قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 828
عنوان قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 230720
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی11

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

باب 11

Chapter XI

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار

Rate and Mass of the Surplus value

اردو ترجمہ : امتیاز حسین، ابن حسن

جیسا کہ اب تک [ہم نے فرض کیا]، اس باب میں قوتِ محن کی قدر اوراسی طرح اُس قوتِ محن کی تخلیقِ نو یا بحالی کے لئے درکار دیہاڑی کے حصے کی مستقل مقدارو ں کوطے شدہ لیا جا رہا ہے۔

اس مفروضے کو قائم کرنے کے بعد، قدرِ زائد کی شرح کے ساتھ ساتھ اس [قدرِ زائد]کی مجموعی مقدار بھی موجود ہوتی ہے جو ایک مزدور وقت کے ایک خاص دورانیے میں سرمایہ دار کے لئے مہیاکرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر لازم محن کی روزانہ کی مقدار 6گھنٹے ہو جو سونے کی مقدار میں ظاہر ہوتے ہوئے 3شلنگ کے مساوی بن جائے تو اس صورت میں 3شلنگ اُس ایک قوتِ محن کی روزانہ کی قدر، یا اس سرمائے کی قدر ہو گی جو قوتِ محن کی خریداری میں لگایا گیا۔ اب اگر قدرِ زائد کی شرح 100%ہو تو اس صورت میں 3شلنگ کی مالیت کا یہ تغیر پذیر سرمایہ 3شلنگ کے مساوی مقدار کی قدرِ زائد پیدا کرے گا، یا مزدور ہر روز 6گھنٹے کے برابر محنِ زائد کی مقدار مہیا کرے گا۔

لیکن ایک سرمایہ دار کا تغیر پذیر سرمایہ اُن تمام قوت ہائے محن کی مجموعی قدر کا روپے میں اظہار ہوتا ہے جسے سرمایہ دار یک مُشت کھپا دیتا ہے۔چنانچہ اس کی قدر ایک قوتِ محن کی اوسط قدر کے مساوی ہوتی ہے جس کو قوت ہائے محن کی تعداد سے ضرب دے دی جاتی ہے۔ لہٰذا قوتِ محن کی ایک دی گئی مقدار کے حوالے سے تغیر پذیر سرمائے کا حجم یک مُشت لگائے جانے والے مزدوروں کی تعداد کی رو سے راست طور پر بدلتا ہے۔ اگر ایک قوتِ محن کی روزانہ کی قدر 3شلنگ کے مساوی ہو تو اس صورت میں محن کی 100قوتوں کے روزانہ کے استحصال کے لئے ضروری ہے کہ 300شلنگ کے مساوی سرمایہ لگایا جائے، اور محن کی قوتوں[مزدوروں] کی nتعداد کے روزانہ استحصال کے لئے 3شلنگ سے nگُنا زیادہ ۔

اسی طرح اگر 3شلنگ کا تغیر پذیر سرمایہ ایک مزدور کی روزانہ کی قدر ہو، اور اس سے روزانہ 3شلنگ کی قدرِ زائد پیدا ہو رہی ہو تو 300شلنگ کے برابر تغیر پذیر سرمایہ روزانہ 300شلنگ کے مساوی قدرِ زائد پیدا کرے گا ، اور 3شلنگ کے nگُنا روزانہ 3شلنگ کی nگُنا قدر پیدا کرے گا۔چنانچہ پیدا کی جانے والی قدرِ زائد کی مجموعی مقدار اُس قدرِ زائد کے مساوی ہے جو ایک مزدور کی دیہاڑی کو کام پر لگائے جانے والے مزدوروں کی کُل تعداد سے ضرب دینے پر حاصل ہوتی ہے۔ لیکن پھر یہ بھی ہے کہ قدرِ زائد کی وہ مجموعی مقدارجسے ایک تنہا مزدور پیدا کرتا ہے اُس کو قدرِ زائد کی شرح سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ پیدا کی جانے والی قدرِ زائد کی مجموعی مقدار لگائے جانے والے تغیر پذیر سرمائے اور قدرِ زائد کی شرح کے حاصلِ ضرب کے مساوی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، اس کا تعین یک مُشت استعمال کی جانے والی محن کی قوتوں اورہر تنہا قوتِ محن کے استحصال کے درجے کی مجموعی اوسط سے اخذ ہوتی ہے۔

فرض کریں کہ قدرِ زائد کی مجموعی مقدار Sہے، اور ایک تنہا مزدور کی مہیا کردہ روزانہ کی اوسط قدرِ زائد s ؛ اور ایک قوتِ محن کی خریداری پر لگنے والے تغیر پذیر سرمائے کی مقدار v، اور تغیر پذیر سرمائے کی کُل مقدر V، اور ایک قوتِ محن کی اوسط قدر Pہے، اوراس کے استحصال کی سطح :-03(یعنی محنِ زائد تقسیم محنِ لازم)، اور لگائے جانے والے مزدوروں کی تعداد n ہو تو ہمارے پاس ذیل کی مساوات حاصل ہو گی:

-03

یہ بات ہمیشہ ہی فرض کی جاتی ہے کہ نہ صرف اوسط قوتِ محن کی قدر مستقل ہوتی ہے بلکہ جن مزدوروں کو سرمایہ دار ملازم رکھتا ہے اُنہیں بھی اوسط حد تک کم کر دیا جاتا ہے۔ ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کہ پیدا کی جانے والی قدرِ زائد میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد کے تناسب سے اضافہ نہ ہوا ہو، بلکہ اس صورت میں قوتِ محن کی قدر مستقل نہیں رہتی۔

لہٰذا قدرِ زائد کی ایک خاص مقدار کی پیداوار میں ایک پہلو کی کمی کسی دوسرے پہلو کی زیادتی سے دور ہو جاتی ہے۔ اگر تغیر پذیر سرمایہ کم ہو جائے اور اس کے ساتھ ہی قدرِ زائد کی شرح اُسی تناسب سے بڑھ جائے تو اس صورت میں پیدا ہونے والی قدرِ زائد کی مجموعی مقدار میں کوئی کمی بیشی نہیں لائے گی۔ہمارے اس سے قبل کے مفروضے کی رو سے اگرسرمایہ دار 100مزدوروں کے روزانہ کے استحصال کے لئے 300شلنگ کی سرمایہ کاری کرے ، اور اگر قدرِ زائد کی شرح 50%ہو تو اس صورت میں 300شلنگ کا یہ تغیر پذیر سرمایہ 150شلنگ ،یا 100×3کام کے گھنٹوں کی قدرِ زائد پیدا کرے گا۔ اگر قدرِ زائد کی شرح دُگنی ہو جائے ، یا دیہاڑی کی طوالت 6سے بڑھا کر 9 گھنٹے کے بجائے 12گھنٹے کر دی جائے اور ساتھ ہی تغیر پذیر سرمائے کو گھٹاتے ہوئے 150شلنگ تک محدود کر دیا جائے ، تو اس صورت میں بھی 150شلنگ یا کام کے 50×6گھنٹوں کے مساوی قدرِ زائد پیدا ہو گی۔ چنانچہ تغیر پذیر سرمائے کی کمی کو قوتِ محن کے استحصال کی تناسبی بڑھوتری سے پورا کیا جا سکتا ہے؛ یا یہ کہ کام پر لگائے جانے والے مزدوروں کی کمی کو دیہاڑی کی طوالت میں اضافہ کرتے ہوئے پورا کیا جا سکتاہے۔کچھ حدودکے اندر سرمائے کے استحصال شدہ محن کی رسد مزدوروں کی رسد سے آزاد ہے۔ اس سے برخلاف اگر تغیر پذیر سرمائے کی مقدار یا لگائے جانے والے مزدوروں کی تعداد اسی تناسب میں بڑے تو قدرِ زائد کی شرح میں آنے والی کمی کی وجہ سے ، قدرِ زائد کی مجموعی مقدار پر کوئی اثر پڑتا۔

لگائے جانے والے مزدوروں کی تعداد یا تغیر پذیر سرمائے کی مقدار میں آنے والے کمی کوقدرِ زائد کی شرح میں اضافے یا دیہاڑی کی طوالت میں اضافے کے ذریعے پوراکیا جائے تب بھی اس کی آخری حدود ہوتی ہیں۔قوتِ محن کی قدر چاہے جو بھی ہو، چاہے مز




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار ان داشلائوں میں استعمال ھے
قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے