قدرِ زائد کی پیداوار : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 808
عنوان قدرِ زائد کی پیداوار
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 227280
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِ زائد کی پیداوار کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِ زائد کی پیداوار - کی دوسری شاخیں-

قدرِ زائد کی پیداوار


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

فصلِ سوم:- قدرِ زائد کی پیداوار



جو مصنوعہ سرمایہ دار کیحصول ہے وہ قدرِ صرف ہے ، جیسے دھاگہ، جوتے وغیرہ ۔ لیکن اگرچہ جوتے ایک طرح سے تمام سماجی ترقی کی بنیاد ہیں، اور ہمارا سرمایہ دار طے شدہ طور پر ‘‘ترقی پسند’’ ہے اس کے باوجود وہ جوتے برائے جوتے تیار نہیں کرتا۔ قدرِ صرف اشیاء کی پیداوار میں مقصود بالذات نہیں ہوتی۔ صرف سرمایہ دار ہی اقدارِ صرف پیدا کرتا ہے ، کیونکہ اور جہا ں تک کہ وہ عنصر اولیٰ substratum ، یعنی اقدارِ مبادلہ کا اجماع ہوتی ہیں۔ ہمارے سرمایہ دار کے پیشِ نظر دو مقاصد ہیں : پہلی صورت میں وہ ایک ایسی قدر صرف پیدا کرنا چاہتاہے جو قدر مبادلہ کی حامل ہو، مطلب یہ کہ ایک ایسی چیز جو فروخت ہو نا ہے یعنی ایک شے؛ اور دوسری صورت میں وہ ایک ایسی شے پیدا کرنا چاہتا ہے جس کی قدر ان اشیاء کی اقدار کے کل مجموعے سے زیادہ ہو جو اس کی پیداوار میں استعمال ہوئی ہیں، یعنی کہ ، ذرائع پیداوار کی اور قوتِ محن کی جو اس نے کھلی منڈی میں اپنے ذاتی روپے کے عوض خرید کی تھیں۔اس کا مقصد نہ صرف قدرِ صرف پیدا کرنا ہے بلکہ ایک شے بھی ، نہ صرف قدرِ صرف بلکہ قدر بھی ، نہ صرف قدر بلکہ اسی وقت قدرِ زائد بھی۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس وقت ہمارا موضوع اشیاء کی پیداوار ہے ، اور یہ کہ اس مقام تک ہم اس عمل کا صرف ایک پہلو زیرِ بحث لائے ہیں۔ جیسے اشیاء بیک وقت اقدارِ صرف اور اقدار ہوتی ہیں بالکل اسی طرح ان کو پیدا کرنے والا عمل بھی عملِ محن اور اسی وقت قدر تخلیق کرنے والا عمل ہونا چاہیے۔ 11؂

اب ہم پیداوار کو قدر پیدا کرنے والے عمل کی رو سے دیکھتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ ہر شے کی قدر اس پر خرچ آنے والے اور اس میں شامل ہونے والے محن کی مقدار سے متعین ہوتی ہے، یعنی اس وقتِ کار سے جو خاص سماجی حالات کے تحت اس کی پیداوار کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ اصول اس مصنوعات کے سلسلے میں بھی درست ثابت ہوتاہے جوہمارے سرمایہ دار نے حاصل کی ہیں، جواس کے لئے ہونے والے عمل محن کا نتیجہ ہے۔مصنوعہ کو 10پونڈ سوت تصور کرتے ہوئے پہلا مرحلہ یہ ہو گا کہ اس میں شامل ہونے والے محن کا حساب لگائیں ۔

سوت کو کاتنے کے لئے خام مال درکار ہو گا، اس معاملے میں ہم 10پونڈ روئی فرض کرتے ہیں ۔ فی الوقت ہمیں اس کی قدر کی چھان بین کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہم فرض کریں گے کہ ہمارے سرمایہ دار نے اسے اس کی پوری قدر میں خریدا ہے جو ہم 10شلنگ فرض کرتے ہیں۔ اس قیمت میں روئی کی پیداوار کے لئے درکار محن سماج کے اوسط محن کی شکل میں ماقبل ہی اظہار پا چکا ہے۔ ہم یہ بھی فرض کرتے ہیں کہ تکلا ،ہمارے موجودہ مفروضے کے مطابق، استعمال میں آنے والے دیگر آلاتِ محن کی نمائندگی کرتے ہوئے 2شلنگ کی قدر کے برابر گھس سکتا ہے۔اب اگر 24گھنٹے کا محن یا دو دہاڑیاں سونے کی اس مقدار کو پیدا کرنے کے لئے درکار ہیں جنہیں 10شلنگ بیان کر رہے ہیں، تو یہاں پرآغاز ہی میں ہمارے پاس سوت میں متجسم دو دن کا محن پہلے سے موجود ہے۔

ہمیں اس بات سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ جس دوران روئی نے نئی شکل حاصل کی ہے اس دوران تکلے کی ماہیت کسی حد تک استعمال ہوئی ہے۔قدر کے عمومی قانون کی رو سے اگر 40گرام سوت کی قدر = 40گرام روئی کی قدر + پورے تکلے کی قدر، یہ کہ اگر مساوات کی دونوں طرف موجود اشیاء کی تیاری کے لئے ایک جیسا عرصۂ محن ہی درکار ہو تو پھر سوت کے 10گرام روئی کے 10گرام، ساتھ ہی تکلے کے ایک چوتھائی حصے کے لئے مساوی القدر کا درجہ رکھیں گے۔ ہمارے پیشِ نظر معاملے میں ایک طرف 10گرام سوت میں اور دوسری طرف 10گرام روئی اور تکلے کی معمولی سی گھسائی میں برابر برابر عرصۂ محن متجسم ہوا ہے۔اس لئے قدر چاہے روئی میں ظاہر ہو یا تکلے میں یا پھر سوت میں اس سے قدر کی مقدار میں کوئی فرق نہیں آتا۔ تکلا اور روئی ایک ساتھ جامد پڑے رہنے کے بجائے اس عمل کو اکٹھے اختیار کر لیتے ہیں ان کی بنتروں میں تبدیلی آتی ہے اور وہ سوت میں تبدیل ہو جاتے ہیں؛ لیکن اس حقیقت سے ان کی [اپنی ]قدر پر اس سے زیادہ کوئی اثر نہیں پڑا ، اگر ایسا ہوتا کہ انہیں صرف دھاگے میں ان کے مساوی القدر سے تبدیل کر لیا گیا ہوتا۔

محن جو روئی کی پیداوار کے لئے ضروری ہے جو سوت کے لئے خام مال کی حیثیت رکھتی ہے، [درحقیقت] اس محن کا حصہ ہے جو سوت کو پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے، چنانچہ وہ بھی سوت میں موجود ہے۔یہی بات تکلے میں متجسم محن کے لئے بھی صادق آتی ہے جس کی گھسائی بغیر روئی کو کاتا نہیں جا سکتا تھا۔

پس سوت کی قدر یا اس کی پیداوار کے لئے درکار محن متعین کرنے میں وہ تمام خصوصی عمل جو مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر جاری رہتے ہیں اور جو اولاً روئی اور تکلے کا گھسا ہوا حصہ پیدا کرنے کے لئے اور ثانیاً سوت کاتنے کے لئے روئی اور تکلے کے ساتھ ضروری تھے ، ان تمام کو ایک ہی عمل کے درجہ بہ درجہ مدارج کی حیثیت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوت میں موجود تمام کا تمام محن ماضی سے متعلق ہے۔ اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ اس کے تشکیلی عناصر کی پیداوار کے لئے مختلف اوقات کے دوران جاری ضروری عوامل جو موجودہ صورتِ حال سے متعلق ہیں، کاتنے کے آخری مرحلے کی نسبت زیادہ دور کے ہیں۔ اگر محن کی ایک مخصوص مقدار، فرض کریں 30دن، ایک مکان کی تعمیر کے لئے درکار ہو تو اس میں متجسم ہونے والے محن کی مجموعی مقدار اس حقیقت سے متاثر نہیں ہوتی کہ آخری دن کا کام پہلے دن سے انتیس دن بعد ختم ہوا ہے۔ چنانچہ خام مال اور آلاتِ محن میں موجود محن کو ایسا ہی سمجھا جائے گا کہ یہ کاتنے کے عمل کے ابتدائی مرحلے میں خرچ ہوا تھایعنی کتائی کے محن کے حقیقی طور پر لگنے سے قبل۔

ذرائع پیداوار یعنی روئی اور تکلے کی اقدار جو 12شلنگ قیمت میں ظاہر ہوئی ہیں اس لحاظ سے سوت یا دوسرے لفظوں میں کی قدر کے تشکیلی اجزا ہیں

دو شرائط کا پورا ہونا بہر طور ضروری ہے۔ پہلے یہ کہ روئی اور تکلے کو قدرِ صرف کی پیداوار کے لئے ایک ساتھ حصہ لینا ہو گا۔ موجودہ صورت میں اُنہیں بہر صورت سوت میں بدلنا ہے۔ قدر اس خاص قدرِ صرف سے آزاد ہوتی ہے جس سے یہ پیدا ہو ، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی قدرِ صرف میں متجسم ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کی پیداوار کے دوران استعمال ہونے والا محن کسی صورت میں بھی اس خاص وقت سے ت




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

قدرِ زائد کی پیداوار ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی کی تطویل
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے