سینئر کا آخری گھنٹہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 816
عنوان سینئر کا آخری گھنٹہ
شاخ قدرِ زائد کی شرح
پڑھا گیا 224033
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

سینئر کا آخری گھنٹہ کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

سینئر کا آخری گھنٹہ - کی دوسری شاخیں-

سینئر کا آخری گھنٹہ


شاخ قدرِ زائد کی شرح
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

فصلِ سوم:۔ سینئر کا آخری گھنٹہ



یہ سال 1836کے ایک خوشگوار دن کی بات ہے کہ نساؤ- ڈبلیو- سینئر( Nassau W. Senior )جس کو انگریز معیشت دانوں کامسخرہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اورجو اپنی معاشی سائنس اور اپنے خوب صورت انداز دونوں کے لیے شہرت رکھتا تھا ، اس کو آکسفورڈ سے مانچسٹر میں مدعو کیا گیا تا کہ وہ مانچسٹر میں سیاسی معیشت کاعلم حاصل کر سکے جس کی تعلیم وہ آکسفورڈمیں دیتا تھا۔کارخانہ داروں نے اس کو نہ صرف نئے منظور ہونے والے فیکٹری ایکٹ کے خلاف بلکہ اس سے بھی زیادہ پریشان کن دس گھنٹے کی [مزدور] تحریک کے خلاف اپنا چمپیئن( champion)منتخب کر لیا ۔ کارخانہ دار اپنی روز مرہ کی عملی ہوشیاری سے یہ بات جان گئے کہ فاضل پروفیسر کو ابھی تراش خراش کی ضرورت ہے۔یہ بات جان کر انہوں نے پروفیسر کے لئے لکھا۔ پروفیسر نے اپنے تئیں مانچسٹر کے کارخانہ داروں سے حاصل کردہ لیکچر کوفیکٹری ایکٹ پر خطوط ،اس کے کپاس کے کارخانہ داروں پر اثرات کی بابت۔ Letters on the Factory Act, as it affects the Cotton Manufacture.کے عنوان سے ایک جریدے کی شکل دے دی(یہ 1837کو لندن میں چھپا )۔اس میں اور باتوں کے علاوہ درج ذیل بصیرت افروز پیرا بھی موجود ہے: موجودہ قانون کی رو سے ایسی کوئی بھی مِل جس میں 18سال سے کم عمر افراد بھرتی ہیں ،...وہاں پر -03گھنٹے سے زیادہ کام نہیں ہو سکتا۔ مطلب یہ کہ ہفتے کے باقی پانچ دن میں 12گھنٹے روزانہ اور ہفتہ کے روز 9گھنٹے۔

اب ذیل کے تجزیے( ! )سے پتا چلے گا کہ جومِل اس قاعدے پر چلے اس میں اصل نفع آخری گھنٹے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ میں فرض کرتا ہوں کہ ایک کارخانہ دار100,000پونڈ کی رقم کی سرمایہ کاری کرتا ہے، جس میں سے 80,000پونڈ مشینری اور مِل پر خرچ آئے ہیں اور 20,000پونڈ خام مال اور مزدوری پر۔ فرض کریں کہ سرمایہ سال میں ایک بار واپسی آتا ہے اور غیر حتمی نفع 15% رہتا ہے تو اس مِل کی سالانہ آمدن 115,000پونڈ قدر کی حامل چیزوں کے مساوی ہو گی...۔کام کے ہر تیئس آدھے گھنٹوں میں ہر حصہ ان 115,000پونڈ میں سے پانچ کا115واں یا ایک کا تیئسواں پیدا کرتاہے۔ ان تیئس تیئسووں میں سے بیس ، یا یوں کہہ لیں کہ 115,000 پونڈمیں سے 100,000پونڈسرمائے کی جگہ پر آ جاتے ہیں۔ ایک سو تیئسواں( یا 115,000پونڈ میں سے 5,000پونڈ )مِل اور مشینری کی ٹوٹ پھوٹ کا ازالہ کرتے ہیں۔ باقی ماندہ 2 کا تیئسواں ، یعنی ہر دہاڑی کے تیئس میں سے آخری دو آدھے گھنٹے 10% حتمی نفع دیتے ہیں۔ اب اگر( قیمتیں یکساں رہیں )کارخانے کو ساڑھے گیارہ گھنٹے کے بجائے تیرہ گھنٹے چلانا ممکن ہو جائے ، اور ساتھ ساتھ 2,600پونڈ کے برابر گردشی سرمائے کا بھی اضافہ ہو تو حتمی نفع دگنے سے بھی زیادہ ہو جائے۔ دوسری طرف اگر دہاڑی کے گھنٹوں میں سے ایک کم کر دیا جائے( قیمتیں وہی رہیں )تو حتمی نفع ختم ہو کر رہ جائے گا ۔ اور اگر اس میں سے ڈیڑھ گھنٹہ کم کر دیا جائے تو غیر حتمی نفع بھی ختم ہو جائے گا۔10؂

اور پروفیسر موصوف اس کو تجزیہ! کہتا ہے۔ اگر کارخانہ داری کی آہ و بکا پر توجہ دیتے ہوئے وہ اس بات پر یقین رکھتاہے کہ مزدور دن کا معتدبہ حصہ پیداوار ، مطلب یہ کہ عمارتوں، مشینری، روئی ، اور کوئلہ کی اقدار کی تخلیقِ نو یا بحالی پر خرچ آتا ہے تو پتا چلے گا کہ اس کا تجزیہ بے کار تھا۔اس کا جواب تو سیدھا سا ہوتا : _جناب! اگر آپ اپنی مِلوں میں -03 گھنٹے کے بجائے 10گھنٹے کام کرواتے ہیں تودوسری چیزیں برابر ہونے کے باعث روئی اور مشینری وغیرہ کی روزانہ کی کھپت بھی نسبتاً کم رہے گی۔ آپ جتنا حاصل کررہے ہیں اُتنا ہی کھو رہے ہیں۔ مستقبل میں آپ کے مزدور آپ کے لگائے گئے سرمائے کی تخلیقِ نو میں یا بحالی میں اب ڈیڑھ گھنٹہ کم استعمال کریں گے۔ اگر دوسری طرف اس نے مزید تحقیق اور اخذ و مطالعے کے بغیر اُن [کارخانے داروں]پر یقین نہ کیا ہوتا بلکہ گھاگھ ماہر کی حیثیت سے ایک ایسے مسئلے کی بابت جو معروضی طور پر حتمی نفع اور دہاڑی کی طوالت کے ساتھ جُڑا ہوا ہے، کارخانہ دار سے کہتا کہ محتاط رہے اور ورکشاپ، مشینری اور خام مال کو محن کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرے، اور کیا ہی اچھا ہو کہ و ہ اعدادو شمار میں ایک جانب عمارت ، مشینری اور خام مال پر خرچ ہونے والے بقا پذیر سرمائے کو شمارکرے اور مزدوری کی شکل میں بڑھائے جانے والے سرمائے کواعداد و شمار کے دوسری جانب شمار کرے ۔تب اگر پروفیسر موصوف کو یہ پتا چلے کہ کارخانہ داروں کے اعداد وشمار کے مطابق مزدور اپنی اجرت کی تخلیقِ نو یا بحالی 2آدھے گھنٹوں میں کرتا ہے تو اُس کو چاہیے تھا کہ اپنا تجزیہ ذیل کے انداز میں کرتا:

ہمارے اعدادوشمار کے مطابق مزدور آخری سے پہلے والے گھنٹے میں اپنی اُجرت پیدا کرتا ہے اور آخری گھنٹے میں تمہاری قدرِ زائد یا حتمی نفع۔اب چونکہ وہ مساوی دورانیوں میں مساوی اقدار ہی پیدا کرتا ہے تو آخری سے پہلے والے گھنٹے کی پیداوار کی قدر اُس قدر سے مساوی ہونی چاہیے جو وہ آخری گھنٹے میں پیدا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ کام کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ قدر پیدا کرپاتا ہے اور اس کے محن کی مقدار کو اس کے عرصۂ محن سے ماپا جا سکتا ہے۔ اور تمہارے نزدیک یہ -03 گھنٹے روزانہ ہے۔ وہ[یعنی مزدور] اس-03 گھنٹے کا ایک حصہ اپنے عوضانے کی تخلیقِ نو یا بحالی میں استعمال کرتا ہے اور دوسرا حصہ تمہارے لیے حتمی نفع پیدا کرنے میں۔اس سے زیادہ وہ خاک نہیں کرتا۔لیکن چونکہ آپ کامفروضہ یہ ہے کہ اس کا عوضانہ اور اس کی پیدا کردہ قدرِ زائد مساوی قدر کی حامل ہیں تو یہ بات آئینہ ہو جاتی ہے کہ وہ پہلے-03 گھنٹے میں اپنا عوضانہ پیدا کرتا ہے اور دوسرے -03 گھنٹے میں آپ کا حتمی نفع۔ اب چونکہ 2گھنٹے میں پید اہونے والی سوت کی قدر اس کی اُجرت اور آپ کے حتمی نفع کی اقدار کے مجموعے کے برابر ہے اس لیے اس سوت کی قدر کا پیمانہ دہاڑی کے -03 گھنٹے ہونا چاہیے جس میں سے -03 گھنٹے اس سوت کی قدر کی پیمائش کرتے ہیں جو آخری سے پہلے گھنٹے میں پیدا ہوئی اور -03آخری گھنٹے میں پیدا ہونے والی سوت کی قدر۔ اب ہم ایک حساس مقام پر پہنچ چکے ہیں چنانچہ توجہ رہنی چاہیے!دہاڑی کا آخری سے پہلے والا گھنٹہ دہاڑی کے پہلے گھنٹے ہی کی مثل ہے یعنی نہ اس سے کم اور نہ زیادہ۔ پھر کاتنے والا ایک گھنٹے میں اُتنی قدر کیسے پیدا کر سکتا ہے جو -03گھنٹے کے محن کے مساوی ہو؟ سچ تو یہ ہے کہ اُس سے کوئی معجزہ سرزد نہیں ہوتا۔ جو قدرِ صرف وہ ایک گھنٹے میں پیدا کرتا ہے درحقیقت سوت کی ایک خاص مقدار ہی ہے۔ اور اس سوت کی قدر دہاڑی کے -03 گھنٹوں سے ماپی جا سکتی ہے، اس میں سے -03 [کا محن] اس کی کسی مداخلت کے بغیر ذرائع پیداوار ، روئی اور مشینری وغیرہ میں ماقبل ہی متجسم تھا، اس کا اضافہ صرف آخری ایک گھنٹے[کے محن] کا ہے۔اب چونکہ اس کا عوضانہ -03گھنٹے میں پیدا ہوتا ہے اور ایک گھنٹے میں تیار ہونے والی سوت میں بھی -03گھنٹے ک




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

سینئر کا آخری گھنٹہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سینئر کا آخری گھنٹہ
قدرِ زائد کی شرح - موضوع کے دوسرے داخلے