سرمائے کے لئے عمومی کلیہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 800
عنوان سرمائے کے لئے عمومی کلیہ
شاخ روپے کی سرمائے میں تبدیلی
پڑھا گیا 218934
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ کے بنیاد
روپے کی سرمائے میں تبدیلی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ - کی دوسری شاخیں-

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ


شاخ روپے کی سرمائے میں تبدیلی
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

ہ کے حوالے کر دیتا ہے۔ وہ مکمل گردش جو وصولی سے شروع ہوتی ہے ، اشیاء کے لئے روپے کی ادائیگیوں پر اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔ یہ عمل چکر M_C_M سے قطعی طور پر برعکسہے ۔ اس عمل میں یہ روپیہ نہیں جو دو مرتبہ اپنی جگہ بدلتا ہے، بلکہ شے اپنی جگہ بدلتی ہے۔ خریدار اس کو فروخت کنندہ کے ہاتھوں سے حاصل کرتا ہے اور ایک دوسرے خریدار کے حوالے کر دیتا ہے۔جیسے اشیاء کی سادہ گردش میں ایک ہی روپے کا دو دفعہ جگہ بدلنا [شے کے ] ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ جانے کو موثر کرتا ہے ، بالکل اسی طرح ایک ہی شے کی جگہ کی دوہری تبدیلی روپے کی پھر سے اپنی ابتدائی جگہ پر آنے کا باعث بنتی ہے۔


اس قسم کی واپسی اس بات پر نہیں منحصر ہوتی کہ شے اس قیمت سے زیادہ پر فروخت کی گئی ہے جس میں خریدی گئی تھی۔یہ صورتِ حال صرف روپے کی اس مقدار پر اثر انداز ہوتی ہے جو واپس آتی ہے۔یہ واپسی خود بخود اس وقت رونما ہوتی ہے، جونہی خریدی گئی شے دوبارہ فروخت کر دی جائے، دوسرے لفظوں میں، جونہی چکرM_C_M مکمل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس طرح روپے کی سرمائے کے بطور گردش ،اور اس کی محض روپے کے بطور گردش میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔


وہ روپیہ جو ایک شے کی فروخت کے ذریعے سے [گردش میں] آتا ہے، دوسری شے کی خرید کے ذر یعے جونہی دوبارہ باہر ہو جائے چکرM_C_M مکمل طور پر اختتام پذیر ہو جاتا ہے ۔


تاہم ، اگر اس کے باوجودروپے کی اپنے نقطۂ آغاز کی جانب واپسی رونما ہوتی ہے ، جو صرف اس عمل کی تجدید یا تکرار کی صورت ہی میں ممکن ہے۔اگر میں چار کلوغلہ 3پونڈ میں بیچوں اور اس 3پونڈ کے عوض کپڑے خرید لوں تو وہ روپیہ میرے لحاظ سے استعمال میں آ گیا اور ختم ہو گیا۔ اب یہ کپڑے والے کی ملکیت ہے۔اگر اب میں مزید چار کلو غلہ بیچوں تو روپیہ اصل میں میرے پاس واپس آ جائے گا ، تاہم یہ پہلی سودے بازی کا نتیجہ نہ ہو گا، بلکہ اس عمل کے تکرار کا۔جونہی میں ایک نئی خریداری کے ذریعے دوسری سودے بازی کروں گا تو روپیہ دوبارہ مجھ سے جاتا رہے گا۔چنانچہ چکر C_M_Cمیں روپے کے خرچ ہونے کا اپنی واپسی کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ۔ دوسری طرف M_C_Mمیں روپے کی واپسی اس کے اصراف کی نوعیت سے مشروط ہے۔اس واپسی کے بغیر عمل ناکام رہتا ہے، یا پھر عمل رک جاتا ہے اور نا مکمل رہ جاتاہے، اور اس کی وجہ اس کے تکمیلی اور آخری مرحلے یعنی فروخت کی عدم موجودگی ہے۔


چکرC_M_Cایک شے سے شروع ہوتا ہے اور ایک دوسری شے پر مکمل ہو جاتا ہے، اور یہ شے گردش سے باہر ہو کر استعمال میں آ جاتی ہے۔استعمال یعنی حاجات کی تسکین ہی ،جسے ایک لفظ میں قدرِ صرف بھی کہا جا سکتا ہے ،اس کا انجام اور مقصود ہے۔اس سے برعکس چکرM_C_M روپے سے شروع ہوتا ہے اور روپے ہی پر ختم ہوتا ہے۔اس کا اہم مدعا اور منزل جو اس کے لئے کشش رکھتا ہے، محض قدرِ مبادلہ ہی ہے۔


اشیاء کی سادہ گردش میں چکر کی دو متضاد انتہائیں ایک ہی معاشی بنتر کی حامل ہیں۔وہ دونوں اشیاء ہیں اور وہ بھی مساوی قدر کی حامل ۔مگر وہ اقدارِ صرف بھی ہیں جو خواص کی رو سے مختلف ہیں جیسے ،غلہ اور کپڑے۔ ان مختلف قسم کے مادوں کی مصنوعات کا مبادلہ جن میں معاشرے کا محن لگا ہوتاہے اس حرکت کی بنیاد بنتا ہے۔گردشM_C_Mمیں صورتِ حال اس سے برعکس ہے، جو تکرار کے باعث بادی النظر میں بے مقصد دکھائی دیتی ہے۔دونوں متضاد انتہائیں ایک ہی معاشی بنتر کی حامل ہیں۔دونوں روپیہ ہیں اس وجہ سے خواصی طور پر مختلف اقدارِ صرف نہیں ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ روپیہ خود بھی اشیاء کی وہ تبدیل شدہ بنتر ہے جس کے اندر ان کی مخصوص اقدارِ صرف غائب ہوتی ہیں۔100 پونڈ کا مبادلہ روئی سے کرنا اور پھر اس روئی کا مبادلہ ایک بار پھر 100پونڈ سے کرنا ،پھرپھرا کر روپے کا روپے سے مبادلے ہی کا ایک انداز ہے، یعنی ایک جیسے کا ایک جیسے سے مبادلہ، یہ عمل اتنا ہی احمقانہ معلوم پڑتا ہے جتنا کہ بے مقصد4؂۔روپے کی ایک رقم صرف اپنی مقدار کی رو سے ہی کسی دوسری رقم سے ممیز کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ چکر M_C_M کا خاصہ اور [بہاؤ کا]رجحان اس کی انتہاؤں کے مابین، دونوں کے روپیہ ہونے کی حیثیت سے، خواصی فرق کی بنا پر نہیں بلکہ صرف ان کے مقداری فرق کی وجہ سے ہوتاہے۔اختتام پر اس سے زیادہ روپیہ گردش سے نکال لیا جاتا ہے جتنا آغاز کے وقت اس میں داخل کیا گیا تھا۔جو روئی 100پونڈ میں خریدی گئی تھی غالباً 100پونڈ +10پونڈ ، یا 110پونڈ میں دوبارہ بیچی گئی ۔اس عمل کی صحیح ترین صورت M_C_M ہو گی ، جبکہ


M =M+^M، یعنی گردش میں لائی جانے والی بنیادی رقم جمع ایک اضافہ۔بنیادی رقم پر اس اضافے کو میں‘‘ قدرِ زائد’’کا نام دیتا ہوں۔ بنیادی طور پر شامل کی جانے والی رقم گردش کے دوران نہ صرف سالم رہتی ہے بلکہ اپنے ساتھ ایک قدرِ زائد شامل کر لیتی ہے ، یا خود کو بڑھا لیتی ہے۔ یہی وہ حرکت ہے جو اس کو سرمائے میں بدلتی ہے۔


یہ بھی یقینا ممکن ہے کہ C_M_C میں دو انتہائیں C_C جیسے غلہ اور کپڑے قدر کی مختلف مقداروں کو بھی بیان کر سکتی ہیں۔وہ سکتا ہے کہ کسان اپنا غلہ قدر سے زیادہ میں فروخت کر ے، یا کپڑوں کو ان کی قدر سے کم میں خریدے۔ دوسری طرف وہ کپڑے کے دکان دار سے ٹھگا بھی جا سکتا ہے۔ تاہم گردش کی زیرِبحث شکل میں قدر کے اس قسم کے امتیازات خالصتاً اتفاقی ہیں۔یہ حقیقت کہ غلہ اور کپڑے مساوی القوت ہیں اس عمل کو اس کی کل معنویت سے محروم نہیں کر دیتا، جیسا کہ عمل M_C_Mمیں ہوتا ہے۔ان کی اقدار کا مساوی القوت اس کے نارمل بہاؤ کے لئے بجائے خود ایک لازمی شرط ہے۔


فروخت کی غرض سے خریدکے عمل کا تکرار یا تجدید خود اس مقصد سے محدود ہو کر رہ جاتا ہے جس پر اس کا دارو مدار ہوتا ہے، جسے ہم کھپت یا مخصوص حاجات کی تسکین کہتے ہیں۔ یہ ایسا مقصد ہے جوگردش کے دائرے سے باہر کا ہے۔لیکن اس کے بر عکس جب ہم بیچنے کی غرض سے خریدتے ہیں، ہم اسی ایک چیزسے شروع اور اسی پر اختتام کرتے ہیں، یعنی ،روپے، قدرِ مبادلہ سے ؛ اسی لئے یہ حرکت کہیں بھی ختم نہیں ہوتی۔ یقینا M اپنے آپ کو M ^ +Mمیں بدل لیتا ہے ، یعنی 100پونڈ 110 پونڈ بن جاتے ہیں۔لیکن اگر انہیں صرف خواصی اعتبار سے دیکھا جائے 100پونڈ اور110پونڈ دونوں ایک ہی ہیں، یعنی روپے۔ اب اگر انہیں مقدار کی رو سے دیکھا جائے 110پونڈ بھی 100پونڈکی مانند ایک مخصوص رقم اور محدود قدر ہے۔اب اگر 110پونڈ کو روپے کے بطور استعمال کر لیا جائے تو وہ اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہو جائیں گے۔وہ اب سرمایہ نہیں رہے۔ گردش سے نکال




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمائے کے لئے عمومی کلیہ
روپے کی سرمائے میں تبدیلی - موضوع کے دوسرے داخلے