قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 828
عنوان قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 231631
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی11

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

ور کی بحالی کے لئے درکار عرصۂ محن 2گھنٹے ہو یا 10گھنٹے، وہ کُل قدر جو ایک مزدور ہر روز پیدا کر سکتا ہے ہمیشہ اُس قدر سے کم ہو گی جس میں محن کے 24گھنٹے مجتمع ہیں، یعنی اگر حاصل ہونے والے 24گھنٹے کے محن کا اظہار 12شلنگ بنے تو یہ 12شلنگ سے کم ہو گی۔ہمارے پہلے والے مفروضے کی رو سے _ جس کے مطابق محن کے 6گھنٹے خود قوتِ محن کی روزانہ کی بحالی کے لئے یا اس کی خریداری میں خرچ ہونے والی سرمائے کی مقدار کی باز تخلیق کے لئے ضروری ہیں_ 1,500شلنگ کا تغیر پذیر سرمایہ جو 500مزدوروں کو قدرِ زائد کی 100%شرح پر 12گھنٹے کی دیہاڑی پر استعمال کرتے ہوئے 1,500شلنگ یا محن کے 500×6 گھنٹے کی قدرِ زائد پیدا کرتا ہے۔ 300شلنگ مالیت کا سرمایہ جو 100مزدوروں کو 200%کی قدرِ زائد کی شرح کے ساتھ یا 18گھنٹے کی دیہاڑی میں استعمال کرتا ہے ، وہ صرف 600شلنگ کے مساوی یا محن کے 12×100 گھنٹے کی قدرِ زائد کی مجموعی مقدار پیدا کرتا ہے۔اور اس کی کُل قدری مصنوعہ جو لگائے جانے والے تغیر پذیر سرمائے اور قدرِ زائد کے حاصلِ جمع کے برابر ہوتا ہے، کسی دن بھی 1,200شلنگ یا محن کے 24×100گھنٹوں کی قدر کے مساوی نہیں ہو سکتا۔ ایک اوسط دیہاڑی کی مطلق حد _جو فطری طور پر ہمیشہ 24 گھنٹے سے کم ہوتی ہے_ تغیر پذیر سرمائے کی کمی کو قدرِ زائد کی زیادہ بلند شرح سے، یا استحصال ہونے والے مزدوروں کی تعداد میں کمی کو قوتِ محن کے استحصال کی زیادہ بڑی سطح کے ذریعے پورا کرنے کی آخری حد متعین کرتی ہیں۔یہ سیدھا سادہ قانون بہت سارے مسائل کو سمجھنے میں اہم مدد دیتا ہے۔یہ مسائل سرمائے کے اُس رُجحان( اس پر بعد میں بحث کی جائے گی)سے پیدا ہوتے ہیں جس کے تحت یہ جس قدر ممکن ہو کام پر لگائے جانے والے مزدوروں کی تعداد میں کمی کرتا ہے؛ یا پھر اس[سرمائے] کے تغیر پذیر متبادل کو جو قوت محن میں تبدیل ہوتا ہے کم سے کم کرتا ہے۔ یہ رجحان قدرِ زائد کی مجموعی مقدار کے زیادہ سے زیادہ حصول سے بالکل متضاد ہے۔دوسری طرف اگر کھپائے جانے والی قوتِ محن ، یا تغیر پذیر سرمائے کی مقدار میں اضافہ ہو جائے ، مگر یہ اضافہ قدرِ زائد کی شرح میں کمی کے تناسب کے حساب سے نہ ہو، تو اس صورت میں پیدا ہونے والی قدرِ زائد کی مجموعی مقدار میں کمی آئے گی۔

پیدا کی جانے والی قدرِ زائد کے حجم کے تعین سے ایک تیسرا قانون جنم لیتا ہے جس میں دو عوامل شامل ہیں: ایک، قدر زائد کی شرح ؛ دوسرے ،لگائے جانے والے تغیر پذیر سرمائے کی رقم ۔ قدرِ زائد کی شرح یا قوتِ محن کے استحصال کی سطح،اور قوت محن کی قدر یا لازم وقت محن کی مقدار [متعین ہو] تو یہ بات از خود عیاں ہے کہ تغیر پذیر سرمایہ جتنا زیادہ ہو گا،اُس سے پیدا ہونے والی قدر اور قدرِ زائدکی مجموعی مقدار اُتنی ہی زیادہ ہو گی۔ اگر دیہاڑی کی طوالت اور اس کے لازم عناصرِ ترکیبی کی حدمتعین ہو ، تو قدر اور قدرِ زائد کی وہ مجموعی مقدار جو ایک تنہا سرمایہ دار پیدا کرتا ہے واضح طور محن کے اُس حجم پر منحصر ہو گی جسے وہ استعما ل میں لاتا ہے۔ لیکن متذکرہ بالا شرائط کے تحت اس کا دارومدار قوتِ محن کی مقدار یا اُن مزدوروں کی تعداد پر ہے جس کا وہ استحصال کرتاہے۔ یہ بھی ہے کہ مزدوروں کی یہ تعداد لگائے جانے والے تغیر پذیر سرمائے کی مقدار سے متعین ہو گی۔ چنانچہ اگر قدرِ زائد کی شرح اور قوتِ محن کی قدر دونوں متعین ہوں تو پیدا ہونے والی قدرِ زائد کی مجموعی مقدار لگائے جانے والے تغیر پذیر سرمایوں کی مقداروں کے حوالے سے براہِ راست بدلے گی۔اب ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سرمایہ دار اپنے سرمائے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک حصہ وہ ذرائع پیداوار پر خرچ کرتا ہے۔یہ اس کے سرمائے کا بقا پذیر حصہ ہے۔ دوسرا حصہ وہ زندہ محن کی خریداری میں کھپاتا ہے۔یہ حصہ اس کے تغیر پذیر سرمائے کو تشکیل دیتا ہے۔ پیداوار کی سماجی طبع چاہے بنیادی طور پر ایک ہی ہو ، سرمائے کی بقا پذیر اور تغیر پذیر حصوں میں تقسیم پیداوار کی مختلف شاخوں میں حتیٰ کہ پیداوار کی ایک ہی شاخ میں بھی مختلف ہو گی۔ یہ تعلق پیداوار ی عمل میں موجود تکنیکی حالات اور سماجی روابط میں تبدیلی کی وجہ سے بدلتا ہے۔ لیکن ایک خاص مقدار کا سرمایہ چاہے جس تناسب میں بھی بقا پذیر اور تغیر پذیر سرمائے میں تقسیم ہو ؛ چاہے آخرالذکر سے اول الذکر 1:2کے تناسب میں ہو ، 1:10 کے تناسب میں ہو یا پھر 1:xکے تناسب ہی میں کیوں نہ ہو اس سے اُس قانون پر کوئی فرق نہیں آتا جو ابھی ابھی اخذ کیا گیا ہے۔ کیونکہ ہمارے ماقبل کے تجزیے کی رو سے بقاپذیر سرمائے کی قدر مصنوعہ کی قدر میں دوبارہ نمودار ہو جاتی ہے، لیکن یہ نئی پیدا ہونے والی قدر ، نئی بننے والی قدری مصنوعہ میں داخل نہیں ہوتی۔ 100کاتنے والوں کی جگہ اگر 1,000کاتنے والے لگائے جائیں تو یقینی بات ہے کہ اُنہیں نسبتاً زیادہ مواد، اور زیادہ تکلوں وغیرہ کی ضرورت ہو گی۔تاہم ان اضافی ذرائع پیداوار کی قدر کم بھی ہو سکتی ہے، بڑھ بھی سکتی ہے اور یکساں بھی رہ سکتی ہے،یہ زیادہ بھی ہو سکتی ہے یاتھوڑی بھی رہ سکتی ہے لیکن یہ اُس قوتِ محن کے ذریعے پیدا ہونے والی قدرِ زائد پر کوئی اثر نہیں ڈالتی جو اِ نہیں چلاتی ہے۔ جس قانون کی اوپر وضاحت کی گئی ہے اب اس نے ذیل کی شکل اختیار کر لی ہے: مختلف سرمایوں کی پیدا کی جانے والی قدر اور قدرِ زائد کی مجموعی مقداریں _اگر قوتِ محن کی قدر متعین ہو اور ان کے استحصال کی سطح برابر ہو_ اُسی تناسب میں بدلیں گی جس میں اِن سرمایوں کے تغیر پذیر اجزائے ترکیبی کی مقداریں بدلتی ہیں؛ مطلب یہ کہ جس تناسب میں اُن کے اجزائے ترکیبی زندہ قوتِ محن میں بدلتے ہیں۔

یہ قانون واضح طور پر اُن تمام تجربات سے ٹکراتا ہے جس کی بنیاد ظواہر پر ہے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ ایک روئی کاتنے والا جو _اپنے لگائے جانے والے سرمائے کی اوسط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے _زیادہ بقا پذیر اور زیادہ تغیر پذیر سرمایہ لگاتا ہے ، وہ اپنے حساب سے کسی طرح بھی ایک بیکری والے سے کم نفع یا قدرِ زائد نہیں کماتا،جو اُس کی نسبت سے زیادہ تغیر پذیر اور کم بقا پذیر سرمایہ لگاتاہے۔ اس ظاہری تضاد کے حل کے لئے بہت سے درم




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار ان داشلائوں میں استعمال ھے
قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے