قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 828
عنوان قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 231632
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی11

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

ی۔ یہ جدید جائنٹ سٹاک کمپنیوں کی پیشرو تھیں۔

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ پیداوار ی نظام کے اندر سرمائے کو محن پر ، یعنی کام کرتی ہوئی قوتِ محن یا خود مزدور پر، بالا دستی درکار ہوتی ہے۔ سرمایہ دار جو کہ سرمائے کی تجسیمی صورت ہوتا ہے اس بات پر توجہ دیتا ہے کہ اُس کا مزدور باقاعدگی سے اور پوری تندہی کے ساتھ کام کرے۔

پھر سرمایہ زبردستی کا رویہ اختیار کر لیتا ہے جو مزدور طبقے کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اُس سے زیادہ کام کریں جتنا اُس کی اپنی ضروریاتِ زندگی کا تنگ دائرہ تقاضا ہے۔ دوسروں کی سرگرمیوں کے پیدا کنندہ کی حیثیت سے، محنِ زائد کے حصول کنندہ اور قوتِ محن کے استحصال کنندہ کی حیثیت سے یہ توانائی، پابندیوں کی خلاف ورزی، لا پرواہی اور چالاکی کے لحاظ سے اُن تمام پیداواری نظاموں سے آگے نکل جاتا ہے جو براہِ راست محنِ لازم پر انحصار کرتے تھے۔

سب سے پہلے سرمایہ محن کو اُن تکنیکی صورت احوال کی بنیاد پر اپنا مطیع بناتا ہے جن میں وہ تاریخی طور پر موجود ہوتا ہے۔چنانچہ یہ خود بخود ہی طبعِ پیداوار کو نہیں بدلتا۔ جیسا کہ ہم نے اب تک جائزہ لیا ہے، محض دیہاڑی کی طوالت میں اضافے سے قدرِ زائد کی پیداوار یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ خود طبعِ پیداوار کی کسی قسم کی بھی تبدیلی سے آزاد ہے۔یہ انداز جدید روئی کے کارخانوں کی نسبت سے قدیم انداز کے بھٹیار خانوں میں کم فعال نہ تھا۔

اگر ہم پیداواری عمل کا سیدھے سادے عملِ محن کے نقطۂ نظر سے جائزہ لیں ، تو ہم دیکھیں گے کہ مزدور ذرائع پیداوار کے ساتھ وابستہ ہے؛ ان[ذرائع پیداوار ]کے سرمایہ ہونے کے خاصے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ یہ اُس کی اپنی ذہنی پیداواری سرگرمی کے لئے مواد اور ذریعے کی حیثیت رکھتے ہیں۔مثال کے طور پر چمڑہ سازی میں وہ کھالوں کو اپنے محن کے مقصد کے بطور ہی استعمال کرتا ہے۔ وہ سرمایہ دار کی کھال کو نہیں رنگتا۔ لیکن جیسے ہی ہم پیداواری عمل کا جائزہ قدرِ زائد پیدا کرنے والے عمل کے بطور لیں گے تو ہم دیکھیں گے کہ یہ ایک مختلف چیز ہے۔اچانک ہی ایسا ہوتا ہے کہ ذرائع پیداوار دوسروں کے محن کو چوسنے کے ذرائع بن جاتے ہیں۔اب یہ مزدور نہیں جو اِن ذرائع پیداوار کو استعمال میں لاتا ہے، بلکہ اب تو ذرائع پیداوار ہی مزدور کو استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ اُس کی پیداواری سرگرمی کے مادی عناصر کے بطور خرچ ہو جانے کے بجائے وہ[ذرائع پیداوار] اُس کو اپنے عملِ حیات کے لئے ضروری ایندھن کے بطور استعمال کر جاتے ہیں۔ اور سرمائے کا عملِ حیات محض اس کی حرکت پر منحصر ہوتا ہے جس میں قدر مسلسل طور پر بڑھ رہی ہے ، اور اپنے اندر مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔بھٹیاں اور کارخانے جو رات کو بند پڑے رہتے ہیں، اور کوئی زندہ محن چوس نہیں رہے ہوتے ، سرمایہ دار کے نزدیک یہ محض نقصان ہی نقصان ہے۔ چنانچہ بھٹیاں اور کارخانے مزدوروں کے رات کے محن کے لئے قانونی دعویٰ دائر کر دیتے ہیں۔ یہ سادہ سی تبدیلی جس میں روپیہ پیداواری عمل کے مادی عناصر،یعنی ذرائع پیداوارمیں بدل جاتا ہے آخرالذکر کو ایک ایسے حق میں بدلتی ہے جو اسے دوسروں کے محن اور محنِ زائد پر حاصل ہوتا ہے۔ نتیجہ اخذ کرنے میں ایک مثال سے ہم یہ دیکھیں گے کہ یہ نفاست،جو سرمایہ دارانہ پیداوار کا خاصہ ہے اور اسی سے مخصوص ہے_ زندہ اور مُردہ محن کے درمیان موجود یہ تعلق ، قدر اور اس قدر کی پیداکنندہ قوت کے درمیان موجود تعلق کا یہ اُلٹ پھیر اپنے آپ کو کس طرح سرمایہ دار کے ذہن میں اُجاگر کر تا ہے۔ 1848اور 1850کے درمیان اُٹھنے والی انگریز فیکٹری مالکان کی تحریک ، سکاٹ لینڈکے مغربی علاقوں کے قدیم ترین اور معزز ترین خاندانوں میں Messrs. Carlile Sons& co. نام کا ایک خاندان جو سوت اور روئی کا دھاگہ بنانے والی ایک مِل واقع Paisleyکا مالک تھا، یہ کمپنی قریباً ایک صدی قبل سے کام کررہی تھی جو 1752سے چالو حالت میں تھی، اور اسی خاندان کی چار نسلوں نے اس کی دیکھ بھال کی تھی..... اس بہت ذہین آدمینے اُس وقت گلاسگو کی روزانہ کی ڈاک میں 25اپریل 1849کو ریلے سسٹم کے عنوان کے تحت ایک خط ارسال کیا۔ اس خط میں دوسری باتوں کے ساتھ ذیل میں درج مضحکہ خیز سا اقتباس بھی آتا ہے: اب ہم ....دیکھتے ہیں کہ کارخانے کے کام کو 10گھنٹے تک محدود کرنے میں کون سی بُرائیاں حائل ہوتی ہیں.....۔اُن کا مطلب ہے کہ مِل کے مالک کی امیدیں اور خوشحالی شدید خطرے میں پڑ جائیں۔ اگر وہ( مطلب کہ اُس کے ہاتھ )اس سے پہلے 12گھنٹے کام کرتے تھے اور اب اس کام کو دس گھنٹے تک محدود کر دیا جائے تو اس صورت میں اس کی لگائی ہوئی 12مشینیں یا تکلے سمٹ کر 10رہ جائیں۔ اور اگر [اس کے بعد] کام بند کر دیا جائے تو ان کی قدر صرف 10کی رہ جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہواکہ مُلک کے ہر کارخانے کی قدر میں سے چھٹا حصہ منہا ہو جائے۔

مغربی سکاٹ لینڈ کی اس بورژوازی ذہنیت _جسےچار نسلوں کی سرمایہ دارانہ خصوصیات ورثے میں ملی ہیں _میں ذرائع پیداوار، اور تکلوں وغیرہ کی قدر اس طرح سے اُن کی ملکیت سے گھلی مِلی ہوئی ہے، جیسے سرمایہ، خود ان کی اپنی قدر کو پھیلانے کے لئے اور ہر روز دوسروں کی اس محن کو نگلنے کے لئے جس کی اُجرت ادا نہیں کی جاتی؛ مطلب یہ کہ Carlile & Co.نامی فرم کا مالک اصل میں سمجھتا ہے کہ اگر وہ اپنا کارخانہ فروخت کر دے تو اس کو نہ صرف تکلے کی قدر ادا کی جائے گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اُن کی وہ قوت بھی جس کے تحت قدرِ زائد حاصل کی جاتی ہے؛ نہ صرف ان میں مجسم شدہ محن جتنا اس قسم کا تکلا بنانے کے لئے درکار ہوتا ہے، بلکہ وہ محنِ زائد بھی جو ان کی مدد سے وہ [فیکٹری کے مالکان] Paisleyکے جفاکش باشندوں سے اسے حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اور یہی وجہ اسے یہ بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر دیہاڑی کے 2گھنٹے کم کر دئے جائیں تو کاتنے والی 12مشینوں کی قیمتِ فروخت کم ہو کر 10مشینوں کے برابر رہ جائے گی!





حوالہ جات




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار ان داشلائوں میں استعمال ھے
قدرِ زائد کی شرح اور مجموعی مقدار
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے