عورتوں اور بچوں کی ملازمت : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 845
عنوان عورتوں اور بچوں کی ملازمت
شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
پڑھا گیا 221446
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

عورتوں اور بچوں کی ملازمت کے بنیاد
مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات / مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

عورتوں اور بچوں کی ملازمت - کی دوسری شاخیں-

عورتوں اور بچوں کی ملازمت


شاخ مزدور پر پڑنے والے مشینری کے اثرات
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

اسٹر یا ہیڈ مسٹرس اس انداز میں کراس کی صورت میں نشان لگایا کرتے تھے جیسے اُن کو خود بھی لکھنا نہیں آتا۔‘‘ ایک موقع پر ایک ایسی عمارت کے دورے کے دوران جسے سکول کہا جاتا تھا ، جہاں سے سکول کی حاضری کے سرٹیفکیٹ جاری ہوتے تھے، ایک استاد کی جہالت نے مجھے حیرت زدہ کر دیا جب میں نے اُسے سوال کیا:‘ عزت مآب ، کیا آپ پڑ ھ سکتے ہیں؟ـاُس نے جواب میں کہا:‘ کسی حد تک جناب!اور اپنے آپ کو سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا حق دار ٹھہرانے کے لئے اُس نے مزید کہا:‘ کسی بھی طرح سے میں اپنے سکالروں کے درمیان موجود ہوں۔جس دوران 1844کے بِل پر کام ہو رہا تھا اُس وقت معائنہ کار اُن جگہوں کی انسانیت سوز صورتِ حال کو بیان کرنے میں ناکام نہ رہے جنہیں سکول کہا جاتا تھا، ایسے سرٹیفیکیٹ جن کے ذریعے وہ قانون سے موافقت میں آتے تھے، لیکن وہ صرف قانون سے چاپلوسی کی موافقت ہی حاصل کر پاتے تھے، کیونکہ 1844 کے قانون کی منظوری کے بعد سے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ سکول کے سرٹیفیکیٹ کے اندراجات سکول کے اُستاد کے ہاتھ سے ہونے چاہئیں۔ 55؂ سکاٹ لینڈ کے لئے فیکٹریوں کا معائنہ کار Sir Jon Kincaid بھی اسی قسم کے تجربات ہی بیان کرتا ہے۔‘‘ جس پہلے سکول کا ہم نے دورہ کیا وہ Mrs. Ann Killin کے زیرِ انتظام تھا۔ جب اُس سے اُس کے اپنے نام کے ہجے( spelling )پوچھے گئے تو Kکی جگہ Cبولتے ہوئے فاش غلطی کی، لیکن جلد ہی اپنی تصحیح کرتے ہوئے اُس نے کہا کہ اُس کا نام Kسے شروع ہوتا ہے۔ میں نے سکول کی سرٹیفیکیٹ والی کاپی پر صاف طور پر دیکھ لیا کہ وہ اس کے ہجے مختلف طریقوں سے کرتی ہے، جبکہ اُس کی لکھائی سے یہ بات آئینہ ہو گئی تھی کہ وہ تدریس کے لئے غیر موزوں تھی۔ خود اُس نے بھی تسلیم کیا کہ اُس سے رجسٹر کا اہتمام نہیں کیا جاتا...۔ ایک اور سکول میں مجھے 15فٹ لمبا اور 10فٹ چوڑا کمرہ نظر آیا ، اس جگہ پر میں نے 75بچے گِنے، وہ غیر مانوس آوازوں میں چِلّا رہے تھے۔ 56؂ ‘‘ لیکن ایسا صرف محولہ بالا تکلیف دہ جگہوں پر ہی نہیں ہوتا کہ بچے کسی درجے کی تعلیم پائے بغیر ہی سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیتے ہیں، کیونکہ بہت سے ایسے سکولوں میں جہاں قابل معلم موجود بھی ہو، اُس کی کوششیں اس وجہ سے بہت کم سود مند ثابت ہوتی ہیں کہ اُس کے آگے تین سال سے لے کراس سے زیادہ عمروں کے بچے گھسیڑ دیے جاتے ہیں؛اُس کی روزی کا دارومدار ، جو بڑے تکلیف دہ حالات میں ہوتی ہے، چونکہ بچوں کی اُس زیادہ تعداد سے حاصل ہونے والے پیسوں پر ہوتا ہے جنہیں ایک جگہ پر گھُسیڑدینا ممکن ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ سکول کا ناکافی فرنیچر، اور کتابوں اور درس و تدریس کے دیگر مواد کی کمی، اور تنگ و تاریک اور پُر شور ماحول کے غریب بچوں پر بُرے اثرات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ میں بہت سے ایسے سکولوں میں بھی گیا جہاں میں نے بہت سارے ایسے بچوں کو بھی دیکھا جو کچھ بھی نہیں کر رہے تھے؛ اور اسے سکول کی حاضری گردانا جاتا ہے، اور اعدادوشمار میں اس قسم کے بچوں کو پڑھے لکھے قرار دیا جاتا ہے۔57؂ سکاٹ لینڈ میں مینوفیکچر کرنے والے اپنی پوری کوشش سے ایسے بچوں سے اجتناب کرتے ہیں جو سکول میں پڑھنا چاہیں۔‘‘ اس بات کے ثبوت میں مزید کسی قسم کی بحث درکار نہیں کہ قانونِ کارخانہ میں تعلیم کی بابت استعمال ہونے والے جملے، جن کے بارے میں مِل مالکان بڑی ناپسندیدہ رائے رکھتے ہیں، بہت حد تک بچوں کے اُس گروہ کو نوکری اور تعلیم دونوں سے محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی نشاندہی یہ قانون کرتا ہے۔ 58؂ چھپائی کے کاموں میں یہ باتیں خوفناک حد تک بے ہنگم ہیں جنہیں ایک خصوصی قانون کے ذریعے منضبط کیا جاتا ہے۔ اُس قانون کی رو سے،‘‘ہر بچے کے لئے ضروری تھا کہ چھپائی کے کام میں لگائے جانے سے پہلے کم از کم تیس دن سکول گیا ہو، اور کسی طرح بھی 150گھنٹوں سے کم نہیں، نوکری کے ایسے پہلے دن کے بعد آنے والے چھ ماہ کے دوران، اور چھپائی کے کام میں اس کی مسلسل نوکری کے دوران اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر چھ ماہ بعد وہ 30دن اور 150گھنٹے کے تعلیمی دورانیوں میں حاضری دے...۔ سکول میں صبح 8بجے سے شام 6بجے کے دوران حاضری دینا ضروری تھا۔ اور کسی بھی دن 2 -BD گھنٹے سے کم اور 5گھنٹے سے زیادہ کی حاضری نہ ہوجسے 150گھنٹوں کا حصہ شمار کیا جائے۔ عام حالات میں بچے 30دن تک دن اور سہ پہر تک کم از کم 5گھنٹے روزانہ سکول جاتے، اور 30دن کے گزر جانے کے بعد، اُن کی زبان میں، مقررہ 150گھنٹے کا دورانیہ پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے، اور اپنی کتاب ختم کرتے ہوئے وہ اپنے کام میں واپس آ جاتے ہیں جہاں وہ چھ ماہ تک مسلسل کام کرتے ہیں، جب سکول کی حاضری کی ایک اور قسط سر پر آ جاتی ہے اور وہ دوبارہ سکول چلے جاتے ہیں تاوقتیکہ کتاب ایک بار پھر مکمل نہیں ہو جاتی...۔بہت سے لڑکے جب چھپائی کے کام میں چھ ماہ کے اختتام پر مقررہ گھنٹوں کے لیے دوبارہ سکول جاتے ہیں، تواُن کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے اُنہوں نے چھپائی والے لڑکوں کی حیثیت سے پہلی دفعہ ہی سکول کی راہ اختیار کی ہے، مطلب یہ کہ اُنہیں وہ سب کچھ بھول چکا ہے جو اُنہوں نے پہلی بار سکول جا کر حاصل کیا تھا...۔چھپائی کے دیگر کاموں میں سکول میں بچوں کی حاضریوں کو قریباً یکسر ہی ادارے میں ہونے والے کام کی نوعیت کے تابع کیا جاتا ہے۔ مخصوص تعداد کے گھنٹوں کو ہر چھے مہینوں سے پورا کیا جاتا ہے، اور اُنہیں پورے چھ مہینوں سے تین سے پانچ گھنٹوں کی قسطیں لیتے ہوئے پورا کیا جاتا ہے...۔ مثال کے طور پر ایک دن کی حاضری صبح 8سے 11بجے تک، اور دوسرے دن کی شام 1سے 4بجے تک ہو سکتی ہے، پھر ممکن ہے کہ بچے بہت دنوں تک سکول میں نظر ہی نہ آئیں یعنی جب اُنہیں شام 3سے 6 بجے تک سکول جانا ہو؛ پھر ممکن ہے کہ وہ تین چار دن مسلسل سکول جائیں، یا پھر ایک ہفتے کے لئے، اس کے بعد وہ تین ہفتوں یا ایک ماہ کے لئے سکول کی طرف نہ بھٹکیں، اس کے بعد خال خال دنوں میں اور وقفے وقفے سے، مطلب یہ کہ جب اِسے لگانے والا کاریگر اسے فارغ کرنا پسند کرے؛ اس طرح بچے کو اُس وقت تک سکول سے کام میں اور کام سے سکول میں دھکیلا جاتا رہتا ہے جب تک 150گھنٹے کی داستان مکمل نہیں ہو جاتی۔59؂

کارکنان کے درجے میں عورتوں اورر بچوں کے جمِ عفیر کے اضافے سے آخر کار مشینری اُس مزاحمت کو کچلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے جسے مینوفیکچر کے عہد میں مردوں نے سرمائے کے مظالم کے خلاف جاری رکھا۔60؂




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

عورتوں اور بچوں کی ملازمت ان داشلائوں میں استعمال ھے
عورتوں اور بچوں کی ملازمت