قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع) : (The Capital سرمایہ)

2022-12-15
داخلا نمبر 777
عنوان قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع)
شاخ شے کے دو عناصر
پڑھا گیا 240507
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع) کے بنیاد
شے کے دو عناصر / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع) - کی دوسری شاخیں-

قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع)


شاخ شے کے دو عناصر
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

ے کہ وہ‘‘ مصنوعۂ محن’’ہیں۔لیکن اس مصنوعۂ محن کی حقیقت بھی ہمارے ہاتھوں میں آ کر بدل جاتی ہے۔اگر ہم شے کی قدرِصرف کو ساقط کر دیں تو در حقیقت ہم ان مادی عوامل سے انحراف کریں گے جو ‘‘مصنوعہ ’’کو قدر ِصرف میں بدلتے ہیں۔چنانچہ ہمیں میز ،کرسی،مکان ،غلّہ یا دوسری مفید چیزیں غیر مادی اور غیر حقیقی معلوم ہوں گی۔اور ان کوبڑھئی ،معمار یا جولاہے وغیرہ کا مصنوعۂ محن بھی تصوّر نہیں کیا جائے گا۔مصنوعات کے اپنے مفید خواص کے ساتھ ساتھ، ہم ان میں مجسم ہونے والے محنِ مفید اور اس محن کی مقرونی اشکال ،دونوں کو نظر انداز کو دیتے ہیں۔چنانچہ ان میں بجزایک قدرِمشترک کے اور کچھ نہیں بچتا کہ وہ تمام کے تمام ایک ہی قسم کا محن ہیں،یعنی انسانی محن کی مجرد شکل۔

اب ہم ان تمام مصنوعات بقایا[صفات] پر بات کرتے ہیں ؛متذکرہ بالا کی طرح یہ بھی غیر مرئی حقیقت کی حامل ہیں،یعنی محض ایک قسم کے انسانی محن کا انجماد،دوسرے لفظوں میں طبعِ اصراف سے قطع نظر، اس کے جوہرِمحن کا اصراف ہے۔ان حقائق سے ہمیں اندازا ہوتا ہے کہ جو محن ِانسانی انہیں بنانے کے عمل کے دوران صرف ہوا ہے اصل میں وہی ان کے اندر مجسم صورت میں موجود ہے۔جب انہیں محض اس سماجی ماہئت کی اعلٰی شکل میں دیکھا جائے جو ان میں مشترک [خاصہ]ہے تو یہ صرف قدریں ہیں ۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب اشیاء کا تبادلہ ہوتا ہے تو اشیاء کی قدرِمبادلہ کا ان کی قدرِ صرف سے کچھ سرو کار نہیں ہوتا۔لیکن اگر ہم ان کی قدرِ صرف کو ساقط کر دیں تو محض قدر ہی باقی رہ جائے گی،جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔اس وجہ سے جب بھی ان کا تبادلہ کیا جائے،تو وہ مشترک ماہیئت،جو اشیاء کی قدرِمبادلہ میں ظاہر ہو تی ہے،درحقیقت ان کی قدر ہی ہوتی ہے۔ہماری تحقیق آگے چل کر ثابت کرے گی کہ کسی شے کی قدر اپنے آپ کو محض قدر ِ مبادلہ ہی کی واحد صورت میں ظاہر کر سکتی ہے۔فی الوقت ہم قدر کی حقیقت کو اس کی شکل سے ہٹ کر اجاگر کرنے پر اکتفا کریں گے۔

ایک قدرِ صر ف یا مفید شے قدر کی حامل اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اس میں محنِ انسانی مجرد صورت میں مجسم ہوتا ہے۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر کا اجماع کس طرح سے اخذ کیا جائے؟سادہ سی بات ہے کہ جتنی مقدار میں اس چیز میں قدر پیدا کرنے والا عنصر، یعنی محن، موجود ہے اتنی ہی اس شے کی قدر ہو گی۔تاہم مقدارِمحن کاتعیّن مدّتِ معیاد سے ،اور عر صۂ محن کے لئے ہفتوں ،دنوں اور گھنٹوں کے پیمانے مقرر ہو تے ہیں۔

شائد کچھ لوگ یہ سمجھیں کہ اگر کسی شے کی قدر کا تعین اس پر صرف ہونے والی مقدارِمحن سے کیا جائے تو اناڑی اور ناتجربہ کار مزدور کی بنائی ہوئی چیز کی قدر زیادہ ہو گی،کیونکہ اس پر زیادہ وقت صرف ہوا ہے۔مگر وہ محن جو قدر کی ماہیئت کی تشکیل کرتا ہے، متجانس محنِ انسانی ہی ہوتا ہے۔معاشرے کی مجموعی قوّتِ محن،جوکہ اس معاشرے کی پیدا کردہ جملۂ اشیاء میں مجسم ہوتا ہے،یہاں اس کی مثال متجانس محنِ انسانی کی سی ہے۔چاہے یہ ان گنت انفرادی اجزاء کی شکل میں ہو۔اس کا ہر جزو دوسرے جزو کے برابر خواص کا حامل ہوتا ہے،کیونکہ ہر ایک میں معاشرے کی اوسط قوّتِ محن شامل ہوتی ہے۔یہ اس طرح سے ممکن ہے کہ ایک مکمل شے بننے تک اس پر جو عرصہ ِمحن درکارہے وہ معاشرے کے اوسط انفرادی محن سے زیادہ ہے نہ کم۔ معاشرتی طور پر ضروری عرصۂ محن وہ مدت ہوتی ہے جو عام پیداواری حالات میں اس وقت کی مروّج مہارتِ محن کے ساتھ چیز کی تیاری کے لئے ضروری ہوتی ہے۔جب انگلستان میں پاور لوم متعا رف ہوئی تو کپڑے کی بنائی کے لئے درکار محن میں تقریباً نصف کے برابر کمی ہوئی ۔جبکہ کھڈی والے جولاہے کو ایک مخصوص مقدار میں کپڑا بننے میں اب بھی اتنا ہی وقت لگتا تھا جتنا کہ پہلے۔لیکن ان کی ایک گھنٹے کے محن کی پیداوار اس تبدیلی کے بعد سماجی طور پر آدھے گھنٹے کے محن کے برابر رہ گئی۔چنانچہ اس کی قدر میں بھی پہلے کی نسبت نصف تک کی کمی واقع ہوئی۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرتی معیار کے مطابق مقدارِ محن یا عرصۂ محن ہی ایسے عوامل ہیں جو کسی چیز کی قدر کے حجم کی تعیین کر سکتے ہیں 9؂ ۔اس لحاظ سے ہر ایک شے انفرادی سطح پر اپنی ہی طرز کی دوسری اشیاء کا نمونہ پیش کرتی ہے 10؂ ۔چنانچہ اشیاء جن پر ایک برابر مقدارِمحن یا عرصۂ محن صرف ہوا ہو قدر کے حساب سے برابر ہوں گی۔ ایک شے کی قدر کا دوسری شے کی قدر سے وہی تعلق ہو گا جو ایک شے کے لئے ضروری عرصۂ محن کا دوسری شے کے لئے ضروری عرصۂ محن سے ہے۔اقدار ہونے کے ناتے تمام اشیاء منجمد عرصۂ محن کی ٹھوس اشکال ہیں ۔11؂

اگر ایک شے کی تیاری کے لئے درکار عرصۂ محن میں تبدیلی نہ ہو تو اس کی قدر بھی مستقل رہے گی ۔لیکن محن کی پیداواری مہارت کی ہر تبدیلی عرصۂ محن پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔تاہم یہ پیداواری مہارت کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے؛یہ کہ مزدور کی اوسط مہارت کس درجے کی ہے؟سائنس کا کیا معیار ہے اور اس کی کون سی سطح بروئے کار لائی جا رہی ہے؟ پیداوار کی سماجی در و بست کیاہے ؟اور دیگر مادی طبعی حالات کی کیا صورتِ حال ہے؟ مثال کے طور پر جتنی مقدارِ محن سازگار طبعی حالات میں آٹھ من غلّہ کی تیاری کے لئے استعمال ہوتی ہے ،اتنی ہی ناسازگار طبعی حالات میں صرف چار من غلّہ کی تیاری کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح جس مقدارِ محن سے ایک اچھی کان سے زیادہ مال حاصل ہوتا ہے،نسبتاً کم اچھی کان سے اسی مقدارِ محن سے کم مال حاصل ہو گا۔ہیرا چونکہ زمین کی ایک نادر معدن ہے اس لئے اس کی تلاش کے لئے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے،چنانچہ ایک چھوٹی شے میں زیادہ مقدارِ محن مجتمع ہو جاتی ہے۔جیکب گمان کرتا ہے آیا کہ سونے کی قیمت کبھی بھی اس کی حقیقی قدر کے مسا وی رہی ہے؟یہ بات ہیرے کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔اسکیویگ( Eschwegeٌ)کے مطا بق سال 1832 تک برازیل میں ہیرے کی کانوں کی اسی سال کی کل پیداوار اسی ملک کی چینی اور کافی کی چھ ماہ کی اوسط پیداوار کو بھی نہیں چھوتی،حالانکہ ہیرے پر زیادہ محن صر ف ہو تا ہے اس لحاظ سے اس کی قدر بھی زیادہ ہے۔اچھی کانوں میں یہی مقدارِ محن اپنے آ پ کو زیادہ ہیروں میں سمو دے گی اور اس کے نتیجے میں ان کی قدر بھی کم ہو جائے گی۔اگر ہم تھوڑی سی مقدار ِ محن صرف کرکے کوئلے کو ہیرے میں بدل سکیں تو ان کی قدر اینٹوں سے بھی کم رہ جائے گی۔مجموعی طور پرہم کہ سکتے ہیں کہ جس حساب سے محن کی پیداواری صلاحیت بڑھے گی اسی حساب سے چیز کی صناعی کے لئے درکار عرصۂ محن کم ہو گا۔چنانچہ اس چیز کی مقدارِ محن میں بھی کمی ہو گی،اور




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

قدرِصرف اور قدر(قدرکی ماہیت اور قدر کا اجماع) ان داشلائوں میں استعمال ھے
اشیاء
شے کے دو عناصر - موضوع کے دوسرے داخلے