عورتوں اور بچوں کی ملازمت : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 845
عنوان عورتوں اور بچوں کی ملازمت
شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
پڑھا گیا 221163
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

عورتوں اور بچوں کی ملازمت کے بنیاد
مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات / مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

عورتوں اور بچوں کی ملازمت - کی دوسری شاخیں-

عورتوں اور بچوں کی ملازمت


شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

a. سرمائے کی حاصل کردہ معاون قوتِ محن۔

عورتوں اور بچوں کی ملازمت

a. Appropriation of Supplementary Labour power

by Capital. The Employment of Women and children



جب مشینری بازو کی طاقت سے چھٹکارا پاتی ہے تو یہ قدرے کم طاقت ور مزدور کے روزگار کا ذریعہ بن جاتی ہے، یعنی جن لوگوں کی جسمانی نشوونما مکمل نہیں لیکن بازوؤں میں زیادہ لچک ہے۔ چنانچہ عورتوں اور بچوں کا محن وہ پہلی چیز تھی جو مشینری استعمال کرنے والے سرمایہ داروں کی توجہ کا مرکز بنی۔ محن اور مزدور کا یہ‘ عظیممتبادل، ساتھ ہی ایک ایسے ذریعے میں بدل گیا جو، مزدور کے خاندان کے ہر فرد کو عمر اور جنس کا فرق کئے بغیر ہی سرمائے کی براہِ راست عملداری میں دیتے ہوئے، اُجرتی مزدوروں کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے ۔ سرمایہ دار کے لیے کیے جانے والے لازم کام نے نہ صرف بچوں کے کھیل کی جگہ غصب کر لی ، بلکہ گھر میں کام کرنے والے اُس آزاد مزدور کی بھی جو اپنے کنبے کی امداد کے لئے متناسب حدود کے اندر اندر کام کرتا۔

قوتِ محن کی قدر کی تعیین نہ صرف اُس وقتِ محن سے ہوتی تھی جو ایک جوان مزدور کی بحالی کی لئے ضروری تھا بلکہ اُس سے بھی جو اس کے کنبے کی بحالی کے لئے درکار تھا۔ اُس خاندان کے ہر فرد کو مزدور منڈی میں دھکیل کر مشینری اُس آدمی کی قوتِ محن کی قدر کو پورے خاندان پر پھیلا دیتی ہے۔ اس طرح یہ[مشینری] اس کی قوتِ محن کی قدر کو کم کرتی ہے۔ ماضی میں جتنا خرچ سربراہ کی قوتِ محن خریدنے میں آتا تھا ،اغلب ہے کہ چار کارکنان پر مبنی ایک کُنبے کی قوتِ محن خریدنے کے لئے اُس سے زیادہ خرچ آتا ہو، لیکن صلہ یہ ہے کہ ایک دن کی جگہ چار دن کا محن آ جاتا ہے، اور تناسب یہ ہے کہ ایک کے زائد محن کے مقابلے میں اُن چار کے زائد محن کی قدر اپنی قیمت میں گھٹ جاتی ہے۔ کنبے کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ اب چاروں آدمی نہ صرف کام کریں بلکہ سرمایہ دار کے حق میں محنِ زائد بھی خرچ کریں۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ مشینری اُس انسانی مواد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ،39؂جو سرمائے کی استحصالی قوت کا بنیادی اصول تشکیل دیتی ہے، اس استحصال کی سطح میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

مشینری اُس معاہدے کی بھی بار بار تجدید کرتی رہتی ہے جو مزدور اور سرمایہ دار کے مابین روایتی تعلق کا باعث بنتا ہے۔ اشیاء کے مبادلے کو بنیاد بناتے ہوئے ہمارا پہلا مفروضہ یہ تھا کہ سرمایہ دار اور مزدور خود مختار افراد کی حیثیت سے ملتے ہیں، مطلب یہ کہ اشیاء کے آزاد مالکان؛ ان میں سے ایک روپوں اور ذرائع پیداوار کا حامل ہے اور دوسرا قوتِ محن کا۔ لیکن اب سرمایہ نو عمروں اور کم سِنوں کو بھی خرید لیتا ہے۔ اس سے پہلے مزدور نے صرف اپنی ہی قوتِ محن فروخت کی تھی، جس کو اُس نے ایک آزاد فرد کی حیثیت سے برائے نام ہی خرچ کیا۔ اب وہ بیوی بچوں کی فروخت شروع کردیتا ہے۔ وہ غلاموں کا سوداگر بن چکا ہے۔ 40؂بچوں کے محن کی مانگ اپنی ہیئت میں نیگرو غلاموں کے لئے تحقیقات سے مطابقت رکھتی ہے، جس کی مثالیں ہم امریکی جرائد کے اشتہاروں میں پڑھ چکے ہیں۔ ایک انگریز فیکٹری معائنہ کار کہتا ہے،‘‘ میرے ضلعے کے کثیر دستی پیداوار دینے والے اہم ترین قصبات کے مقامی پرچے میں دی جانے والے اشتہار کی طرف میری توجہ مبذول کروائی گئی، ذیل میں اُس کی نقل درج ہے: 12سے 20ایسے نوجوان درکار ہیں جن کی عمریں 13سال سے کم دکھائی نہ ہوں۔ اُجرت، 4شلنگ فی ہفتہ۔ درخواستیں دے سکتے ہیں....۔41؂ جملے کا یہ حصہ‘‘ جن کی عمریں 13سال سے متجاوزدکھائی دیں، اس حقیقت کا حوالہ دیتا ہے کہ قوانینِ کارخانہ کے تحت 13سال سے کم عمر کے بچے صرف 6گھنٹے کام کریں گے۔ سرکاری طور پر مقرر کردہ سرجن کو اُن کی عمر کی تصدیق کرنا ہو گی۔ چنانچہ مینوفیکچر کو ایسے بچے درکار ہیں جو 13سال کے دکھائی دیں۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے 13سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد میں یہ تیز رفتار کمی( ایک ایسی کمی جو گزشتہ 20سال کے انگریزی اعدادوشمار میں بڑے حیران کن انداز میں دکھائی گئی ہے )بہت حد تک خود فیکٹری کے معائنہ کاروں کی ذاتی گواہی، تصدیق کنندگان سرجنوں کے کام کے مطابق تھی، جنہوں نے سرمایہ دار کے استحصال کے لئے لالچ ، اور والدین کی بُری طرح بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بچوں کی عمروں میں مبالغہ کیا۔Bethnal Greenکے بدنامِ زمانہ ضلعے میں سوموار اور منگل کے روز عوامی منڈی لگائی جاتی ہے جہاں 9سال سے زیادہ عمر کے لڑکے اور لڑکیاں ریشم کی مینوفیکچر کرنے والوں کے ہاتھ بِک جاتے ہیں۔‘‘ ان کی عمومی شرائط 1شلنگ، 8ڈالر فی ہفتہ(یہ والدین کی جیب میں جاتا ہے)، اور 2ڈالر جو میرے اور چائے کے لئے ہیں۔ یہ معاہدہ صرف ایک ہفتے کے لئے کیا جاتا ہے۔ جب تک یہ منڈی لگی رہتی ہے ، ماحول اور زبان انتہائی ہتک آمیز رہتے ہیں۔42؂ انگلستان میں تو ایسا بھی ہوا ہے کہ عورتوں نے‘‘ کارگاہوں سے بچوں کو لے کر 2شلنگ ، 6ڈالر فی ہفتہ کرائے پر دے دیا۔ 43؂قانون سازی کے بجائے برطانیۂ عظمیٰ میں اُن فروخت ہونے والے بچوں کی تعداد میں 2,000تک اضافہ ہو گیا جنہیں والدین اس مقصد کے لئے بیچ دیتے کہ چمنیوں کی صفائی کرنے والی زندہ مشینوں کے بطور کام کر سکیں (اگرچہ ان کی جگہ حاصل کرنے کے لئے کئی ایک مشینیں بھی موجود ہیں)۔44؂ وہ انقلاب جو قوتِ محن کے خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان قانونی معاہدے میں مشینری کی وجہ سے رونما ہوا جس کے تحت اِس لین دین سے دو آزاد افراد کے باہمی معاہدے کا لبادہ بھی اُتر گیا ، اُس کی وجہ سے انگلستانی پارلیمنٹ کو ریاست کی فیکٹریوں میں مداخلت کے خلاف ایک قانونی جواز بھی مل گیا۔ جب بھی قانون ایسی صنعتوں میں بچوں کے محن کو 6گھنٹوں تک محدود کرتا جن میں اس سے قبل مداخلت نہ کی گئی، تو مینوفیکچر کرنے والوں کی شکایات کی تجدید ہوئی۔ وہ اس بہانے کا سہارا لیتے کہ اس قانون کے تحت آنے والی صنعت میں سے والدین اپنے بچوں کو ہٹا لیتے ہیں، تاکہ اُنہیں وہاں بیچا جائے جہاں ابھی تک‘‘ محن کی آزادی کی اجارہ داری ہے، مطلب یہ کہ جہاں 13سال سے کم عمر کے بچوں کو جوانوں کی طرح کام کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے، اور اس طرح سے زیادہ قیمت پر چھٹکارا پایا جا سکے۔ لیکن چونکہ سرمایہ فطرتاً ہی‘ مساوی کنندہہے ، اور چونکہ یہ پیداوار کے ہر کُرے میں محن کے استحصال کی شرائط میں مساوات لاتا ہے، اس لئے صنعت کی ایک شاخ میں بچوں




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

عورتوں اور بچوں کی ملازمت ان داشلائوں میں استعمال ھے
عورتوں اور بچوں کی ملازمت