قدرِ زائد کی پیداوار : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 808
عنوان قدرِ زائد کی پیداوار
شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
پڑھا گیا 227295
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدرِ زائد کی پیداوار کے بنیاد
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدرِ زائد کی پیداوار - کی دوسری شاخیں-

قدرِ زائد کی پیداوار


شاخ مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ4
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

پیدا کرنے کا عمل ہے ؛ اگر دوسری طرف یہ اس خاص نقطے سے آگے جاری رکھی جائے تو یہ قدرِ زائد پیدا کرنے کا عمل بن جاتاہے۔

اگر ہم مزید آگے بڑھیں اور قدر پیدا کرنے والے عمل کا خالص اور سادہ عملِ محن سے موازنہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آخرالذکر محنِ مفید پر مشتمل ہے یعنی وہ کام جو قدرِ صرف پیدا کرتاہے۔یہاں پر ہم محن کو ایک خاص چیز پیدا کرتے ہوئے پاتے ہیں؛ ہم اس کو محض خواصی پہلو ہی سے دیکھ رہے ہیں، اس کے منتہا اور مقصد کی رو سے۔ لیکن اگر قدر پیدا کرنے والے عمل کی حیثیت سے دیکھا جائے تو یہی عملِ محن اپنے آپ کو صرف مقداری حوالے سے پیش کرتا ہے۔ تاہم یہاں پر سوال محض اس وقت کا ہے جو مزدور کام کے دوران استعمال میں لایا، یعنی اس عرصے کے دوران جب قوتِ محن مفید طور پر خرچ ہوئی۔ یہاں پر جو اشیاء اس عمل میں حصہ لیتی ہیں وہ اب ایک خاص مفید چیز کی پیداوار کے سلسلے میں قوتِ محن کے لئے لازمی معاون کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ وہ صرف جذب [خرچ] شدہ محن یا مجسم شدہ محن کی اجماع ہیں ، یعنی ایسا محن جو چاہے ذرائع پیداوار میں ہی ماقبل مجسم ہو یا پھر ان میں اس کی تجسیم عمل [عملِ محن] کے دوران قوتِ محن کی بدولت ہوئی ہو۔یہ ہر دو صورتوں میں صرف اپنے دورانیے کے مطابق گردانا جاتا ہے۔یہ صورت حال کی رو سے اتنے گھنٹوں یا دنوں کو محیط ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ، کسی چیز کی پیداوار پر خرچ ہونے والا صرف اُتنا ہی وقت شمار کیا جا سکتا ہے جو مخصوص سماجی حالات میں لازمی ہو۔ اس کے کئی طرح کے اثرات ہو سکتے ہیں۔ پہلی صورت میں یہ بات ضروری ہو جاتی ہے کہ محن نارمل حالات میں جاری رہنا چاہیے۔اگر کتائی کی خود کار مشین استعمال کی جائے تو مزدور کو پھرکی اور چرخہ فراہم کرنا بے کار ہو گا۔ روئی بھی اتنی بُری نہیں ہونی چاہیے کہ کام کے دوران بہت زیادہ ضیاع wasteپیدا کرے بلکہ اس کو معقول معیار کا ہونا چاہیے۔ ورنہ کاتنے والے کو ایک پونڈ سوت پیدا کرنے میں سماجی طور پر لازمی وقت سے زیادہ درکار ہو گا ، اس صورت میں وقت کی زیادہ خرچ نہ قدر پیدا کرے گا اور نہ روپیہ۔لیکن آیا اس عمل کے مادی عوامل نارمل معیار کے ہیں یا نہیں،اس بات کا دارو مدار مزدور پر نہیں بلکہ سرمایہ دار پر ہے۔ مزید براں خود قوتِ محن اوسط استعداد کار کی حامل ہو۔ جس تجارت میں اس کو لاگو کیا جائے تو اس میں وہ اوسط مہارت ، کاریگری،اور پھرتی ضرور ہونی چاہیے جو اس قسم کی تجارت میں مروج ہے، اور ہمارا سرمایہ دار اس قسم کی قوتِ محن کو خریدنے میں بڑی احتیاط کا مظاہرہ کرے گا جس میں نارملہبر مندی پائی جائے۔ اس قوت کو اوسط درجے کی کاوش اور مروجہ درجے کی شدت سے استعمال ہونا چاہیے۔ اور ہمارا سرمایہ دار اس بات کا بہت خیال رکھتاہے کہ اس کے مزدور ایک ثانیے کے لئے بھی فارغ نہ بیٹھ سکیں۔ اُس نے ایک مخصوص عرصے کے لئے قوتِ محن کا استعمال خریدا ہے، اور وہ اپنے حقوق پر بڑا زور دیتا ہے۔ اس کا لٹنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ آخری بات یہ کہ اورا س مقصد کے لئے ہمارا سرمایہ دار خود اپنی تعزیرات بنا لیتا ہے، کہ خام مال اور آلاتِ محن کا ہر قسم کا ضیاع ممنوع ہے، کیونکہ اس طریقے سے جو کچھ بھی ضائع ہو بے مقصد طور پر خرچ ہونے والے محن کو بیان کرتا ہے، یعنی ایسا محن جو مصنوعہ میں شامل نہیں ہوتا یا اس کی قدر کا حصہ نہیں بنتا۔17؂

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ محن میں فرق، جسے ہم نے ایک طرف تو مفید چیزیں پیدا کرنے والے [عنصر] کی حیثیت سے ، اور دوسری طرف قدر پیدا کرنے والے عنصر کی حیثیت سے دیکھا تھا ، یعنی ایسا فرق جو ہم نے اپنے شے کے تجزیے کے دوران دریافت کیا تھا، اپنے آپ کو پیداوار ی عمل کے دو پہلوؤں کے امتیازات میں ظاہر کرتا ہے۔

عملِ پیداوار کو اگر ایک طرف عملِ محن اور قدر پیدا کرنے والے عمل کی وحدت سمجھا جائے تو یہ اشیاء کی پیداوار ہے؛اگر دوسری طرف اس کو عملِ محن اور قدرِ زائد پیدا کرنے والے عمل کی وحدت سمجھا جائے تو یہ سرمایہ دارانہ عملِ پیداوار ہے، یا پھر اشیاء کی سرمایہ دارانہ پیداوار ہے۔

ہم کسی پچھلے صفحے پر کہہ چکے ہیں کہ قدرِ زائد کی پیداوار کے سلسلے میں اس بات کا کوئی عمل دخل نہیں کہ چاہے سرمایہ دار کا مہیا کیا گیا محن اوسط معیار کا سادہ اور غیر ہنر یافتہ محن ہے یا پیچیدہ اور ہنر یافتہ محن ۔ وہ تمام کا تمام محن جو اوسط محن سے زیادہ پیچیدہ اور اعلیٰ خاصے کا حامل ہو زیادہ قیمتی قسم کی قوتِ محن کا خرچ ہے۔چنانچہ وہ سادہ اور غیر ہنر یافتہ قوتِ محن کی نسبت زیادہ قدر کی حامل ہے، یعنی یہ ایسا قوتِ محن ہے جس کو پیدا کرنے میں زیادہ وقت اور محنت خرچ ہوئی ہے لہٰذا اس کی قدر بھی غیر ہنر یافتہ یا سادہ قوت محن سے زیادہ ہے۔ زیادہ قدر کی حامل ہونے کی وجہ سے اس قوتِ محن کا خرچ بھی اعلیٰ معیار کا محن ہوتا ہے، یعنی ایسا محن جو اتنے ہی وقت کے دوران غیر ہنریافتہ محن کی نسبت زیادہ قدریں پیدا کرتا ہے۔ کاتنے والے اور زرگر کے محن کی مہارتیں جتنی بھی مختلف ہوں، اس کے محن کا وہ حصہ جس کے ذریعے سے زر گر خود اپنی قوتِ محن کو قدر میں بدلتا ہے ، وہ کسی لحاظ سے بھی معیاری اعتبار سے اُس زائد حصے سے مختلف نہیں ہوتی جس کی بدولت وہ قدرِ زائد پیدا کرتا ہے۔ زیورات بنانے میں ، بالکل کاتنے کی مانند ، قدرِ زائد مقداری طور محن کی زیادتی کی صورت میں نمودار ہوتی ہے، یعنی ایک ہی عملِ محن کے طویل تر ہونے کی صورت میں، ایک معاملے میں زیورات بنانے کاعمل اور دوسرے معاملے میں سوت بنانے کے عمل ۔18؂

لیکن دوسری طرف قدر پیدا کرنے کے ہر عمل میں ہنر یافتہ محن کی سماج کے اوسط محن میں تبدیلی ضروری ہے، مثال کے طور پر ہنر یافتہ محن کے ایک دن کو غیر ہنر یافتہ محن کے چھ دن میں۔19؂ اسی طرح ہم غیر ضروری کام سے بچتے ہیں اور اپنے تجزئے کو آسان کر لیتے ہیں ، اس مفروضے کے تحت کہ ایک ایسے مزدور کا محن جس کو سرمایہ دار نے کام پر لگایا ہو اوسط درجے کا غیر ہنر یافتہ محن ہوتا ہے۔

___________________________




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ4
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

قدرِ زائد کی پیداوار ان داشلائوں میں استعمال ھے
دیہاڑی کی تطویل
مطلق قدرِ زائد کی پیدا وار - موضوع کے دوسرے داخلے