عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 807
عنوان عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 219634
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل - کی دوسری شاخیں-

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل

THE LABOUR- PROCESS

AND THE PROCESS OF PRODUCING SURPLUS- VALUE



فصلِ اول:- عملِ محن یا اقدارِ صرف کی پیداوار

SECTION 1:

The Labour-Process or the Production of Use-Values



سرمایہ دار اس وجہ سے قوتِ محن خریدتا ہے کہ اس کو استعمال میں لائے؛ اور استعمال میں لائی جانے والی قوتِ محن خود محن ہی ہے۔قوتِ محن کا خریدار اس کو فروخت کنندہ کو کام پر لگاتے ہوئے خرچ کرتاہے۔ جب آخرالذکر کام کرتاہے تو جو کچھ وہ ماقبل صلاحیتی طور پر تھا اب حقیقی طور پر بن جاتا ہے یعنی متحرک قوتِ محن یا مزدور۔اس مقصد کے لئے کہ اس کا محن ایک شے کی صورت میں ظاہر ہو ، سب سے ضروری یہ ہو گا کہ وہ اپنے محن کو کسی مفید چیز پر خرچ کرے یعنی ایک ایسی چیز جو کسی قسم کی حاجت کی تسکین کرتی ہو۔ پس سرمایہ دار مزدور کو ایک مخصوص قدرِ صرف بنانے، یعنی کسی مخصوص چیز کو بنانے کے لئے کام پر لگاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اقدارِ صرف یا سازوسامان کی پیداوار کا عمل ایک سرمایہ دار کی زیرِ نگرانی یا اس کی منشا پر جاری رکھا جاتا ہے ،اُس پیداوار کے عمومی خاصے پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہمیں اولاً تو عملِ محن کا اس مخصوص بنتر سے علاوہ جائزہ لینا ہو گا جو یہ کسی سماجی حالات میں اختیار کرتی ہے۔

اولاً تو محن ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان اور فطرت دونوں ہی حصہ لیتے ہیں، اور جس میں انسان خود اپنے ہی بل بوتے پر ان مادی ردِ عملوں کو جاری کرتا ہے ، نظم میں لاتا ہے اور کنٹرول میں کرتا ہے جو خود اس کے اور فطرت کے مابین جاری ہوتے ہیں۔ وہ فطرت کی ایک قوت بن کر خود کو فطرت کے خلاف لاتاہے ، اور اپنے بازوؤں اور ٹانگوں ، سر اور ہاتھوں ، اپنے جسم کی فطری قوت کو متحرک کرتا ہے تاکہ فطرت کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو خود اپنی ضروریات کے مطابق بنا سکے۔ چنانچہ بیرونی دنیا پر بر سرِ عمل ہو کر اسے بدلتے ہوئے وہ عین اسی لمحے خود اپنی فطرت کو بھی بدل لیتا ہے۔ وہ اپنی خوابیدہ قوتوں کو بیدار کرتے ہوئے ان کو فطرت کی منشا کے مطابق کام کرنے پر اکساتا ہے۔ اس وقت ہم محن کی ان قدیمی جبلی بنتروں کو زیرِ بحث نہیں لا رہے جو ہمیں حیوانِ محض کی یاد دلاتی ہیں۔ وقت کا ایک ناقابلِ پیمائش خلا چیزوں کی اس حالت کو جس میں ایک آدمی اپنی قوتِ محن کوشے کے بطور منڈی میں بیچنے کے لئے لاتا ہے ، اس حالت سے جدا کرتا ہے جس میں محنِ انسانی ابھی تک اپنی پہلی جبلی منزل پر تھا۔ ہم محن کو ماقبل ہی ایک ایسی بنتر تصور کرتے ہیں جو اس پر معروضی انسان کی مہر ثبت کرتی ہے۔ ایک مکڑا ایسے افعال سر انجام دیتا ہے جو ایک جولاہے کے کام سے کافی حد تک مشابہ ہیں ، اور ایک شہد کی مکھی کی اپنے چھتے میں صناعی بہت سارے ماہرینِ تعمیرات کو شرمندگی سے دوچار کرتی ہے۔ لیکن جو چیز ایک کند ترین ماہر تعمیرات کو ذہین ترین شہد کی مکھی سے ممیز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ماہر تعمیرات اس [عمارت] کے ڈھانچے کو حقیقتاً کھڑا کرنے سے قبل اسے اپنے تصور میں قائم کرتا ہے ۔ ہر عملِ محن کے اختتام پر ہم وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں جو پہلے ہی اس کے آ غاز کے وقت مزدور کے تصور میں موجود ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اس مواد میں بنتری تبدیلی پیدا کرتا ہے جس پر وہ کام کر رہا ہوتاہے ، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اس مقصد سے بھی آگاہ ہوتا ہے جو اس کے کام کے طریق کار کو قانون کا درجہ دیتا ہے، اور اسے اپنی مرضی کو بھی اس کے تابع کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ محکومیت محض ایک عارضی عمل ہی نہیں۔ جسمانی اعضاء کی عملداری سے قطع نظر، یہ عمل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام کے تمام عمل کے دوران کام کرنے والے کا ارادہ ایک تسلسل کے ساتھ اس کے مقصد سے ہم آہنگ ہو۔ اس کے معانی قریبی توجہ کے ہیں۔وہ کام کی نوعیت سے اور اس کے کئے جانے کے انداز سے،بطور ایک ایسے کام کے جو اس کی جسمانی اور ذہنی قوتوں کوباہر آنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جتنا کم ہم آہنگ ہو گا ، وہ اس سے اتنا ہی کم لطف اندوز ہو گا، چنانچہ وہ اتنی ہی زیادہ توجہ دینے پر مجبور ہو گا ۔

