قدرِ زائد کی پیداوار : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 808
عنوان قدرِ زائد کی پیداوار
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 227296
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِ زائد کی پیداوار کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِ زائد کی پیداوار - کی دوسری شاخیں-

قدرِ زائد کی پیداوار


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

لیکن محنِ ماضی جو قوتِ محن میں متجسم ہے جس محنِ زندہ کو یہ متحرک کر سکتا ہے، اور اس کو برقرار رکھنے کی روزانہ کی لاگت اور اس کی روزانہ کے کام میں کھپت دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ اول الذکر سے قوتِ محن کی قدرِ مبادلہ متعین ہوتی ہے اور آخرالذکر سے قدرِ صرف۔ یہ حقیقت کہ آدھے دن کا محن مزدور کو 24گھنٹے تک زندہ رکھتا ہے ، اس کو کسی طور پر بھی پورا دن کام کرنے سے نہیں روکتی۔ چنانچہ قوتِ محن کی قدر اور وہ قدر جو عملِ محن کے دوران یہ قوتِ محن پیدا کرتی ہے ، دونوں بالکل مختلف مقداریں ہیں۔ اور ہر دو اقدار کا یہ فرق ہی وہ چیز تھی جو قوتِ محن کی خریداری کے دوران سرمایہ دار کے پیشِ نظر تھی۔ وہ مفید خواص جن کی قوتِ محن حامل ہوتی ہے ، اور جن کی بدولت یہ سوت یا جوتے بناتا ہے، سرمایہ دار کے لیے اولین اور ضروری شرط کی حیثیت رکھتی ہیں۔کیونکہ قدر پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ محن کو کار گر انداز میں خرچ کیا جائے۔ جس چیز نے سرمایہ دار کو حقیقتاً متاثر کیا تھا، وہ مخصوص قدرِ صرف تھی جس کی یہ شے نہ صرف قدر کا ذریعہ ہوتے ہوئے بلکہ خود اپنی قدر سے زیادہ کا ذریعہ ہوتے ہوئے حامل تھی۔ یہی وہ خصوصی خدمت ہے جس کی سرمایہ دار قوتِ محن سے توقع کرتا ہے، اور اس معاملت میں وہ اشیاء کے مبادلے کے ‘‘ازلی اصولوں’’ کے مطابق ہی کام کرتا ہے۔قوتِ محن بیچنے والا کسی بھی شے کے فروخت کنندہ کی مانند اس کی قدرِ مبادلہ حاصل کرتے ہوئے اس کی قدرِ صرف سے الگ ہو جاتا ہے۔ وہ ان میں سے ایک کو دوسری دیئے بغیر ہی حاصل نہیں کر سکتا۔ قوتِ محن کی قدرِ صرف یا دوسرے لفظوں میں محن اس کے بیچنے والے سے اتنا ہی کم تعلق رکھتی ہے ، جتنی کہ تیل کی قدرِ صرف اس کے بِک جانے کے بعد بیچنے والے سے تعلق رکھے۔ روپے کے حامل نے ایک دن کی قوتِ محن کی قدر ادا کر دی ہے۔چنانچہ اِس کی ایک دن کی قدرِ صرف اب اُس کی ہے ، یعنی اس کی ملکیت ہے۔ وہ صورتِ حا ل یہ ہے کہ ایک طرف قوتِ محن کا گزارے کا روزانہ خرچ کی لاگت آدھے دن کے محن میں پوری ہو جاتی ہے اور دوسری طرف یہی قوتِ محن سارا دن کام کر سکتی ہے،اور نتیجتاً یہی وہ قدر ہے جس کا ایک دن کے دوران استعمال اُس سے دوگنا پیدا کر لیتا ہے جو وہ اس کے لئے ادا کرتا ہے۔ اور یہ صورتِ حال [قوتِ محن کے] خریدار کے لئے نیک فال ثابت ہوتی ہے اور فروخت کنندہ کے لئے کسی نقصان کا باعث نہیں بنتی۔

ہمارے سرمایہ دار نے حالات کی اس نوعیت سے ماقبل ہی آگاہی حاصل کر لی، اور یہی اس کے قہقہے کی وجہ تھی۔ چنانچہ مزدور کارخانے میں کام کے لئے درکار ضروری ذرائع پیداوار نہ صرف 6گھنٹوں کے لئے بلکہ پورے 12گھنٹوں کے لئے [موجود] پاتاہے ۔جس طرح 6گھنٹے کے عملِ محن کے دوران ہماری روئی کے 10پونڈ نے چھ گھنٹوں کا محن جذب کر لیا تھا ، اور 10پونڈ سوت میں بدل گئی تھی، بالکل اسی طرح روئی کے 20پونڈ 12گھنٹوں کا محن جذب کر لیں گے اور 20پونڈ سوت میں بدل جائیں گے۔ اب اس توسیع شدہ عمل کی مصنوعات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اب سوت کے اس 20پونڈ میں پانچ دن کا محن متجسم ہے جس میں سے چار دن کا محن روئی کا اور تکلے کے گھسنے کا ہے ، اور باقی ایک دن روئی کے کاتنے میں خرچ ہوا ہے۔اگر پانچ دن کے محن کو سونے میں ظاہر کیا جائے تو یہ 30شلنگ کا ہے ۔ چنانچہ یہی 20پونڈ سوت کی قیمت ہے جیسا کہ اس سے قبل 18پینس ایک پونڈ کی قیمت تھی۔ لیکن اس عمل میں داخل ہونے والی اشیاء کی اقدار کا مجموعہ 27شلنگ بنتا ہے۔سوت کی قدر 30شلنگ ہے ۔ لہٰذا مصنوعہ کی قدر اس کی پیداوار کے لئے بڑھائی جانے والی قدر سے 1/9 بڑی ہے ، یعنی 27شلنگ 30شلنگ میں تبدیل کئے جا چکے ہیں اور 3شلنگ کی قدرِ زائد پیدا ہو چکی ہے۔ آخر کار نسخہکامیاب ہو چکا ہے اور روپیہ سرمائے میں بدل چکا ہے۔

اس مسئلے کی ہر شرط پوری ہو چکی ہے، جبکہ اشیاء کی گردش کو منضبط کرنے والے قوانین کی کسی طرح بھی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ مساوی القوت کی ادائیگی مساوی القوت سے ہوئی ہے۔ سرمایہ دار نے خریدار کی حیثیت سے ہر شے، روئی ، تکلے اور قوتِ محن کی بھی ادائیگی اس کی پوری قدر کے مطابق کی ہے ۔ مزیداس نے وہی کام کیا جو اشیاء کا ہر خریدار کرتاہے؛ اس نے ان کی اقدارِ صرف کو کھپادیا۔ قوتِ محن کی کھپت جو کہ اشیاء پیداکرنے کا عمل بھی تھا سوت کے 20پونڈ میں ظاہر ہوا جس کی قدر 30شلنگ تھی۔ سرمایہ دار جو ماقبل خریدار تھا ، اب اشیاء کے فروخت کنندہ کی حیثیت سے منڈی میں پلٹ آیا ہے۔ وہ اپنے سوت کو 18پینس فی پونڈ کے حساب سے فروخت کر دیتا ہے، جو اس کی ٹھیک ٹھیک قدر ہے۔ اس کے باوجود وہ گردش میں جتنے اُس نے داخل کیے تھے ان سے 3شلنگ زیادہ حاصل کر لیتا ہے ۔ یہ صوری تبدیلی یعنی روپے کی سرمائے میں تبدیلی گردش کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر رونما ہوتی ہے۔ گردش کے اندر اس طرح کہ منڈی سے قوتِ محن کی خریدای اس کے لئے شرط تھی۔ گردش سے باہر اس طرح کہ جو کچھ بھی اس میں ہوا وہ صرف قدرِ زائد کی پیداوار کے لئے پہلا زینہ تھا، یعنی ایک ایسا عمل جو محض پیداوار کے دائرے تک ہی محدود ہے۔ممکنات کی دنیا میں یہ سب سے زیادہ بہتر طور پر ممکن ہے۔

اپنے روپے کو ان اشیاء میں بدل کر جو نئی مصنوعہ کے مادی عناصر کا کام دیتی ہیں، اور عملِ محن میں عوامل کا ، زندہ محن کو ان کی مردہ ماہیتوں میں مجتمع کر کے ،سرمایہ دار بیک وقت ، ماضی کی ،مجسم شدہ، اور مردہ محن کو سرمائے میں بدل لیتا ہے۔ ایک ایسی قدر میں جو قدر سے [مل کر] بڑی ہے۔ اس کی مثال زندہ عفریت کی سی ہے جو ثمر آور بھی ہے اور بڑھتا بھی جاتاہے۔

اب اگر ہم قدر پیدا کرنے والے اور قدرِ زائد پیدا کرنے والے دو عملوں کا موازنہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ آخرالذکر عمل اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ اول الذکر عمل کا ایسا تسلسل ہے جو ایک خاص نقطے سے آگے بڑھ چکا ہے۔اگر ایک طرف اس عمل کو اس نقطے سے آگے جاری نہ رکھا جائے جہاں پر سرمایہ دار کی قوتِ محن کے لئے ادا کردہ قدر اُس کے ٹھیک ٹھیک مساوی القدر سے بدل جاتی ہے، تو یہ صرف سادہ انداز میں قدر




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

قدرِ زائد کی پیداوار ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی کی تطویل
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے