قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع) : (The Capital سرمایہ)

2022-12-15
داخلا نمبر 777
عنوان قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع)
شاخ شے کے دو عناصر
پڑھا گیا 240489
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع) کے بنیاد
شے کے دو عناصر / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع) - کی دوسری شاخیں-

قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع)


شاخ شے کے دو عناصر
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

‘‘ اشیاء کی کثیر تعدادکا اجماع ’’ہی اُس معاشرے کی دولت ہوتی ہے1؂ جس میں سرمایہ دارانہ طبعِ پیداوار رائج ہو ۔ اورشے اس [دولت ]کی اکائی ہوتی ہے۔ چنانچہ ہماری تحقیق کا آ غاز لازماًشے کے تجزئے سے ہوگا۔

شے ہمارے وجود سے الگ ایک ایسی چیز ہے جو اپنے خواص کے ذریعے انسانی حاجات کی کسی بھی انداز میں تسکین کرتی ہے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ ان حاجات کی حقیقت جسمانی ہے یاخیالی 2؂۔ ہمیں اس سے بھی کوئی بحث نہیں کہ ان حاجات کی تسکین بلا واسطہ طور پر اشیائے خورد ونوش( subsistance)سے ہوتی ہے یا بالواسطہ طور پر پیداواری ذرائع سے۔

ہر کارآمد چیز مثلاً لوہا کاغذ وغیرہ کو معیار اور مقدار کے دو اصولوں کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ایک کار آ مد چیز میں بہت سے خواص مجتمع ہو سکتے ہیں چنانچہ اسے کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔چیزوں کے مختلف استعمالات پر روشنی ڈالنا علمِ تاریخ ـ3؂ کا کام ہے۔اسی طرح ان چیزوں کی مختلف مقداروں کے ناپ تول کے لئے سماجی معیار کے مطابق پیمانیمقرر کرنا بھی اسی کے زمرے میں آ تا ہے۔

ان پیمانوں کی نوعیتوں میں فرق کی کچھ وجہ تو گونا گوں خواص کی حامل وہ چیزیں ہیں جن کا ناپ تول مطلوب ہوتا اور کچھ کاسراغ روایت میں مل سکتا ہے۔

کسی چیز کی افادیت اسے قدرِ صرف 4؂ کا درجہ دیتی ہے۔مگر یہ افادہ فرضی چیز ہر گز نہیں ۔ اگرکسی شے کے محض مادی خواص ہی کو مدِّنظررکھا جائے تو اس افادہ کا اس شے سے الگ کوئی وجود نہ رہے گا۔ایک شے مثلاًلوہا،مکئی یا ہیرا وغیرہ بجز مادی چیزوں کے اور کچھ نہیں اور یہ قدرِصرف کا درجہ اس لئے رکھتے ہیں کہ ان میں کچھ کار آمد عنصر پایا جاتا ہے۔شے کی یہ خا صیّت اس مقدارِ محن پرمنحصرہے جو اسے کار آمد بنانے کے لئے ضروری ہوتی ہے ۔جب قدر ِصر ف پر بات کرتے ہیں تو اشیاء کی متعیّنہ مقداریں پہلے سے فرض کر لیتے ہیں مثال کے طور پر اتنے درجن گھڑیاں،اتنے گز کپڑا یا اتنے ٹن لوہا۔قدرِصرف ہی اشیاء کے معاشی علم 5؂ کی بنیاد ہے۔اور چیز کا استعمال ہی اسے حقیقی بناتا ہے۔دولت چاہے کسی بھی سماجی صورت میں ہو اس کی ماہیّت کا تعیّن بھی اسی سے ہوتا ہے۔مزید برآں معاشرے کی جس بنتر ]سرمایہ دارانہ معاشرہ[ کو ہم زیرِبحث لا رہے ہیں اس میں قدرِصرف اپنے آپ کو قدرِمبادلہ کے مادی اجماع کی حیثیت سے ظاہرکرتی ہے۔

بادی النظر میں قدرِ مبادلہ مقداری تعلّق میں ظاہر ہوتی ہے۔یعنی ایک ایسی نسبت جس کے تحت قدرِصرف کی ایک خاص مقدار کا تبادلہ کسی دوسری قسم کی قدرِ صرف سے کیا جاتا ہے6؂۔اور تبادلے کا یہ تناسب وقت اور جگہ کے حوالے سے ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔اس حوالے سے قدرِمبادلہ اتفاقی اورمتعلقاتی معلوم ہوتی ہے،اور ساتھ ہی ساتھ ایک حقیقی قدر بھی۔یعنی ایک ایسی قدر ِمبادلہ جو داخلی طور پر اشیاء کے اندر موجود ہو اور ان کا جزوِلا ینفک ہو،اس کی مثال مجموعۂ تضاد کی ہے7؂۔ اب اس مسئلے پر تفصیل سے بحث کرتے ہیں۔

ٍٍ دی گئی شے مثلاً ایک من گندم کا الفکوئلے ،بریشم،جسونے یا مختلف خواص کی حامل دیگر اشیاء کی مختلف مقداروں سے تبادلہ کیا جاتا ہے۔اس عمل میں گندم میں ایک قدرِ مبادلہ کی بجائے کئی ایک اقدارِمبادلہ کی صفات یکجا ہو جاتی ہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ الفکوئلہ ،ب ریشم اور ج سونامیں سے ہرکوئی ایک من گندم کی قدرِ مبادلہ کا اظہار کر رہا ہے۔چنانچہ مبادلے کی ایک جیسی قدروں کی حیثیّت سے الفکوئلے، ب ریشم ،ج سونے وغیرہ کو ایک دوسرے کے متناسب اور برابربھی ہونا چاہیے۔اس وجہ سے کسی شے کی صحیح قدرِمبادلہ میں بیک وقت دو صفات یکجا ہوتی ہیں ـ:اولاً برابری کی صفت اور ثانیاًیہ ایک ایسی صفت کی مظہر ہے جو اس میں موجود بھی ہے اور اس سے ممیّز بھی۔

اب ہم دو اشیاء مثلاً مکئی اور لوہے کی مثال پیش کرتے ہیں۔ مقداروں کے وہ تناسب جن کے تحت یہ دونوں ایک دوسرے سے مساوی طور پر تبدیل ہو سکتے ہیں اسے مندرجہ ذیل مساوات میں بیان کیا جا سکتا ہے، اس مساوات میں مکئی کی دی گئی مقدار لوہے کی کچھ مقدار کے برابر ہے ۔

مثلاً : ایک من مکئی = X کلو گرام لوہا

اس مساوات پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ مکئی اور لوہے کی دو مختلف مقداروں یعنی ایک من مکئی اور لا کلو گرام لوہے میں کوئی ایسی چیز مساوی طور پر موجود ہے جو دونوں میں مشترک ہے۔چنانچہ یہ دونوں چیزیں کسی ایسی تیسری چیز کے برابر ہو نی چاہئیں جو اپنے تئیں نہ مکئی ہے اور نہ لوہا۔چونکہ یہ تیسری چیز قدرِمبادلہ ہے ،اس لئے ان دونوں کو اس تیسری چیز میں بدل جانا چاہیے۔

جیو میٹری کی ایک سادہ سی شکل اس کی وضاحت کے لئے کافی ہو گی۔مستقیم الخطّین اشکال کا رقبہ معلوم کرنے کے لیے ہم ان کو مثلثوں کی شکل میں بناتے ہیں ۔لیکن ایک مثلث کا اپنا رقبہ اس کی ظاہری شکل سے یکسر مختلف ہوتا ہے،جو کہ مثلث کے ارتفاع اور قاعدے کے حا صل ضرب کا نصف ہوتا ہے۔اسی طریقے سے اشیاء کی قدرِمبادلہ کی حقیقت ایک ایسی مشترکہ صفت کی ہونی چاہیے جس کے مطابق ان کی مقداریں ادلتی بدلتی ہیں۔

اس ‘‘ مشترکہ وصف ’’کی حقیقت جیومیٹریکل ہے نہ کیمیاوی،اور نہ ہی یہ اشیاء کا کوئی قدرتی وصف ہے۔اس قسم کے خواص ہماری توجہ محض اس وجہ سے حاصل کرتے ہیں کہ یہ اشیاء کی افادیت پر اثر انداز ہو کر اسے قدرِصرف میں بدلتے ہیں ۔لیکن اشیاء کا تبادلہ ایک ایسا عمل ہے جس میں قدرِصرف کی حقیقت بالکل ساقط ہو کر رہ جاتی ہے۔پھر یہ ہے کہ ایک قدرِصرف اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ دوسری بشرطیکہ یہ ایک معقول مقدار میں موجود ہو۔یا جیسا کہ بوڑھے باربن کا قول ہے:

‘‘ اگر اقدار یکساں ہوں تو ایک طرح کا سازوسا مان اتنا ہی مفید ہوتا ہے جتنا کہ دوسری قسم کا ........ ۔ ایک سو روپے کے عوض خریدا گیا سیسہ یا لوہا اتنی ہی بڑی قدر ہے جتنا کہ ایک سو کے عوض خریدا گیا چاندی یا سونا۔ ’’ 8؂ اقدارِصرف ہونے کی حیثیت سے اشیاء محض مختلف معیارات ہیں جبکہ اقدارِ مبادلہ کی حیثیت سے وہ محض مختلف اقداریں ہیں چنانچہ ان میں قدرِ صرف نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔

اگر ہم اشیاء کی قدرِ صرف کو نظر انداز کر دیں تو ان میں صرف ایک وصف رہ جاتا ہ




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع) ان داشلائوں میں استعمال ھے
اشیاء
شے کے دو عناصر - موضوع کے دوسرے داخلے