عملِ محن کے ابتدائی مراحل یہ ہیں: 1 . آدمی کا ذاتی عمل، یعنی کام بذاتِ خود ۔2. اس کام کامعمول، اور3. اس کے اوزارو آلات۔

زمین( اور اگر معاشی طور پر بات کی جائے تو اس میں پانی بھی شامل ہوتا ہے۔ )اپنی آزاد حالت میں جس میں یہ انسان کو ضروریاتِ زندگی یا پھر اشیائے خورنوش بہم پہنچاتی 1؂ہے اس سے بالکل آزاد وجود رکھتی ہے ، یہی محنِ انسانی کا آفاقی معمول subjectہے۔ وہ تمام چیزیں جن کو محن محض ان کے ماحول کے ساتھ فوری تعلق سے علیحدہ کرتا ہے، اُس محن کا سبجیکٹ بنتی ہیں جو فطرت خود سے مہیا کرتی ہے۔ ان میں سے ایک مچھلی ہے جسے ہم اس کے ماحول [پانی] سے پکڑتے ہیں، اور تنے جن کو ہم آزاد جنگلوں کی زمین پر گراتے ہیں، اور وہ دھاتیں جنہیں ہم زیرِ زمین بھرتوں سے نکالتے ہیں۔ اگر اس کے برعکس محن کا سبجیکٹ سابقہ محن سے چھن کر نکلے تو ہم اسے خام مال کہیں گے؛ جیسے کچ دھاتیں جو کشید کی جا چکی ہیں اور تطہیر کے لئے تیار ہیں۔ سارے کا سارا خام مال محن کا معمول ہے ، لیکن محن کا ہر معمول خام مال نہیں ہوتا ، یہ اس خام مال اس وقت بنتا ہے جب یہ محن کو بدولت کسی تبدیلی سے گزرتا ہے۔

محن کا آلہ ایک چیز ہے یا پھر چیزوں کا ایک جتھہ ، جس کو مزدور خود اپنے اور محن کے معمول کے مابین لے آتا ہے، اور جو اس کی سرگرمی کا موصل بنتاہے۔ وہ کسی مادے کے میکانیکی ،طبعی، اور کیمیاوی خواص کو استعمال کرتا ہے تاکہ کسی اور ماد ے کو اپنے مقصد کے تابعبنانے کے لئے استعمال کرسکے 2؂۔ اس قسم کی اشیائے خوردونوش کے بنے بنائے ذرائع سے قطع نظر ،جیسے پھل جن کو اکٹھا کرنے کے لئے انسان کی خود اپنی بانہیں اس کے محن کے اوزاروں کا کام دیتی ہیں،پہلی چیز جسے مزدور حاصل کرتا ہے خوداس کے محن کا معمول نہیں بلکہ اس کا اوزار ہے۔ اس طرح سے فطرت اس کی سرگرمیوں کاایک جزو بن جاتی ہے یعنی ایک ایسا جز وجسے وہ اپنے جسمانی اعضاء کے ساتھ شامل کر لیتا ہے، اور باوجود انجیل مقدس کے یہ چیز اسے عظمت عطا کرتی ہے۔ جیسے زمین اس کی خوراک کا ذخیرہ خانہ ہے اسی طرح اس کا بنیادی آلہ خانہ بھی ہے۔ مثلاً یہ اُس کو ایسے پتھر مہیا کرتی ہے جنہیں وہ پھینکنے ، پیسنے ، دابنے، کاٹنے وغیرہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ زمین خود بھی محن کا ایک آلہ ہے، لیکن جب اس کو زراعت میں استعمال کیا جاتاہے اس کو اوزاروں کے ایک دوسری قسم کے سلسلے اور محن کی نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ صورت کی بھی کی ضرورت پڑتی ہے۔3؂۔ جوں ہی محن میں کوئی چھوٹی سی تبدیلی رونما ہوتی ہے اس کو ایک خاص قسم کے ترقی یافتہ اوزاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ہمیں قدیم ترین غاروں میں ہمیں پتھر کے اوزار اور ہتھیار ملتے ہیں۔ انسانی تاریخ کے ابتدائی دور میں پالتو جانور یعنی ایسے جانور جو مخصوص مقاصد کے لئے پا




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل ان داشلائوں میں استعمال ھے
عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے