہیں۔ہر نیا سرمایہ شروع میں، چاہے یہ اشیاء کی شکل میں ہو ، یا محن کی شکل میں ، یا روپے کی شکل میں اسٹیج پر نمودار ہوتا ہے ، یعنی منڈی میں آتا ہے۔ اب ، حتٰی کہ خود ہمارے اپنے وقت میں اُس روپے کی شکل میں جس کو ایک خاص عمل کے ذریعے سرمائے میں تبدیل ہونا ہوتا ہے۔


روپے اور سرمائے کے روپے میں پایا جانے والا اولین امتیاز، سوائے ان کی گردش کے انداز میں فرق کے اور کچھ نہیں ۔


اشیاء کی گردش کی سادہ ترین شکل C_M_C ،ہی ہے، یعنی اشیاء کی روپے میں تبدیلی، اورروپے کی اشیاء میں دوبارہ تبدیلی۔ دوسرے لفظوں میں خریدنے کے مقصد کے تحت فروخت۔لیکن اس شکل کے ساتھ ساتھ ہمیں خواصی طور پر ایک مختلف شکل،M_C_M، بھی حاصل ہوتی ہے، یعنی روپے کا اشیاء میں تبدیلی اور اشیاء کی دوبارہ روپے میں تبدیلی، یا فروخت کی غرض سے خرید۔آخرالذکر انداز میں گردش کرنے والا روپیہ جس چیز میں تبدیلہوتا ہے،سرمایہ بن جاتاہے، اور پہلیہی اپنی اہلیت میں سرمایہ ہے۔


اب ہم چکر ،M_C_M ، کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ یہ بھی دوسرے [چکر] کی مانند دومتضادمراحل پر مشتمل ہے۔پہلے مرحلے،M_C ، یا خرید میں روپیہ ایک شے میں بدلتا ہے۔ دوسرے مرحلے ،C_M، یا فروخت میں شے دوبارہ واپس روپے میں بدل جاتی ہے۔ ان دونوں مراحل کا ملاپ اس مجتمع حرکت کو تشکیل دیتا ہے جس میں روپیہ ایک شے سے بدلا جاتا ہے، اور یہی شے ایک بار پھر روپے سے بدلی جاتی ہے۔اس انداز میں شے کو فروخت کی غرض سے ، یا خرید اور فروخت کی بنتری تخصیص کو تج کر ، یعنی جس طرح ایک شے روپے کے عوض حاصل کی جاتی ہے اور پھر روپیہ شے کے عوض حاصل جاتا ہے2؂۔ جب ایسا نتیجہ برآمد ہو کہ جس کے تحت عمل کے مراحل غائب ہو جائیں، تو یہ روپے کا روپے سے مبادلہ ہو گا،یعنی M_M۔اگر میں روئی کی 2,000 گانٹھیں 100پونڈ کے عوض خریدوں اور روئی کی ان 2,000 گانٹھوں کو 110 پونڈ کے عوض بیچ دوں ، تو درحقیقت میں نے 100 پونڈ کا 110پونڈ سے، یعنی روپوں کا روپوں سے مبادلہ کیا ہے۔


اب یہ بات واضح ہے کہ چکرM_C_M مضحکہ خیز اور بے معنی ہو گا اگر اس کا مقصد دو برابر رقوم ، 100پونڈسے 100پونڈ کا مبادلہ ہے۔کنجوس کی منصوبہ بندی اس سے زیادہ آسان اور حتمی ہے۔ وہ اپنے100پونڈ گردش میں بھیجنے کا خطرہ مول لینے کے بجائے ،ان کے ساتھ چمٹ کر رہ جائے گا ۔اور اگرچہ وہ تاجر جس نے اپنی روئی کے بدلے میں 100پونڈ ادا کئے ہیں ، چاہے اس کو 110پونڈ کے عوض فروخت کرے ،یا اس کو 100 پونڈ کے عوض ہی جانے دے ، حتیٰ کہ 50 پونڈ کے عوض بھی ، اس کا روپیہ ایک مخصوص اورحقیقی حرکت سے دوچار ہوا ہے۔ یہ اُس تبدیلی سے اپنی نوعیت میں یکسر مختلف ہے جس سے یہ اس کسان کے ہاتھوں میں گزرتی ہے جو مکئی فروخت کرتا ہے، اور اس طرح جو روپیہ باہر آتا ہے اس سے وہ کپڑا خریدتا ہے۔ چنانچہ پہلے ہمیں چکر M_C_M اور C_M_C کی بنتروں کے خصائص کا مشاہد کرنا ہے۔ جس کے دوران وہ اصلی فرق آشکار ہو گا جو کہ محض بنتر کے فرق کے پسِ پشت مخفی ہے۔


اب پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں بنتریں کیا [خصائص ] مشترک رکھتی ہیں۔


دونوں چکر ایک طرح کے دو متضادمراحل، C_M یعنی ایک فروخت، اور M_C یعنی ایک خرید ،[کی صورت] میں علیحدہ کئے جا سکتے ہیں۔ ان مراحل میں سے ہر ایک میں وہی مادی عناصر _ ایک شے اور روپیہ ، اور وہی معاشیاتی افراد، ایک خریدار اور ایک فروخت کنندہ ایک دوسرے کے مقابل آتے ہیں۔ہر چکر ایک ہی طرح کے دومتضاد مراحل کی وحدت ہیں، اور ہر صورت میں اس وحدت میں تین فریقوں کی باہمی عملداری پائی جاتی ہے ، ان میں سے ایک فروخت کنندہ ، دوسری خریدار جبکہ تیسرافروخت بھی کرتا ہے اور خریدتابھی ہے۔


تاہم جو عنصر چکر C_M_C کو چکر M M_C_سے بنیادی طور پر ممیز کرتا ہے ، وہ درحقیقت ان دونوں کے مراحل کاالٹ سمت میں بہاؤ ہے۔اشیاء کی سادہ گردش خرید سے شروع ہوتی ہے اور فروخت پر انجام پذیر ہوتی ہے، جبکہ روپے کی سرمائے کے بطور گردش ایک خرید سے شروع ہوتی ہے او ر فروخت پر ختم ہوتی ہے۔پہلی صورت میں نقطۂ آغاز اور انجام اشیاء ہی ہوتے ہیں، جبکہ دوسری صورت میں روپیہ۔پہلی صورت میں یہ حرکت روپے کی بنا پر وقوع پذیر ہوتی ہے، جب کہ دوسری صورت میں شے کی بنا پر۔


چکر C_M_C میں روپیہ آخر پر ایک شے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو قدرِ صرف کا کام دیتی ہے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خرچ ہو جاتی ہے۔اس سے اُلٹ صورت ، M_C_M میں اس سے برعکس ، خریدار اس مقصد کے لئے روپیہ باہر لاتا ہے کہ بحیثیت فروخت کنندہ وہ روپیہ دوبارہ حاصل کر لے۔اپنی شے خریدتے ہوئے وہ روپیہ گردش میں کھپا دیتا ہے ، وہ اس لئے کہ اسی شے کو فروخت کر کے اس [روپے] کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔ وہ اس چالاکی بھرے ارادے کی بنا پر روپے کو اپنے ہاتھ سے جانے دیتا ہے کہ اسے دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔ چنانچہ روپیہ خرچ نہیں ہوتا ، بلکہ محض [گردش میں ]بڑھا دیا جاتا ہے3؂۔


چکر C_M_Cمیں وہی روپیہ دو مرتبہ اپنی جگہ بدلتا ہے۔ فروخت کنندہ اس کو خریدار سے حاصل کرتا ہے اور ایک اور فروخت کنند




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمائے کے لئے عمومی کلیہ
روپے کی سرمائے میں تبدیلی - موضوع کے دوسرے داخلے