سینئر کا آخری گھنٹہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 816
عنوان سینئر کا آخری گھنٹہ
شاخ قدرِ زائد کی شرح
پڑھا گیا 224040
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

سینئر کا آخری گھنٹہ کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

سینئر کا آخری گھنٹہ - کی دوسری شاخیں-

سینئر کا آخری گھنٹہ


شاخ قدرِ زائد کی شرح
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

ا محن ہی متجسم ہے چنانچہ نتیجے میں کوئی جادو گری نہیں ہے، یہ کہ اس کی -03 گھنٹے کی کتائی کی پیدا کی گئی قدر ایک گھنٹے میں کاتی جانے والی کُل سوت کی قدر کے مساوی ہے۔اگر آپ کا خیال ہے کہ وہ روئی اور مشینری وغیرہ کی قدر کی تخلیقِ نو یا بحالی میں اپنی دہاڑی کا ایک لمحہ بھی ضائع کرتا ہے تو آپ بالکل غلط انداز میں سوچ رہے ہیں۔ معاملہ اس سے اُلٹ ہے ، یہ اس کا محن ہی ہے جو روئی اور تکلوں کو سوت میں بدلتا ہے۔ چونکہ وہ ان کو کاتتا ہے اس لیے روئی اور تکلے کی قدریں خود بخود سوت میں چلی جاتی ہیں۔ اس نتیجے کا دارو مدار اس کے محن کی خصوصی نوعیت پر ہے نہ کہ مقدار پر۔یہ تو سچ ہے کہ وہ ایک گھنٹے میں کپاس کی صورت میں سوت کے اندر اس سے زیادہ قدر منتقل کر ے گا جتنی وہ آدھے گھنٹے میں کر سکتا ہے لیکن اس کی وجہ صرف یہ بنتی ہے کہ ایک گھنٹے میں وہ آدھے گھنٹے سے زیادہ روئی کات سکتا ہے۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کا دعویٰ مزدور آخری سے پہلے گھنٹے میں اپنی اجرت کی قدر پیدا کرتا ہے اور آخری گھنٹے میں آپ کا حتمی نفع اس سے زیادہ کچھ مطلب نہیں رکھتا کہ جو سوت اس نے دہاڑی کے دو گھنٹوں میں تیار کی ، چاہے یہ دہاڑی کے ابتدائی گھنٹے ہوں یا آخری ، اس سوت کی قدر میں دہاڑی کے -03 گھنٹے مجتمع ہیں یعنی ایک پوری دہاڑی کا محن۔ یعنی 2 گھنٹے اس کے اپنے کام کے اور -03دوسرے لوگوں کے کام کے۔اور میرا نظریہکہ ابتدائی -03گھنٹے میں وہ اپنی مزدوری پیدا کرتا ہے اور آخری -03 گھنٹے میں آپ کا حتمی نفعمحض یہ مطلب رکھتا ہے کہ آپ اس کو پہلے [-03 گھنٹے ] کی اجرت تو دیتے ہیں جبکہ آخری کی نہیں دیتے۔ قوتِ محن کی اجرت کے بجائے محن کی اجرت کی بات کرتے ہوئے میں محض آپ کی زبان استعمال کر رہا تھا۔ تو جناب اگر اب آپ جس عرصۂ محن کی اجرت ادا کرتے ہیں اُس کا موازنہ اُس عرصۂ محن سے کریں جس کی اُجرت ادا نہیں کرتے تو آپ دیکھیں گے کہ ان کا آپس میں وہی تعلق ہے جو آدھے دن کا آدھے دن کے ساتھ ہے۔ اس سے 100%کی شرح حاصل ہوتی ہے اور یہ اوسط تو بڑی شاندار ہے۔ اب اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر آپ ان مزدوروں سے-03 گھنٹے کے بجائے 13گھنٹے کام لیں اور اس اضافی -03گھنٹے کے محن کو بھی محنِ زائد کے بطور قبول کریں _ جیسا کہ آپ سے توقع ہے_اس صورت میں محنِ زائد-03 گھنٹے سے بڑھ کر -03گھنٹے ہو جائے گا اور قدرِ زائد کی شرح 100%سے بڑھ کر-03 ہو جائے گی۔ اگر آپ یہ توقع رکھیں کہ دہاڑی میں اس طرح کے -03گھنٹے کے اضافے سے شرح میں 100%سے لے کر 200%تک کا ،یا اس سے بھی زیادہ کا اضافہ ممکن ہے ، یعنی یہ دگنا سے بھی زیادہ ہو جائے گا تو آپ کا پُر امید ہونا غیر ضروری سمجھا جائے گا۔ دوسری طرف (انسان کا دل ایک حیران کُن چیز ہے خاص طور پر جب یہ بٹوے میں بند ہو)آپ بہت زیادہ قنوطی نقطۂ نظر اپنائیں گے جب آپ کو ڈر ہو کہ محن کے گھنٹوں میں-03سے 10گھنٹے تک کمی سے آپ کا سارا نفع برباد ہو جائے گا۔ایسا ہر گز نہیں ۔ اگر دیگر تمام عوامل یکساں رہیں اور محنِ زائد -03گھنٹے سے کم ہو کر -03 گھنٹے رہ جائے تب بھی اس سے قدرِ زائد کی ایک معقول شرح حاصل ہوتی ہے یعنی -03 ۔لیکن یہ پریشان کُنآخری گھنٹہجس کے بارے میں آپ نے اس سے بھی زیادہ روایات قائم کر رکھیں ہیں جتنی یومِ حساب کے بارے میں آخرت پر یقین رکھنے والے گھڑتے ہیں، سو یہ تمام احمقانہ بات ہی ہے۔اگر یہ[آخری گھنٹہ] رخصت بھی ہو جائے تب بھی آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے والا، نہ آپ کے حتمی نفع کو اور نہ آپ کے پاس کام کرنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کی ذہنی پاکیزگی ہی کوکسی قسم کا فرق آئے گا۔11؂ جب بھی آپ کا یہ آخری گھنٹہ ہنگامی حالات کی صورت میں بج اٹھے تو آکسفورڈ کے پروفیسر کو یاد فرما لیں۔ اور اب جنابِ مکرم ! رب راکھا، ممکن ہے کہ اب ہماری ملاقات آخرت کی بہتر دُنیا میں ہو مگر اس سے قبل نہیں۔

سینئر نے آخری گھنٹےکا جنگی نعرہ 1836میں12؂ ایجاد کیا تھا۔ 15اپریل 1848کے اخبار لندن اکانومسٹمیں یہی نعرہ جیمز ولسن نے بلند کیا تھا جو بڑے اونچے درجے کے معاشی افسرِ اعلیٰ ہیں۔ اس بار یہ نعرہ 10گھنٹے کے بِل کے خلاف تھا۔




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

سینئر کا آخری گھنٹہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سینئر کا آخری گھنٹہ
قدرِ زائد کی شرح - موضوع کے دوسرے داخلے