قدرِ زائد کی پیداوار : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 808
عنوان قدرِ زائد کی پیداوار
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 227294
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِ زائد کی پیداوار کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِ زائد کی پیداوار - کی دوسری شاخیں-

قدرِ زائد کی پیداوار


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

اوز نہ کرنے پائے جو سماجی طور پر اس معاملے کے لئے لازمی ہے۔ چنانچہ اگر 1گرام سوت کاتنے کے لئے محض 1گرام روئی ہی درکار ہو تو اس بات کی طرف توجہ دینا ہو گی کہ 1گرام سوت کی پیداوار میں اس سے زیادہ روئی ہر گز استعمال نہ ہو، اور یہی معاملہ تکلے کے ساتھ بھی ہے۔ اگر سرمایہ دار اس کو مشغلہ سمجھے اور لوہے کے تکلے کے بجائے طلائی تکلا استعمال کرے ، اس کے باوجود سوت کی قدر کے سلسلے میں صرف اسی محن کو گنا جائے گا جو لوہے کے تکلے کو بنانے کے لئے درکار ہو گا، کیونکہ مخصوص سماجی حالات میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔

اب ہم جان چکے ہیں کہ سوت کی قدر کا وہ کون سا حصہ ہے جوروئی اور تکلے کی بدولت ہے۔ اس کی مالیت 12شلنگ یا پھر دو دن کے محن کی قدرہے۔ ہماری توجہ کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ سوت کی قدر کا کون سا حصہ کاتنے والے کے محن کے ذریعے روئی میں داخل ہوا ہے۔

اب ہمیں محن کو ایک ایسے پہلو کے تحت دیکھنا ہے جوعملِ محن کے دوران اپنائے گئے پہلو سے بہت مختلف ہے۔ تب ہم نے اس کو محض انسانی سرگرمی کی اس خاص قسم کے بطور دیکھا تھا جو روئی کو سوت میں بدلتی ہے۔ وہاں پر معاملہ یوں تھا کہ دیگر حالات کے مستقل رہتے ہوئے ، محن کی کام کے ساتھ مطابقت جتنی زیادہ ہو گی سوت اتنا ہی زیادہ بہتر ہو گا۔ کاتنے والے کے محن کو اس وقت دوسری اقسام کے ہنر یافتہ محن سے مخصوص طور پر ہی مختلف سمجھا گیا تھا، ایک طرف اپنے خاص مقصد یعنی کاتنے کی رو سے مختلف اور دوسری طرف اپنے عمل کے مخصوص خاصے کی رو سے مختلف، یعنی اس کے ذرائع پیداوار کی مخصوص نوعیت کی رو سے اور اس کی مصنوعہ کی مخصوص قدرِ صرف کی رو سے۔کتائی کی سرگرمی کے لئے روئی اور تکلا لازمیت کا درجہ رکھتے ہیں ، لیکن توپ بنانے کے سلسلے میں ان کی خاک اہمیت نہ ہو گی۔ یہاں اس سے برعکس ، جبکہ ہم نے کاتنے والے کے محن کو محض قدر پیدا کرنے والے محن کے بطور ہی دیکھا ہے ، یعنی قدر کا منبع،تو یہ محن توپ بنانے والے کے محن سے کسی طور پر بھی مختلف نہیں ہے، یا( جس سے اس مقام پر ہمارا زیادہ قریب کا تعلق ہے )روئی کاشت کرنے والے اور تکلا ساز کے محن سے جو ذرائع پیداوار میں شامل ہیں۔ یہ محض اسیہم آہنگی ہی کی بدولت ہے کہ روئی کی کاشت، تکلا سازی اور کتائی اجزائے ترکیبی بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں ، اور جو ایک کُلیت یعنی سوت کی قدر میں ایک دوسرے سے محض خواصی اعتبار سے مختلف ہیں ۔ اس مقام پر ہمیں محن کے خاصے ،اس کی نوعیت اور اس کی مخصوص خاصیت سے کوئی سروکار نہیں بلکہ صرف اس کی مقدار سے۔ اور اس کا تو آسانی سے شمار بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہم اس مفروضے پر آگے بڑھتے ہیں کہ کتائی ایک سادہ،غیر ہنر یافتہ محن ہے یعنی کسی سماج کی خاص حالت میں اوسط درجے کا محن۔اس کے بعد ہم یہ دیکھیں گے کہ اس سے متضاد نظریہ اختیار کرنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

جس دوران مزدور سرگرمِ عمل ہو تو اس کا محن مستقل طور پر ایک تبدیلی سے دوچار ہوتا رہتا ہے۔ فعال عنصر سے یہ ایک غیر فعال چیز میں بدل جاتا ہے۔ کام کرتے ہوئے مزدور سے یہ ایک مصنوعہ چیز کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ ایک گھنٹے کی کتائی کے بعد وہ عمل سوت کی ایک خاص مقدار سے بیان کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں محن کی ایک خاص مقداریعنی ایک گھنٹے کا محن، روئی میں متجسم ہو چکا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ محن یعنی کاتنے والے کی زندہ قوت کا خرچ نہ کہ کتائی کا محن، کیونکہ یہاں پر کاتنے کاخاص عمل اہمہے اور وہ صرف اس حد تک کہ یہ قوتِ محن کا عمومی خرچ ہے، نہ اس لئے کہ یہ کاتنے والے کا مخصوص کام ہے۔

جو عمل اس وقت ہمارے زیرِ بحث ہے اس میں یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ روئی کی سوت میں تبدیلی پر اس سے زیادہ وقت خرچ نہیں ہونا چاہیے جتنا مخصوص سماجی حالات میں ضروری ہے۔ اگر پیداوار کی نارمل یا اوسط سماجی شرائط کے تحت aپونڈ روئی کو ایک گھنٹے کے محن کے ذریعے bپونڈ سوت میں بدلنا مقصود ہو تو اس صورت میں ایک دن کا محن 12گھنٹے کا محن اس وقت تک متصور نہیں ہو گاجب تک روئی کے 12aپونڈ کو سوت کے 12bپونڈ میں نہ بدلاجائے ۔ کیونکہ قدر کی پیداوار میں سماجی طور پر ضروری محن ہی گنا جاتا ہے۔

اب نہ صرف محن بلکہ خام مال اور مصنوعہ بھی بالکل نئے انداز میں روشناس ہوئے ہیں، اس سے بہت مختلف جیسے ہم نے ان کو عملِ محن میں خالص اور سادہ انداز میں دیکھا تھا۔ خام مال اب محض محن کی مخصوص مقدار کے جاذب کا کام دے رہا ہے۔ لیکن یہ تجاذب در حقیقت سوت میں بدل چکا ہے کیونکہ اب یہ کاتا جا چکا ہے، کیونکہ کتائی کی صورت میں قوتِ محن اس میں شامل ہو چکا ہے۔ لیکن مصنوعہ یعنی سوت اب بجز اس محن کی مقدار کے اور کچھ نہیں جس کو روئی جذب کر چکی ہے۔اگر ایک گھنٹے میں 1 -BDگرام روئی سوت کی شکل میں کاتی جا سکے تو پھر 10گرام سوت 6گھنٹے کے محن کی تجذیب ظاہر کرے گی۔ مصنوعات کی مخصوص مقداریں ، اور یہ مقداریں تجربے سے متعین ہوتی ہیں، اب یہ ما سوائے محن کی ایک مخصوص مقدار ، یعنی متجسم شدہ عرصۂ محن کے مخصوص حجموں کے اور کچھ نہیں بیان کرتی۔ وہ اتنے گھنٹوں یا اتنے دنوں کی سماجی محن کی تجسیم کے سوا اور کچھ نہیں۔

اس مقام پر ہمارا اُن حقائق کے ساتھ مزید کوئی تعلق نہیں کہ محن کتائی کا مخصوص کام ہے یعنی اس کا معمول روئی اور مصنوعہ سوت ہے، پھر ہمارے سامنے یہ حقیقت ہے کہ معمول خود بھی مصنوعہ ہی تھا اور خام مال تھا۔ اگر کاتنے والا کتائی کے بجائے کوئلے کی کان میں کام کر رہا ہو تو اس کے محن کی مصنوعہ یعنی کوئلہ فطرت کا مہیا کردہ ہو گا۔ تا ہم کان کنی کے بعد حاصل ہونے والے کوئلے کی ایک خاص مقدار ،مثال کے طور پر ہنڈرڈ ویٹ، خرچ ہونے والے محن کی ایک خاص مقدار کو بیان کرے گی۔

ہم نے قوتِ محن کی فروخت کے وقت اس کی قدر 3شلنگ تصور کی تھی اور اس رقم میں 6گھنٹے کا محن متجسم تھا۔ نتیجتاً یہ کہ محن کی یہ مقدار مزدور کی ضروریاتِ زندگی کی پیداوار کے لئے اوسطاً درکار ہوں گی۔ اگر اب ہمارا کاتنے والا ایک گھنٹے کے کام سے روئی کے1 2/3 گرام کو سوت کے 1 2/3 گرام میں بدل سکتا12؂ ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ چھ گھنٹے میں وہ 10گرام روئی کو 10گرام سوت میں بدل لے گا۔ پس کتائی کے عمل کے دوران روئی 6گھنٹے کا محن جذب کر لیتی ہے۔ سونے کے اُس ٹکڑے میں بھی محن کی یہی مقدار متجسم ہوتی ہے جس کی قدر 3شلنگ ہو۔ نتیجتاً محض کتائی ہی کے محن سے روئی میں 3شلنگ کی قدر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

اب ہم مصنوعہ یعنی 10گرام سوت کی مجموعی قدر کو زیرِ غور لاتے ہیں۔اس میں اڑھائی دن کا محن متجسم ہے ، جس میں سے دو دن کا محن روئی میں اور تکلے کی ماہیت کی گھسائی میں استعمال میں آیا اور آدھا دن کتائی کے عمل کے دوران خرچ ہوا۔ اڑھائی دن کا یہ محن بھی 15شلنگ قدر کے حامل سونے کے ٹکڑے سے بیان کیا گیا۔ پس 15شلنگ 10گرام سوت کی ایک معقول قیمت ہے ، یا پھر ایک پونڈ سوت کی قیمت 18پینس ہے۔

ہمارا



ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

قدرِ زائد کی پیداوار ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی کی تطویل
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے