عورتوں اور بچوں کی ملازمت : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 845
عنوان عورتوں اور بچوں کی ملازمت
شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
پڑھا گیا 221168
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

عورتوں اور بچوں کی ملازمت کے بنیاد
مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات / مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

عورتوں اور بچوں کی ملازمت - کی دوسری شاخیں-

عورتوں اور بچوں کی ملازمت


شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

کے محن کی قانونی حد بندی دوسری صنعتوں میں حد بندیوں کی وجہ بن جاتی ہے۔

ہم اُن بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے جسمانی انحطاط کا پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں جنہیں مشینری نے، پہلے تو ایسی براہِ راست اُن فیکٹریوں میں جو اس انحطاط کی بنیاد پر گھڑی ہیں ، اور پھر بالواسطہ صنعت کی دوسری تمام شاخوں میں، سرمائے کے استحصال کا نشانہ بنایا۔چنانچہ ہم یہاں صرف ایک نکتے پر ہی روشنی ڈالیں گے، یعنی مشین چلانے والوں کے قریب المرگ بچوں کی زندگیوں کے چند ابتدائی سالوں پر ۔انگلستان جن درج شدہ سولہ اضلاع میں منقسم ہے، اُن میں ایک سال سے کم عمر کے 100,000بچوں میں سے اوسطاً 9,000سالانہ مر جاتے ہیں( ایک ضلعے میں صرف 7,047)؛ چوبیس اضلاع میں اموات 10,000سے زیادہ لیکن 11,000 سے کم ہیں؛ انتالیس اضلاع میں 11,000 سے زیادہ مگر 12,000سے کم ہیں؛اڑتالیس اضلاع میں 12,000 سے زیادہ لیکن 13,000 سے کم ہیں؛ 22اضلاع میں 20,000سے زیادہ ، 25اضلاع میں 21,000سے زیادہ، 17 میں 22,000سے زیادہ، 11میں 23,000سے زیادہ ہیں، اور Hoo، Wolverhampton، Ashtonunderl-Lyne، اور Prestonمیں 24,000سے زیادہ، Nottongham ، Stockport، اور Bradford میں 25,000سے زیادہ؛ Wisbeach میں 26,000اور مانچسٹر میں 26,125سے زیادہ ہیں۔45؂ سال 1861میں ہونے والی سرکاری طبی تحقیقات سے بھی یہ بات باور کرائی جا چکی ہے کہ مقامی وجوہات کے علاوہ اموات کی یہ بڑھی ہوئی شرح بنیادی طور پر اس وجہ سے ہے کہ ماؤں کو اُن کے گھروں سے دور ملازمت دی جاتی ہے، اور اُن کی عدم موجودگی کے نتیجے میں ہونے والی لا پرواہی اور غفلت شعاری، جیسے غیر موزوں دیکھ بھال، نامناسب خوراک، اورکھانے میں افیون دینا؛ اِس کے ساتھ ساتھ ماں اور بچے کے درمیان غیر فطری بیگانگی بھی پروان چڑھ جاتی ہے، اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچوں کو جانتے بوجھتے ہوئے بھوکوں چھوڑدیا جاتا ہے اور بعض وقت زہر دے دیا جاتا ہے۔46؂ جن زرعی اضلاع میں‘‘ عورتوں کی ملازمت بہت کم ہے، وہاں اس کے برخلاف شرحِ اموات بہت کم ہے۔47؂ سال 1861 کی انکوائری کمیشن نے یہ غیر متوقع نتائج دیے کہ شمالی سمندر کی حدود میں واقع چند ایک خالصتاً زراعی اضلاع میں بچوں کی شرح اموات فیکٹری والے بدترین اضلاع کے قریب قریب برابر ہے۔چنانچہ ڈاکٹر جولین ہنٹر اس کا معائنہ کرنے کے لئے موقع پر وارد ہوا۔ اس کی رپورٹSixth Report of Public Healthمیں مجتمع ہے۔48؂ اُس وقت تک سمجھا یہی جاتا تھا کہ بچے ملیریا، اور دوسری بیماریوں سے موت کا شکار ہوتے ہیں جو نشیبی اور سیلابی اضلاع سے مخصوص ہیں۔ لیکن تحقیقات سے بڑی متضاد صورتِ حال سامنے آئی، مطلب یہ کہ ، ملیریا کو دور کرنے والی وہی وجہ ، زمین کی وہی تبدیلی،یعنی سردیوں کی عرق آلود زمین اور گرمیوں کی خوشبو دار چراگاہوں کی بارآور غلہ کی زمین میں تبدیلی ہی نوزائیدہ بچوں کی اس بڑھی ہوئی شرحِ اموات کا سبب بنتی ہے۔49؂ اُس ضلعے میں ڈاکٹر ہنٹر نے جن ستّر آدمیوں کا معائنہ کیا وہ سب اس نقطے پر‘‘ حیران کُن انداز میں متفق تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ کاشتکاری کے طریقوں میں آنے والے انقلابات نے صنعتی نظام کی ابتدا کو جنم دیا۔ شادی شدہ عورتیں جو لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ جتھوں کی صورت میں کام کرتیں، روپے کے دو سکوں کی خاطر ایسے کسان کے رحم و کرم پر ہوتیں ، جو پورے ایک جتھے کا ٹھیکہ حاصل کرتا، اُس کو‘‘ انڈر ٹیکرکے نام سے موسوم کیا جاتا۔‘‘ یہ جتھے بعض وقت اپنے گاؤں سے میلوں دور بھی جا سکتے ہیں؛ اُنہیں دن اور راتیں سڑکوں پر گزارنی پڑتی ہیں، اِنہوں نے مختصر گھگرے پہن رکھے ہوتے ہیں اس کے ساتھ مناسب جوتے اور کوٹ بھی پہن رکھے ہوتے ہیں، بعض وقت پاجامے، یہ غیر معمولی طور پر مضبوط اور تندرست نظر آتے ہیں ایک پیشہ وار بداخلاقی کا دھبہ لئے یہ اُن جان لیوا نتائج سے بے خبر ہیں جو اس مصروف اور آزاد زندگی سے اُن کی محبت کی وجہ سے اُن کی اُس بدنصیب نسل کو بھگتنے پڑیں گے جو گھروں میں مر رہی ہے۔ 50؂ فیکٹری کے اضلاع کا ہر مظہر یہاں بارِ دیگر زندہ ہو جاتا ہے، لیکن جس میں،بہت حد تک ، نوزائیدہ بچوں کی گردن زدنی اور افیون ملی خوراک دینا بھی شامل ہیں۔51؂ پریوی کونسل کا میڈیکل آفیسر اور Reports on Public Health کا مدیرِ اعلیٰ ڈاکٹر سائمن کہتا ہے:‘‘ ایسی برائیوں کی بابت میرا علم ممکن ہے کہ اُس گہری بے اعتمادی کو نظر انداز کر دے جو اُن عورتوں کی کسی بھی بڑی صنعت میں ملازمت کے متعلق میں نے قائم کی۔52؂ فیکٹری کا معائنہ کار ڈاکٹر بیکر اپنی سرکاری رپورٹ میں کہتا ہے:‘‘ یہ بات انگلستان کے مینوفیکچر کرنے والے اضلاع کے لئے بڑی خوش آئند ہو گی ، جب ہر شادی شدہ اور عیال دار عورت کو کپڑے کے کسی بھی کارخانے میں کام کرنے سے بالکل منع کر دیا جائے گا۔53؂

عورتوں اور بچوں کے سرمایہ دارانہ استحصال سے جنم لینے والی اخلاقی گراوٹ کو فریڈرک اینگلز نے اپنی کتاب Lage der Arbeitenden Klasse Englands میں، اور دیگر مصنفین نے بڑی عرق ریزی سے بیان کیا ہے، اس مقام پر میں اُس موضوع کی طرف صرف اشارہ ہی کروں گا۔لیکن اُس ذہنی بربادی نے، جو نابالغ افراد کو محض قدرِ صرف پیدا کرنے کے لیے مشینوں میں تبدیل کرتے ہوئے پیدا کی گئی تھی، یعنی ایسی ذہنی کیفیت جو اُس فطری جہالت سے واضح طور پر ممیز ہے جوافزائشِ ذہن کی اہلیت کو تباہ کئے بغیر ہی مشین کو چلاتی رہتی ہے،مطلب یہ کہ اس کی فطری زرخیزی ، آخر کار انگریز پارلیمنٹ کو بھی قوانینِ کارخانہ کے تحت آنے والی ہر صنعت میں،14سال سے کم عمر کے بچوں کو کسی‘‘ پیداواری کام پر لگانے کے لئے ابتدائی تعلیم کو لازمی شرط بنانے پر مجبور کر دیا۔ سرمایہ دارانہ نظامِ پیداوار کی روح ، قوانینِ کارخانہ میں تعلیم کی بابت استعمال ہونے والے نام نہاد جملوں کی مضحکہ خیز زبان میں، اور اُن شعبدوں اور ہیراپھیریوں میں، واضح طور پر ظاہر ہو جاتی ہے جو اُن سے بچنے کے لئے وہ عملاً اختیار کرتے ہیں۔‘‘ اس کا الزام صرف قانون سازی ہی کے سر تھوپا جا سکتا ہے جس نے ایک ایسا مبہم قانون پیش کیا جس کی بابت یوں معلوم ہوتا تھا جیسے فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچوں کو تعلیمدی جائے گی، مگر اس پر کسی قسم کا عمل درآمد نہ ہو سکا جس کے ذریعے اُس مظلوم فریق کو بچایا جا سکے۔ اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، بجز یہ کہ بچوں کو ہفتے کے مخصوص ایام میں چند گھنٹوں(تین )کے لئے ایک ایسی چار دیواری میں بند کر دیا جاتا جسے سکول کہتے تھے، اور یہ کہ بچوں کو کام پر لگانے والا ہر ہفتے ایک ایسا سرٹیفیکیٹ حاصل کرے گا جس پر ایک ایسے شخص کے دستخط ہوتے جسے زیرِ دستخطی نے ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹرس مقرر کیا ہوتا۔54؂ 1844کے قانونِ کارخانہ سے پہلے، ایسا تسلسل سے ہوتا رہا ہے کہ سکول میں حاضری کے سرٹیفکیٹ پر سکول کے ہیڈ




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

عورتوں اور بچوں کی ملازمت ان داشلائوں میں استعمال ھے
عورتوں اور بچوں کی ملازمت