عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 807
عنوان عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 219149
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل - کی دوسری شاخیں-

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

گرمیاں جو جفت سازی یا کتائی کے لئے بروئے کار لائے جاتے ہیں سرمایہ دار کی مداخلت سے بدل نہیں جاتے۔سرمایہ دار کو جس قسم کی قوتِ محن منڈی سے حاصل ہوتی ہے اس ہی کو بروئے کار لاتے ہوئے کام کا آغاز کرنا ہوتاہے، اور نتیجتاًاس کواسی قسم کے محن سے مطمئن بھی ہونا چاہیے جیسی سرمایہ دار وں کے ظہورسے کچھ دیر پہلے موجود ہوتی ہے۔ محن جب سرمائے کے ماتحت چلا جاتا ہے تو اس صورت میں جو تبدیلی پیداواری طریقوں میں رونما ہوتی ہے محض بعد والے عرصوں ہی میں نمودار ہو سکتی ہے، چنانچہ اُس کو زیرِ بحث بھی بعد والے ابواب ہی میں لایا جائے گا۔

عملِ محن جب اس عمل میں بدل جائے جس کے ذریعے سرمایہ دار قوتِ محن کو خرچ کر سکے تو یہ دو خواصی مظاہر کی نشاندہی کرتا ہے۔ اولاً مزدور اس سرمایہ دار کی سرپرستی میں کام کرتا ہے جس کی ملکیت میں اُس کا محن ہے؛ سرمایہ دار اس بات کا پورا خیال رکھتا ہے کہ کام ایک خاص طریقے کے تحت انجام پذیر ہو رہا ہے ، اور یہ کہ پیداواری ذرائع ذہانت کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں ، تاکہ خام مال اتنا ہی ضائع ہو اور آلات وغیرہ کی ٹوٹ پھوٹ بھی اتنی ہی ہو جتنی اس کام میں لازمی طور پر ہوتی ہے۔

ثانیاً یہ کہ مصنوعات سرمایہ دار کی ملکیت ہوتی ہے نہ کہ مزدور کی ، جو محض اس کا فوری پیدا کنندہ ہے۔ فرض کریں کہ ایک سرمایہ دار ایک دن کی قوتِ محن کو اس کی قدر سے مساوی ا جرت دیتا ہے؛ اس صورت میں اُس محن کو ایک دن کے لئے استعمال کرنے کا حق سرمایہ دار کے پاس آجاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے اپنی کسی بھی دوسری شے کو استعمال کرنے کا حق اس کے پاس ہے، جیسے ایک گھوڑا جو ایک دن کے لئے کرائے پر لیا جاتا ہے۔ کسی شے کا استعمال اس کے خریدکنندہ کی ملکیت ہے، اور قوتِ محن کا فروخت کنندہ اپنا محن دیتے ہوئے ، در حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتا کہ اس قدرِ صرف سے الگ ہو جائے جس کو فروخت کر چکا ہے۔جس لمحے وہ کار خانے میں قدم رکھتا ہے ، اس کی قوتِ محن کی قدرِ صرف، اور چنانچہ اس کا استعمال بھی جو کہ محن ہے سرمایہ دار کی ملکیت میں چلا جاتا ہے۔ قوتِ محن کو خرید کر سرمایہ دار غیر زندہ مصنوعات میں زندہ خمیر کی مانند داخل کر دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے تحت عملِ محن ایک خریدی ہوئی شے، یعنی قوتِ محن، کی کھپت کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ لیکن یہ کھپت اس وقت تک عمل میں نہیں آسکتی جب تک قوتِ محن کو پیداواری ذرائع بہم نہیں پہنچائے جاتے۔ عملِ محن ایک ایسا عمل ہے جو سرمایہ دار کی خریدی ہوئی چیزوں، یعنی اس کی ملکیتی چیزوں کے مابین رونما ہوتا ہے۔ چنانچہ اس عمل کی مصنوعات اسی کی ملکیت ہیں، ٹھیک اُس انداز میں جیسے شراب جو عملِ تخمیر کی پیداوار ہے اور اسی کے ملکیتی شراب خانے میں تیار ہوتی ہے۔10؂






ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل ان داشلائوں میں استعمال ھے
عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے