سرمائے کے لئے عمومی کلیہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 800
عنوان سرمائے کے لئے عمومی کلیہ
شاخ روپے کی سرمائے میں تبدیلی
پڑھا گیا 218933
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ کے بنیاد
روپے کی سرمائے میں تبدیلی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ - کی دوسری شاخیں-

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ


شاخ روپے کی سرمائے میں تبدیلی
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

لئے جانے پر وہ ایک ذخیرے کی شکل میں جامد ہو جاتے ہیں۔ اس حالت میں چاہے وہ روزِ محشر تک رہیں ان میں رائی برابر بھی اضافہ نہیں ہو گا۔پھر اگر مقصد قدر میں اضافہ ہو تو 110پونڈ کی قدر بڑھانے میں میں بھی وہی تحریک ہے جو 100پونڈ کی قدر بڑھانے میں پائی جاتی ہے؛ وجہ اس کی یہ ہے کہ دونوں قدرِ مبادلہ کے لئے محدود اظہارات ہیں، چنانچہ دونوں میں ایک ہی طاقت ہے کہ مقداری طور پر بڑھتے ہوئے مطلق دولت کے قریب تر پہنچ جائیں۔دراصل تھوڑے وقت کے لئے شروع میں لگائی گئی 100پونڈ کی رقم 10پونڈ کی قدر زائد سے ممیز کی جا سکتی ہے جو گردش کے دوران اس میں شامل ہوتی ہے۔لیکن یہ امتیاز فوراً ہی غائب ہو جاتا ہے۔عمل کے اختتام پر ہمارے ایک ہاتھ میں محض بنیادی رقم 100پونڈ اور دوسرے ہاتھ میں 10پونڈ کی قدرِ زائد ہی نہیں آتی ۔ہمیں سیدھے سادے انداز میں 110پونڈ کی قدر حاصل ہو جاتی ہے جواپنی موزونیت میں ٹھیک ٹھیک وہی صورت حال ہے جتنی بنیادی رقم 100پونڈکی تھی تاکہ[رقم] کو بڑھاوا مل سکے ۔ روپیہ حرکت صرف اس لئے روکتا ہے کہ اس کو نئے سرے سے جاری کر سکے5؂۔لہٰذاہر علیحدہ سرکٹ کا آخری نتیجہ جس میں ایک خریداور اس کے نتیجے میں فروخت مکمل ہوتی ہیں، اپنے آپ سے ایک نئے سرکٹ کے نقطۂ آغاز کو جنم دیتا ہے۔اشیاء کی سادہ گردش _ خریدنے کے لئے بیچنا _ دراصل ایک ایسے مقصد کو سر انجام دینے کا ذریعہ ہے جو گردش سے منقطع ہے، یعنی اقدار صرف کا حصول،یا حاجات کی تسکین ۔ اس کے برعکس، سرمائے کی حیثیت سے روپے کی گردش اپنے تئیں ایک اختتام ہے، کیونکہ قدر میں بڑھاوامحض اس مسلسل طور پر بار بار ہونے والی حرکت کے ساتھ ہی رونما ہو ہو سکتا ہے۔چنانچہ سرمائے کی گردش کی کوئی حد نہیں 6؂۔


جیسے اس حرکت کو شعوری طور پر جاری رکھنے والا یعنی روپے کا حامل سرمایہ دار بن جاتا ہے۔اس کی ذات بلکہ اس کی جیب ہی ایسا مقام ہے جہاں سے روپیہ روانہ بھی ہوتا ہے اور پلٹتا بھی ہے۔ قدر کا پھیلاؤ، جوگردشM_C_Mکی معروضی بنیاد یا مآخذ ہے، اس کا دلی مقصد بن جاتا ہے ، صرف اس وجہ سے کہ تجریدی دولت کا زیادہ سے زیادہ حصول ہی اس کے کردار کا واحد تحرک ہے وہ بطور سرمایہ دار کام کرتا ہے ، یعنی سرمائے کی تجسیم کے جس میں شعور اور قوتِ ارادی شامل ہو چکے ہیں۔اقدارصرف کو سرمایہ دارکا اصل مقصد ہر گز نہیں سمجھا جا سکتا،7؂ اور نہ ہی کسی ایک سودے بازی پر حاصل ہونے والے نفع کو۔نفع کمانے کا ایک لا متناہی اور انتھک سلسلہ ہی اس کا واحد نصب العین ہے8؂۔دولت کا یہ لا محدود لالچ ، قدرِ مبادلہ کے حصول کا یہ ہذیانی تعاقب 9؂ہی سرمایہ دار اور کنجوس کی قدر مشترک ہے۔ لیکن جس طرح کنجوس ایسا سرمایہ دار ہے جس کا دماغ پھر گیا ہے ، اسی طرح سرمایہ دار ایک بادماغ کنجوس ہے۔قدرِمبادلہ [کی مقدار]کو برابر بڑھاتے رہنا جس کے پیچھے ایک کنجوس اپنی رقم کو گردش میں لائے بغیر بھاگتا ہے،10؂ ایک گھاگھ سرمایہ دار اپنے روپے کو مسلسل گردش میں لاتے ہوئے حاصل کرتا ہے11؂۔


وہ آزاد بنتر مراد شکلِ روپیہ ، جسے اشیاء کی قدر سادہ گردش میں اختیار کرتی ہیں، صرف ایک کام سر انجام دیتا ہے، یعنی ان کا مبادلہ، اوریہ حرکت کے آخری نتیجے میں آکر غائب ہو جاتا ہے۔دوسری طرف گردشM_C_M میں روپیہ اور شے ہر دو خود قدر کے وجود کی مختلف وضعوں ہی کو بیان کرتے ہیں، روپیہ اس کی عمومی وضع کو اور شے جزئیاتی وضع کو، بہ الفاظِ دیگر مخفی انداز کو12 ؂۔یہ خرچ ہوئے بغیر ہی تسلسل کے ساتھ ایک بنتر سے دوسری بنتر میں بدلتا رہتا ہے، اس طرح سے ایک خود کار متحرک خاصہ پا لیتا ہے۔ اب اگر ہم ان دونوں مختلف بنتروں کا باری باری جائزہ لیں جن کو اپنے آپ میں بڑھتی ہوئی قدر اپنی زندگی کے دوران وقتاً فوقتاً اختیار کرتی رہتی ہے تواس صورت میں ہم درج ذیل دو مفروضات اخذ کریں گے: [اولاً ]سرمایہ روپیہ ہے،اور[ ثانیاً]سرمایہ اشیاء ہیں13؂۔تا ہم حقیقت میں قدر ایک ایسی مہیج کامتحرک عنصر ہے جس میں یہ روپے اور اشیاء کی بنتر کو باری باری ایک تسلسل میں اختیار کرتے ہوئے، بیک وقت اپنا حجم میں بھی بدلتی ہے اور قدرِ زائد کو الگ کرتے ہوئے اپنے آپ کو ممیز بھی رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بنیادی قدر خود بخودپھیل جاتی ہے۔ وہ حرکت دراصل اس کی اپنی ہوتی ہے جس کے دوران یہ قدرِ زائد کا اضافہ کرتی ہے خود اس کا پھیلاؤ ہے،چنانچہ اس کا پھیلاؤ خود کا ر پھیلاؤ ہی کہلائے گا۔ اب چونکہ یہ خود قدر ہے اس لئے اپنے آپ میں قدر کا اضافہ کرنے کی صلاحیت بھی مخفی رکھتی ہے۔یہ ایک زندہ نسل کو جنم دیتی ہے ، یا پھر سونے کے انڈے ضرور دیتی ہے۔


چنانچہ قدر اس قسم کے عمل کا ایک فعال عنصر ہونے کی حیثیت سے ایک وقت میں روپے اور دوسرے وقت میں اشیاء کی بنتر اختیار کرتے ہوئے ، لیکن ان تمام تبدیلیوں کے دوران میں اپنے آپ کو برقرار رکھتے ہوئے اور بڑھتے ہوئے ، یہ ایک آزاد بنتر حاصل کر لیتی ہے جس کے تحت کسی وقت بھی اس کی شناخت قائم ہو سکتی ہے۔ اور صرف روپے ہی کی شکل میں وہ اس بنتر کی حامل ہو سکتی ہے۔یہ روپے کی بنتر میں ہی ممکن ہے کہ قدر کا آغازہو اور یہ انجام پذیر ہو، اور یہ از سرِنو شروع بھی ہو۔یہ 100پونڈ سے آغاز کرتی ہے، اور اب یہ 110پونڈ ہو چکے ہیں ، یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے۔لیکن روپیہ بذاتِ خود قدر کی دو بنتروں میں سے ایک ہے۔ جب تک یہ کسی شے کی بنتر میں نہیں آجاتا، یہ سرمائے میں نہیں بدلتا۔یہاں پر روپے اور اشیاء میں ایسی کوئی مخاصمت نہیں جو جمع وستکے سلسلے میں تھا۔سرمایہ دار خوب جانتا ہے کہ اشیاء، خواہ کتنی ہی بھدی کیوں نہ نظر آئیں یا کیسی ہی بدبو ان سے خارج ہوتی ہو،یقین ایمان کے ساتھ روپیہ ہی ہیں۔جیسے اندرونی طور پر ختنہ شدہ یہودی ، اور اس سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ایسا حیران کن ذریعہجس سے وہ روپے سے اور زیادہ روپیہ حاصل کر لیتا ہے۔


سادہ گردش ،C_M_C ،میں اشیاء کی قدر ایک ایسی چیز کی اختیار کی گئی بنتر ہے جو ان کی اقدارِ صرف سے آزاد ہے یعنی روپے کی بنتر۔ لیکن اب گردش، M_C_M ، میں یا سرمائے کی گردش میں اچانک اپنے آپ کو ایک آزاد ماہیت کے بطور ظاہر کرتی ہے،جسے خود اس کی اپنی حرکت ہی ودیعت کی گئی ہے، اور جو خود اپنے ہی عملِ حیات سے دوچار ہے ج




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

سرمائے کے لئے عمومی کلیہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمائے کے لئے عمومی کلیہ
روپے کی سرمائے میں تبدیلی - موضوع کے دوسرے داخلے