قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 828
عنوان قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 230737
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی11

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

انی مراحل ابھی تک درکار ہیں، جیسے ابتدائی الجبرے کی رو سے اس بات کو سمجھنے کے لئے بہت سارے درمیانی مراحل کی ضرورت ہوتی ہے کہ -03ایک حقیقی مقدار کو بھی بیان کر سکتا ہے۔ کلاسیکی معیشت ،اس قانون کو اخذ کئے بغیر بھی،فطری طور پر اسی کی تابع ہے، کیونکہ یہ قدر کے عمومی قانون کا لازمی نتیجہ ہے۔یہ ایک زبردست تجریدکے ذریعے اس قانون کو متضاد مظاہیر سے ٹکرانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب آگے چل کر ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ ریکارڈو کا اسکول اس رُکاوٹ میں کس طرح اُلجھ کر رہ جاتاہے۔ولگر معاشیات جس نے در اصل واقعی کچھ نہیں سیکھا ، ہر مقام کی طرح جو یہاں بھی محض ظواہر سے چمٹ کر رہ گئے ہیں جواُن قوانین سے مخالفت میں ہیں جو ان کی وضاحت کرتے ہیں اور انہیں منضبط کرتے ہیں۔سپائینوزا کی مخالفت میں اسے یقین ہے کہ جہالت ایک معقول وجہ ہے۔

وہ محن جسے سماج کا کُل سرمایہ روزانہ استعمال میں لاتا ہے اُسے ایک اجتماعی دیہاڑی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر لوگوں کی کُل تعداددس لاکھ ہو اور ایک مزدور کے لئے اوسط دیہاڑی 10گھنٹے کی ہو تو سماجی دیہاڑی دس ملین گھنٹوں پر مشتمل ہو گی ۔ اس دیہاڑی کی ایک متعینہ طوالت کے ساتھ ، چاہے اس کی حدود کا تعین طبعی طور پر کیا جائے یا معاشرتی طور پر، قدرِ زائد کی مجموعی مقدار میں اضافہ صرف اس صورت میں ہو گا جب مزدوروں کی تعداد ، یعنی کام کرنے والی آبادی ،بڑھائی جائے گی۔ یہاں پر آبادی کی نشوونما کُل سماجی سرمائے کی پیدا کی ہوئی قدرِ زائد کی ریاضیاتی حد تشکیل دیتی ہے۔ اس کے بر عکس ،آبادی کی ایک خاص تعداد کے ساتھ یہ حد دیہاڑی کی ممکنہ حد تک طوالت سے تشکیل دی جاتی ہے۔ تاہم اس کے بعد آنے والے باب میں دیکھا جائے گا کہ یہ قانون قدرِزائد کی محض اسی بُنتر پر لاگو ہوتاہے جسے اب تک زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

تاہم اب تک جوقدرِ زائد کی پیداوار کو زیرِ بحث لایا گیا ہے اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ روپے یا قدر کی ہر مقدارکواپنی مرضی سے سرمائے میں نہیں بدلا جا سکتا۔ در حقیقت اس تبدیلی کے لئے ، قدرِ مبادلہ کی کسی چھوٹی سے چھوٹی مقدار کو اُس فرد کے ہاتھ میں ماقبل ہی تصور کرنا ہو گا جو روپے یا اشیاء کا حامل ہے۔ تغیر پذیر سرمائے کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ قوتِ محن کی لاگتی قیمت ہے، جس کو ہر روز ،پورے سال کے لئے قدرِ زائد کی پیداوار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر یہ مزدور اپنے ذرائع پیداوار پر خود ہی قابض ہو اور محنت کنندہ کی حیثیت ہی سے زندگی بسر کرکے مطمئن ہو جائے تو اسے اُتنے عرصے سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت نہ تھی جو اس کے ذرائع بقا کی باز تخلیق کے لئے درکارہے، فرض کریں کہ یہ وقت روزانہ آٹھ گھنٹے ہے۔اس کے علاوہ اُس کو صرف اُتنے ذرائع پیداوار کی ضرورت ہو گی جو اس کے آٹھ گھنٹے کے کام کے لئے کافی ہوں۔ جبکہ سرمایہ دار جو اُس کو ان آٹھ گھنٹوں سے زیادہ وقت تک، یوں کہہ لیں کہ آٹھ گھنٹے کے محنِ زائد کے لئے، کام کرنے پر مجبور کرتا ہے، اُسے اضافی ذرائع پیداوار کی فراہمی کے لیے اضافی رقم درکار ہوتی ہے۔ تاہم ہمارے مفروضے کی رو سے اُس کو زندہ رہنے کے لئے دو مزدور لگانے پڑیں گے،ایک تو روزانہ حاصل کی گئی قدر زائد پر؛ دوسرے اس قابل ہونے کے لئے کہ ایک مزدور ہی کی طرح اپنی لازمی ضروریات کی تسکین کے لئے ۔اس مسئلے میں زندگی کی محض بحالی ہی اس کی پیداوار کا حاصل ہو گی ، نہ کہ دولت میں اضافہ؛ لیکن آخرالذکر کو سرمایہ دارانہ پیداوار میں اختیار کیا جاتا ہے۔ اوراس مقصد کے لئے کہ وہ ایک عام مزدور کی نسبت صرف دُگنا زندہ رہ سکے،علاوہ ازیں پیدا ہونے والی قدرِ زائد کا آدھا سرمائے میں بدلے ،اس کو مزدوروں کی تعداد کے ساتھ بڑھائے جانے والے کم از کم سرمائے کو 8گُنا زیادہ کرنا پڑے گا۔ یقینا اپنے مزدور کی طرح وہ خود بھی کام میں براہِ راست حصہ لیتے ہوئے اس میں شامل ہو سکتا ہے،لیکن اس صورت میں وہ مزدور اور سرمایہ دار کی ملی جلی کوئی چیز ہی ہو گا،یعنی ایک چھوٹا مالک۔ سرمایہ دارانہ پیداوار کے ایک خاص درجے میں آ کر یہ بات لازمیت اختیار کر جاتی ہے کہ سرمایہ دار اپناسارا وقت جس کے دوران وہ ایک سرمایہ دار، مطلب یہ کہ تجسیم شدہ سرمائے کے بطور کام کرتا ہے، اس بات کے لئے وقف کرے کہ دوسروں کے محن کو حاصل اور منظم کرنے میں کامیاب ہو سکے اور اس محن کی مصنوعات کو فروخت کر سکے۔عہدِ وسطیٰ کے گِلڈ( ہم پیشہ افراد) اسی وجہ سے مزدوروں کی اس تعداد کو محدود تر کرتے ہوئے جو ایک مالک استعمال کر سکتا تھا،ایک تجارت کے مالک کو سرمایہ دار بننے سے زبردستی روکتے تھے۔ روپے یا اشیاء کا حامل محض اس صورت میں سرمایہ دار بنتا جب پیداوار کے لئے لگائی جانے والی مزدوروں کی کم از کم تعداد عہدِ وسطیٰ کی زیادہ سے زیادہ تعداد سے تجاوز کرتے ہوئے کہیں زیادہ ہو جاتی۔یہاں پر اُس فطری سائنس کی درُستگی کو بیان کیا گیا ہے جس کو ہیگل نے اپنی [کتاب] Logicمیں دریافت کیا تھا۔محض مقداری حوالے سے پایا جانے والا فرق جب ایک حد سے تجاوز کر جاتا ہے تو وہ ایک خواصی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔

قدر کے مجموعے کا وہ کم از کم جوروپے یا اشیاء کے حامل ایک شخص کے پاس ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنے آپ کو سرمایہ دار میں بدل سکے سرمایہ دارانہ پیداوار کے مختلف درجات میں، خاص اور تکنیکی عوامل کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ پیداوار کے کئی کُرے سرمایہ دارانہ نظامِِ پیداوار کے آغا ز میں بھی اُس کم سے کم سرمائے کا تقاضا کرتے ہیں جو ابھی تک ایک فرد کے ہاتھ میں آنے نہیں پایا۔ جیسا کہ کولبرٹ کے دور میں فرانس اور ہمارے دور میں کئی جرمنی ریاستوں میں ہوا، یہ جزوی طور پر عام شہری کے لئے ریاستی سبسڈی کی وجہ ہے، اوران سوسائیٹیوں کی تشکیل کی بھی جزوی وجہ ہے جنہیں قانونی طور پر صنعت کی مختلف شاخوں کو بروئے کار لانے کی اجارہ داری حاصل ت




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار ان داشلائوں میں استعمال ھے
قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے