عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 807
عنوان عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 219150
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل - کی دوسری شاخیں-

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

ایسے خام مال اگرچہ خود مصنوعات ہیں، ممکن ہے کہ ان کو پیداوار بننے کے لئے عملوں کے ایک طویل سلسلے سے گزرنا پڑتا ہو۔ ایک اس سلسلے میں سے ہر کڑی پر ،وہ مستقل طور بدلتی ہوئی اشکال میں ، خام مال کا کام دیں یہاں تک کہ اس سلسلے کی آ خری کڑی پر وہ مکمل پیداوار بن جاتا ہے، یا پھر آلۂ محن کے بطور کام کرتا ہے۔

پس ہم دیکھتے ہیں کہ چاہے ایک قدرِ صرف کو خام مال کے بطور لیا جائے ، محن کے آلہ کے بطور یا پھر مصنوعہ کے بطور ، اس کاتعین کلی طور پر محن کے عمل میں اس کے کردار اور اس کے منصب سے ہو گا۔جب اس میں تبدیلی آئے گی، اسی طرح سے اس کا کردار بھی بدل جائے گا۔

چنانچہ جب بھی ایک مصنوعہ ایک نئے عملِ محن میں ذریعۂ پیداوار کے بطور داخل ہوتی ہے ، اس مقام پر یہ اپنا مصنوعہ کا خاصہ کھو دیتی ہے اور عمل میں محض ایک جزو بن کر رہ جاتی ہے۔ ایک کاتنے والا اپنے تکلوں کو صرف کاتنے کے آلات ہی سمجھتا ہے اور روئی کو صرف وہ مواد جسے وہ کاتتا ہے۔ یقینا مواد اور تکلوں کے بغیر کاتنا ناممکن ہے؛ چنانچہ ان چیزوں کی مصنوعات کے بطور موجودگی کاتنے کا عمل شروع ہونے سے قبل ہی ہونی چاہیے۔ لیکن خود کاتنے کے عمل میں یہ حقیقت کہ وہ سابقہ محن کی مصنوعات ہیں زیادہ اہمیت کا معاملہ نہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہاضمے کے عمل میں یہ بات قطعاً کسی اہمیت کی حامل نہیں کہ روٹی کسان، مِل چلانے والے اور نانبائی کی مختلف نوعیتوں کے محن کی مصنوعہ ہے۔ اس سے برعکس عام طور بطور مصنوعہ کے کسی بھی خامی کی وجہ سے آلات ِ پیداوار کا خاصہ پیداواری عمل کے دوران کھل کر سامنے آتا ہے ۔ایک کند چاقو یا ایک کمزور دھاگہ ہمیں مسٹر A. یعنی چھری کانٹے بنانے والے ، یا مسٹر B کاتنے والے کی یاد دلاتا ہے۔ ایک مکمل شدہ مصنوعہ میں وہ محن جس کے ذریعے یہ مفید خواص کا حامل بنا ہے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ بظاہر غائب ہو جاتی ہے۔

وہ مشین جو محن کے مقاصد میں کام نہیں آتی ، بے کار ہو جاتی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ وہ فطری قوتوں کے تباہ کن اثرات کی زد میں بھی آ جاتی ہے۔ لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے اور لکڑی گلنے لگتی ہے۔ جس دھاگے کو ہم کتائی بنائی میں استعمال نہیں کرتے اس کی روئی ضائع جاتی ہے۔ زندہ محن کو انہیں چیزوں کو کام میں لانا پڑتا ہے اور ان کو موت کی نیند سے جگانا ہوتاہے، اور ان کو محض ممکنہ اقدارِ صرف سے بدل کر اصلی اور کار آمد بنانا ہوتا ہے۔ محن کی آگ میں گویا کہ تپ کر اور محن کے نظام کا لازمی جزو بن کر ، یا پھر پیداوار کے عمل میں اپنے مناصب سر انجام دینے کے لئے زندہ و تابندہ ہو کر یہ چیزیں صحیح تر معنوں میں استعما ل میں آجاتی ہیں۔ لیکن ان کی یہ کھپت کسی مقصد کے تحت ہی ہوتی ہے، یعنی اقدارِ صرف کے لیے ابتدائی اجزاء بن کر وہ ذرائع خوردونوش یا کسی نئے عمل کے لئے ذریعۂ پیداوار بننے کو تیار ہیں۔

اب،ایک طرف مکمل شدہ مصنوعات نہ صرف کہ محض نتائج ہیں، بلکہ عملِ محن کی ضروری شرائط بھی؛ دوسری جانب، اس صورت میں ان کو اُس عمل کے اندراختیار کرنا ،زندہ محن کے ساتھ ان کا رابطہ ، وہ واحد ذریعہ رہ جاتا ہے جس کے ذریعے ان کا اقدارِ صرف کا خاصہ برقرار رکھا جا سکتا ہے، اور استفادہ بھیکیا جا سکتا ہے۔

محن اپنے مادی عوامل، اپنا معمول،اور اپنے آلات بروئے کار لاتا ہے ، ان کوصرف کرتاہے چنانچہ کھپت کا عمل بن جاتا ہے۔ اس طرح کی افزودہ کھپت کو انفرادی کھپت سے اس بات کی رو سے ممیز کیا جا سکتا ہے کہ آخرالذکر میں مصنوعات کی کھپت عمل میں آتی ہے جیسے زندہ افراد کے لئے ذرائع خوددونوش ، اور اول الذکرمیں ایسے ذرائع کے بطور کہ صرف ان میں محن یعنی زندہ فرد کی قوتِ محن متحرک ہونے کے قابل بنائی جاتی ہے۔ چنانچہ فردی کھپت میں مصنوعہ خود صارف ہی ہے؛ افزودہ کھپت کا نتیجہ ایک ایسی مصنوعہ ہے جو صارف سے ممیز ہے۔

اب جہاں تک کہ اس کے آلات اور معمول خود بھی مصنوعہ چیزیں ہیں ، چنانچہ محن مصنوعات کی تخلیقِ نو کے لئے مصنوعہ چیزوں کو خرچ کرتاہے، یا پھر دوسرے لفظوں میں ، مصنوعات کے ایک جتھے کو اس لئے کھپاتا ہے کہ ان کو ذرائع پیداوار میں بدلتے ہوئے ایک اور جتھے کے لئے تیار کیا جا سکے۔لیکن جس طرح شروع میں ، عملِ محن کے حصہ لینے والوں میں صرف انسان اور زمین تھے ، جو مابعد انسان سے آزادانہ طور پر وجود رکھنے لگی، چنانچہ اب بھی ہم اس عمل میں بہت سے پیداواری ذرائع استعمال کرتے ہیں جن کو براہِ راست طور پر فطرت سے حاصلکیا جاتاہے، جو انسانی محن کے ساتھ کسی قسم کی فطری ماہیتوں کے ملاپ کا پتا نہیں دیتی۔

عملِ محن اگر متذکرہ بالا انداز میں اپنے سادہ ابتدائی عناصر میں منقسم ہو جائے تو وہ ایسا انسانی فعل ہے جس کو اقدارِ صرف کی تخلیق کے لئے اختیار کیا گیا ہویعنی فطری ماہیتوں کو انسانی حاجات کے لئے حاصل کرنا ۔ یہ انسان اور فطرت کے مابین دو طرفہ مادی تعلقات کی لازمی شرط ہے۔ یہ انسانی بقا کے لئے فطرت کی لاگو کردہ ایک دائمی شرط ہے چنانچہ انسانی وجود کے ہر سماجی دور سے آزاد ہے، یا پھر ایسے ہر سماجی دور میں مشترک ہے۔ اسی وجہ سے یہ بات ضروری نہ تھی کہ مزدور کو دوسرے مزدوروں کے ساتھ ربط میں دکھایا جائے ، مطلب یہ کہ انسان اور اس کے محن کو ایک طرف اور فطرت اور اس کے موادوں کو دوسری طرف دکھانا کافی تھا۔جیسا کہ جَو کے دلیے سے اس بات کا پتا نہیں چلتا کہ جَو کس نے بویا ہے،اور نہ یہ سادہ عمل اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ خود کن شرائط کے تحت رونما ہو رہا ہے،آیا کہ غلاموں کے مالک کے وحشیانہ کوڑوں کے ڈر سے یا پھر سرمایہ دار کی بیتاب نظروں کے نیچے؛ آیا کہ ایک عُزلت نشین جاگیردار اپنی چھوٹی سی جاگیر کو داشت کر کے یہ محنت کر رہا ہے یا پھر ایک وحشی پتھروں سے جنگلی جانوروں کو مارتے ہوئے عملِ محن انجام دے رہا ہے۔9؂

آئے اب ہم اپنے متوقع سرمایہ دار کی طرف دوبارہ رجوع کرتے ہیں۔ ہم نے اس کو اس وقت چھوڑا تھا جب کھلی منڈی میں ابھی اس نے عملِ محن کے تمام اہم عوامل کی خریداری کی ہی تھی ؛ یعنی اس کے معروضی اجزاء کی جیسے،پیداواری ذرائع ، اور ساتھ ساتھ اس کے موضوعی ذرائع بھی جیسے قوتِ محن۔ ایک ماہر کی تیز نظری سے اس نے ذرائع پیداوار اور قوتِ محن کی وہ قسم منتخب کی ہے جو اس کے پیشے کے ساتھ گہری مطابقت رکھتی ہے، چاہے یہ پیشہ کاتنے کا ہو، جفت سازی کا ، یا پھرکسی بھی دوسری قسم کا۔ پھر وہ اپنی شے یعنی اس قوتِ محن کو جو اس نے حال ہی میں خریدی ہوتی ہے کھپاتا ہے ، وہ اس طرح کہ اُس مزدور یعنی اِس محن کی تجسیم کو مجبور کرتاہے کہ وہ ذرائع پیداوار کو اپنے محن کے ذریعے استعمال میں لائے۔ عملِ محن کا عام خاصہ ظاہراً اس حقیقت سے بدلا نہیں جا سکتا کہ مزدور اپنے بجائے سرمایہ دار کے لئے کام کرے۔ مزید یہ کہ وہ مخصوص طریقے اور سر




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل ان داشلائوں میں استعمال ھے
عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے