فیکٹری : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 848
عنوان فیکٹری
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 236656
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

فیکٹری کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

فیکٹری - کی دوسری شاخیں-

فیکٹری


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

فیکٹری میں آویزاں ایک ایسی روایت ہے جومینوفیکچر سے چلی آ رہی ہے، اور جسے بعد ازاں سرمایہ قوتِ محن کے استحصال کے ایک ذریعے کے بطور زیادہ گھناؤنی شکل میں قائم کر لیتا ہے۔ ایک ہی آلے کوپوری زندگی کے لئے استعمال کرنے کی خاصیت، اب ایک ہی مشین پر تا حیات کام کرنے کی خاصیت بن جاتی ہے۔ کاریگر کو اُس کے بچپن ہی سے جزویاتی مشین کے ایک حصے میں بدلنے کے مقصد کے ساتھ ہی مشینری کے استعمال کو غلط راہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔103؂ اس انداز میں نہ صرف اُس کی بحالی پر اُٹھنے والے اخراجات میں معقول حد تک کمی آتی ہے، بلکہ ساتھ ساتھ ، مجموعی طور پر، اُس کا فیکٹری پر اور اسی طرح سرمایہ دار پر بے یارومددگار انحصار، بھی مکمل طور پر پھِر جاتا ہے ۔ دیگر مقامات کی طرح یہاں بھی ہمارے لئے ضروری ہے کہ پیداوار کے سماجی عمل میں آنے والی ترقی کی وجہ سے، اور اس عمل کے سرمایہ دارانہ استعمال کی وجہ سے افزودگی میں ہونے والے اضافے کو ایک دوسرے سے ممیز کریں۔ دستکاری اور مینوفیکچر میں کاریگر اوزاروں کو استعمال میں لاتا ہے، فیکٹری میں مشین اُس کو استعمال میں لاتی ہے۔ وہاں آلاتِ محن کی جوحرکات کا محرک وہ خود ہوتا ہے، جبکہ یہاں اُس کو مشین کی حرکات کے پیچھے چلنا پڑتا ہے۔ مینوفیکچر میں کاریگر ایک زندہ میکانزم کا حصہ ہوتے ہیں۔ فیکٹری میں ہمارے پاس ایک بے جان میکانزم ہے جو کاریگروں سے آزاد ہے، اور وہ[کاریگر] اِس کے فقط زندہ اعضاء بن کر رہ جاتے ہیں۔‘‘ لامتناہی مشقت اور سخت کوشی کا تکلیف دہ معمول جس سے یہی میکانکی عمل ہو کر گزرتا ہے سیسی فس کے محن کی مانند ہے۔ محن کا بوجھ ایک چٹان کی طرح تھکے ماندے مزدوروں پر ہمیشہ گرتا رہتا ہے۔ 104؂اسی وقت فیکٹری کا یہ کام اعصابی نظام کو تھکن سے ہلکان ہو دیتا ہے، یہ پٹھوں کو کثیر جہتی استعمال کی بنا پر ختم کرکے رکھ دیتا ہے، اور اُس کی ذہنی اور جسمانی دونوں اقسام کی آزادی کے ہر لمحے کو غصب کر لیتا ہے۔ 105؂یہاں تک کہ محن کی کمی بھی تشدد کی ایک قسم بن جاتی ہے، مشین اگرچہ مزدور کو کام سے آزاد نہیں کرتی ، مگر اُس کو دلچسپی کے ہر کام سے محروم کر دیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظامِ پیداوار کی ہر قسم ، اس وجہ سے کہ یہ صرف عملِ محن ہی نہیں ہے بلکہ قدرِ زائد پیدا کرنے کے عمل کا بھی ہے،اِس خاصے کی مشترک طور پر حامل ہے کہ آلاتِ محن کو کاریگر استعمال میں نہیں لاتا بلکہ یہ آلاتِ محن ہیں جو کاریگر کو استعمال میں لاتے ہیں۔ لیکن ایسا صرف نظامِ کارخانہ ہی میں ہے کہ یہ اُلٹ پھیر تکنیکی اور واضح حقیقت پا لیتا ہے۔ ایک خود کار مشین میں اس تبدیلی کے ذریعے محن کے آلات،عملِ محن کے دوران مُردہ محن کے سرمائے کی شکل میں مزدور کے مقابل آ گھڑے ہوتے ہیں، جو زندہ قوتِ محن کو مغلوب کرتے ہوئے ساری توانائی چوس لیتا ہے۔ پیداوار کی ذہنی قوت سے جسمانی قوت کی علیحدگی، اور اُن قوتوں کی محنت کے اوپر سرمائے کی بالادستی میں تبدیلی ، جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں، حتمی تکمیل مشینری کی بنیاد پر کھڑی ہونے والی جدید صنعت سے ملتی ہے۔ ہر فرد ، یعنی فیکٹری کے ہر غیر اہم مزدور کی خاص مہارت سائنس کے سامنے ایک غیر اہم مقدار کی مانند غائب ہو جاتی ہے ، دیو ہیکل جسمانی قوتیں اور محن کا وہ جمِ عفیر جو فیکٹری کے میکانزم میں متجسم ہوتا ہے، اس میکانزم کے ساتھ مل کر‘‘ مالک( master)کی قوت تشکیل دیتے ہیں۔ یہ‘‘ مالک جس کے ذہن میں مشینری اور خود اُس کی اجارہ داری ناقابلِ تقسیم انداز میں متحد ہیں، جب بھی اسے اپنے‘‘ مزدوروں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے تو وہ اُنہیں بڑے گھمنڈی انداز میں بتاتا ہے:‘‘ فیکٹری میں کام کرنے والوں کو یہ حقیقت از بر ہونی چاہئے کہ ہنر یافتہ محن میں اُن کا درجہ واقعتا کم تر ہے؛ اور یہ کہ کوئی درجہ ایسا نہیں جسے آسانی سے حاصل کیا جا سکے، یا اس کے معیار کا صلہ با آسانی دیاجا سکتا ہے، یا جو ایک کم ماہر کی تھوڑی سی تربیت حاصل کرکے زیادہ تیزی سے اور زیادہ مقدار میں حاصل کیا جا سکتا ہے...۔ مالک کی مشینری پیداوار کے کاروبار میں حقیقتاً مزدور کے محن اور مہارت سے زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے، جو فقط چھ ماہ کی تعلیم بھی سکھا دیتی ہے،اور جسے ایک عام مزدور بھی سیکھ سکتا ہے۔106؂ آلاتِ محن کی ہموار حرکت کے آگے مزدور کی تکنیکی مغلوبیت، اور اسی کی مناسبت سے مزدور کے جسم کی بناوٹ ، جس میں جیسا کہ دونوں جنسوں اور تمام عمروں کے افراد شامل ہوتے ہیں، یہ صورتِ حال بیرک کی طرح کے نظم وضبط کو جنم دیتی ہے جسے فیکٹری میں ایک مکمل نظام کی حیثیت سے لاگو کر دیا جاتا ہے، اور جو نگرانی کے مقدم الذکر محن کو مکمل طور پر نشوونما بخشتا ہے، یعنی کام کرنے والے افراد کو کاریگروں اور نگرانوں میں منقسم کرتے ہوئے اِنہیں صنعتی فوج کے پرائیویٹ سپاہی اور سارجنٹ بنا دیتا ہے۔ ‘‘وہ سب سے بڑی مشکل جس کا [خود کار فیکٹری میں ] سامنا ہوتا ہے.... وہ ... اُنہیں غیر مسلسل انداز میں کام کرنے کی عادت ترک کرنے کی تربیت دینا، اور اُنہیں اس قابل بنا دینا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پیچیدہ خود کار مشین کی تسلسل کی پابندی کے مطابق ڈھال سکیں۔فیکٹری کے اندر پائے جانے والے نظم و ضبط کے لئے ایسے مفید قاعدے کا اختراع اور اطلاق جو فیکٹری کی سرگرمیوں کی ضروریات سے موافقت رکھتا ہو، جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ، یہ آرک رائٹ کی ایک اعلیٰ کامیابی ہے! حتیٰ کہ آج بھی، جبکہ نظام مکمل طور پر منضبط ہو چکا ہے اور ممکنہ حد تک محن کی بھی تخفیف کر دی گئی ہے، یہ بات قریب قریب ناممکن نظر آتی ہے کہ سِنِ بلوغت سے گزر جانے والے افراد کوفیکٹری کے مفید مزدوروں میں بدلا جا سکے۔ 107؂وہ فیکٹری کوڈ جس میں سرمایہ نجی قانون ساز کی مانند اور خود اپنی مرضی و منشا کے مطابق اپنے کارکنان پر اپنی بالادستی کو منضبط کرتا ہے۔ اس میں نہ اُن ذمہ داریوں کی شمولیت ہوتی ہے جو دیگر معاملات میں بورژوازی کی منظور شدہ ہیں، اور نہ اس میں نسبتاً زیادہ منطور شدہ نظام ہی کا کوئی دخل ہے۔ بلکہ یہ قانون تو محض اُس عملِ محن کے سماجی انضباط وانصرام کی سرمایہ دارانہ مض




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

فیکٹری ان داشلائوں میں استعمال ھے
تعليم اور انقلاب
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے