قدرِ زائد کی پیداوار : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 808
عنوان قدرِ زائد کی پیداوار
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 227293
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِ زائد کی پیداوار کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِ زائد کی پیداوار - کی دوسری شاخیں-

قدرِ زائد کی پیداوار


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

href='article.php?Dflt=سرمایہ&x=0'>سرمایہ دار حیرت کا شکار ہے۔ مصنوعہ کی قدر بڑھائے گئے سرمائے کے بالکل مساوی ہے۔اس طرح سے بڑھنے والی قدر بڑھینہیں ، یعنی کوئی قدرِ زائد پیدا نہیں ہوئی ، اور نتیجتاً روپیہ سرمائے میں نہیں بدلنے پایا۔سوت کی قیمت 15شلنگ ہے اور15شلنگ کی رقم کھلی منڈی میں محن کے اجزائے ترکیبی پر خرچ ہوئی تھی، یا کہنے کا مطلب یہی ہے کہ عملِ محن کے اجزاء پر۔ دس شلنگ روئی کے عوض ادا کئے گئے ، دو شلنگکے مساوی تکلے کی ماہیت گھس گئی اور تین شلنگ قوتِ محن کے لئے۔ سوت کی پھیلی ہو قدر کسی کام کی نہیں کیونکہ یہ محض ان اقدار کا مجموعہ تھا جو سابقہ طور پر روئی میں موجود تھا یعنی تکلا اور قوتِ محن۔پہلے سے موجود اقدار کی اس طرح کے سادہ اضافے میں سے کسی قسم کی قدر ِ زائد ممکنہ طور پر نہیں پیدا ہو سکتی۔13 ؂ یہ الگ الگ اقدار اب ایک چیز میں مرکوز ہو چکی ہیں۔ لیکن اشیاء کی خریداری کے وقت جب ابھی یہ تین اجزا میں منقسم نہیں تھیں اس وقت بھی شلنگ کی رقم ہی میں تھیں۔

در حقیقت اس نتیجے میں کوئی چیز بھی بہت زیادہ عجیب نہیں۔ 1پونڈ سوت کی قدر 18پینس ہی رہے اور ہمارا سرمایہ دار اگر منڈی سے 10گرام سوت خریدے تو اسے اس سوت کے عوض 15شلنگ ہی ادا کرنا ہوں گے۔ یہ بات واضح ہے کہ چاہے ایک شخص تیار شدہ مکان خریدے ، یا اس کو خود تیار کرائے دونوں صورتوں میں حصولِ مکان کا طریقہ اس رقم میں اضافہ کرے گا جو اس مقصد کے لیے رکھی گئی ہے۔

ہمارا سرمایہ دار جو اپنی ولگر معاشیات سے آگاہی رکھتا ہے، یوں چلا اٹھتا ہے:

‘‘ اُف ! میں نے تو روپیہ صرف اس لئے لگا یا تھا کہ اس سے زیادہ روپیہ حاصل کروں۔ ’’شاہراہِ جہنم نیک ارادوں کے ساتھ پختہ کرنے کے مترادف ہے، لیکن وہ تو اتنی آسانی سے روپیہ بنانے کے چکروں میں ہے کہ جسے کچھ پیداوار کئے بغیر ہی حاصل کر لیا جائے۔ 14؂ وہ تمام اقسام کی دھمکیاں دیتا ہے۔وہ آئندہ ان چکروں میں نہیں پڑے گا۔ مستقبل میں از خود تیار کرنے کے بجائے وہ اشیاء منڈی سے خریدے گا۔ لیکن اگر اس کے ساتھی سرمایہ دار سب کے سب ایسا ہی کرنا شروع کر دیں تو وہ منڈی میں اپنی حصے کی اشیاء کہاں سے حاصل کرے؟ اور یہ روپیہ وہ کھا بھی نہیں سکتا۔ وہ اب دوسروں کو مائل کرنے کے چکروں میں ہے۔‘‘ دیکھیے میری جز رسی ؛ میں اپنے 15شلنگ کو فضولیات میں بھی تو کھپا سکتا تھا ۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا اور ان کو تعمیری کا م میں صرف کرتے ہوئے سوت بنا لیا ہے۔ ’’بہت اچھے لیکن اس کے بدلے کے طور پر اس کے پاس اب اچھا سوت ہے نہ کہ ضمیر کا پچھتاوا۔ اور ایک کنجوس کا کردار ادا کرتے ہوئے اُسے اس طرح کی بُری راہوں پر میں کبھی نہیں جانا چاہیے۔ہم پہلے ہی یہ دیکھ چکے ہیں کہ اس قسم کی راہبانیت کن نتائج سے دوچار ہوتی ہے۔اس کے علاوہ جہاں کچھ نہیں ہوتا وہاں بادشاہ کے حقوق بھی جاتے رہتے ہیں۔ سرمایہ دار کی جز رسی کی جو بھی خوبی ہو ، کوئی ایسی چیز نہیں جس سے خاص طور پر اس کو معاوضہ مل سکے ، کیونکہ مصنوعہ کی قدر محض ان اشیاء کی اقدار کا مجموعہ ہے جو پیداوار کے عمل میں بھیجی گئیں۔اب سرمایہ دار کو یہ سوچ کر اپنے آپ کو تسلی دینا چاہیے کہ نیکی اپنا معاوضہ خود ہی ہے۔ لیکن نہیں، اسے اطمینان نہیں ملتا ۔ اور وہ زور دے کر کہتا ہے:‘‘سوت کا مجھے خاک فائدہ نہیں۔ میں نے اس کو بیچنے کے لیے بنایا تھا۔ ’’اس صورت میں ہم اس کو بیچنے دیتے ہیں، یا پھر اس سے بہتر یہ ہو گا کہ وہ مستقبل میں صرف ایسی چیزیں پیدا کرے جو صرف اس کی ذاتی حاجات کی تسکین کریں۔ یہ ایسا حل ہے جس کو اس کا معالج میک کلاچ ماقبل ہی ضرورت سے زیادہ پیداوار کی روک تھام کا مجرب نسخہ قراردے چکا ہے۔ اب وہ اڑیل پن کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ:‘‘ آیا کوئی مزدور صرف اپنے ہاتھ پاؤں استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی چیز کے اشیاء پیدا کرسکتا ہے؟ کیا میں نے اس کو وہ مواد فراہم نہیں کیا جس کے ذریعے سے او ر صرف اسی کے ذریعے اس کا محن متجسم ہو سکتا ہے؟ اور کیونکہ سماج کا بڑا حصہ اسی قسم کے خستہ حال افراد پر مشتمل ہے ، تو کیا میں نے اپنے آلاتِ محن ، اپنی روئی ،اپنا تکلا مہیا کر کے نہ صرف معاشرے کی بلکہ مزدور کی بھی بے حساب خدمت نہیں کی، جس کو ساتھ ساتھ میں نے زندگی کی سہولیات بھی مہیا کی ہیں؟ تو کیا مجھے ان خدمات کے بدلے میں کسی چیز کا مستحق نہیں ٹھہرتا؟’’ اچھا تو کیا مزدور نے اس کی روئی کو سوت میں بدل کر اس کومساوی خدمات لوٹا نہیں دیں؟ تاہم یہاں پر خدمات کا مزید کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔ 15؂خدمت کسی قدرِ صرف کے مفید اثر کے سوا کچھ نہیں، چاہے یہ شے کی شکل میں ہو یا محن کی شکل میں۔ 16؂ لیکن یہاں ہمارا تعلق قدرِ مبادلہ کے ساتھ ہے۔ سرمایہ دار نے مزدور کوپورے 3شلنگ کی قدر کی رقم ادا کی جو اُس نے روئی میں شامل کی تھی۔ چنانچہ اس نے اُسے قدر کے بدلے قدر دی۔ہمارا سرمایہ دار جو اب تک اپنی دولت کے غرور میں تھا ، اچانک ہی اپنے مزدور کا انکساری والا رویہ اپنا لیتا ہے کہتا ہے:‘‘ کیا میں نے خود کام نہیں کیا؟ کیا میں نے محن کی نگہبانی کا کام سر انجام نہیں دیا اور کاتنے والے کی نگرانی نہیں کی؟ تو کیا یہ محن قدر پیدا نہیں کرتا؟ اُس کے نگران اور منیجر اپنی مسکراہٹیں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران میں سرمایہ دار ایک بھر پور قہقہہ لگا کر اپنا عادی رویہ اپنا لیتاہے۔ اگرچہ وہ ہمارے سامنے معیشت دانوں کے پورے جتھے کی نغمہ سرائی کرتا ہے ، لیکن درحقیقت وہ کہتا ہے کہ وہ اس کے لئے پھوٹی کوڑی بھی نہیں ادا کرے گا۔وہ اس کو اور اس قسم کے تمام لفظی ہیر پھیر اور مداری گری کو سیاسی معاشیات کے پروفیسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے، جنہیں اس کام کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ وہ خود ایک عملی آدمی ہے اور اگرچہ وہ اُن باتوں کی طرف کبھی دھیان نہیں دیتا جو وہ اپنے کاروبار سے ہٹ کر کرتا ہے، تاہم اپنے کاروبار میں وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کیا کہنا ہے۔

اب اس مسئلے پر مزید غور کرتے ہیں ۔ ایک دن کی قوتِ محن کی قدر 3شلنگ کے برابر ٹھہرتی ہے، کیونکہ ہمارے مفروضے کے مطابق قوتِ محن کی مقدار میں آدھے دن کا محن متجسم ہے، کیونکہ روزانہ کی قوتِ محن پیداکرنے کے لئے درکار ذرائع خوردونوش آدھے دن کا محن خرچ کرتے ہیں۔




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

قدرِ زائد کی پیداوار ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی کی تطویل
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے