قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-15
داخلا نمبر 781
عنوان قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
شاخ اشیاء
پڑھا گیا 232297
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ کے بنیاد
اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ - کی دوسری شاخیں-
متعلقاتی حالت اور مساوی القوت حالت
قدر کی متعلقاتی حالت
قدر کی مساوی القوت حالت
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ


شاخ اشیاء
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

اشیا ء دنیا میں اقدارِ صرف ،مال اسباب یا سازو سامان جیسے لوہا ،کپڑا ،مکئی وغیرہ کی شکل میں موجودہوتی ہیں۔یہ محض ان کی طبعی، مادی ساخت ہے۔وہ اشیاء محض اس وجہ سے ہیں کہ ان کی حقیقت دو رخی ہوتی ہے۔یعنی ایک ہی وقت میں وہ کار آ مد چیزیں بھی ہیں اور ان میں قدر کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ اگروہ اپنے آپ کو اشیاء کے طور پر پیش کرتی ہیں یا اشیاء کی ہیئت رکھتی ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے دو روپ ہیں،ایک طبعی یا فطری روپ اور دوسرا قدری روپ۔

اشیاء کی قدر کی حقیقت ،اس لحاظ سے ،مادام صرصر *1، کے کردار سے بالکل مختلف ہے،مطلب یہ کہ ہم اس کے صحیح مقام سے آ گاہ نہیں ہیں۔اشیا ء کی قدر ان کی طبعی مادیت کی ماہیت سے بالکل متضاد ہوتی ہے،اس[قدر] کی بنت میں مادے کا ایک ذرہ بھی شامل نہیں ہوتا۔کسی ایک شے کا مطالعہ اگر اس کی انفرادی سطح پر اس لحاظ سے کیا جائے ،(جیسا کہ ہم آ گے چل کر کریں گے) کہ اس کی حیثیت محض قدر کی رہے تو اس کو سمجھنا ممکن نہ ہو گا۔اگر ہم یہ تصور کر لیں کہ اشیاء کی قدر خالص سماجی حقیقت رکھتی ہے اور یہ کہ ان کی یہ حقیقت اس بات میں مخفی ہے کہ وہ ایک متجانس سماجی ماہیت کا مجموعہ ہیں ،یعنی محنِ انسانی ہیں۔اس صورت میں قدر اپنا اظہار ایک ایسے سماجی تعلق کی صورت میں کرتی ہے جو دو اشیاء کے مابین ہوتا ہے۔دراصل ہماری گفتگو کا آغاز قدرِ مبادلہ سے یا اشیاء کے مبادلی تعلق سے ہوا،مقصد یہ تھا کہ ان کی اس قدر کو دریافت کیا جائے جو اس تعلق کے پس منظر میں کام کرتی ہے۔چنانچہ اب ہم قدر کے اس روپ پر بات کرتے ہیں جس میں یہ سب سے پہلے رو پذیر ہوئی۔

ہر شخص اتنا ضرور جانتا ہے کہ اشیاء کا ایک روپ قدر کا بھی ہوتا ہے جو ایک مشترک وصف کی حیثیت رکھتا ہے ۔اور یہ روپ ان کی اقدارِ صرف کی مختلف جسمانی اشکال سے واضح بُعد رکھتا ہے۔اس سے میری مراد ان کی شکلِ روپیہ ہے۔اب یہاں ہم ایک ایسا کام کرنے والے ہیں جس کو ابھی بورژوا معاش نے چھوا تک نہیں ،یہ کہ شکلِ روپیہ کی ابتدا کیسے ہوئی۔یعنی اس عمل کا سراغ لگانا جس کے تحت قدر کی وہ سادہ ترین شکل ،جو اشیاء کے قدری تعلق میں پائی جاتی ہے ، شکلِ روپیہ کے پیچیدہ ترین روپ میں کس طرح بدل جاتی ہے۔اس کام کی تکمیل کے ذریعے ہم اس الجھن کا سراغ بھی لگا لیں گے جو روپے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

سادہ ترین قدری تعلق وہ تعلق ہے جو مختلف انواع کی دو اشیاء کے مابین پایا جاتا ہے۔دو اشیاء کی اقدار کے مابین تعلق کا تعین کسی ایک شے کی قدر کے اظہار سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

( A): قدر کی ابتدائی یا لمحاتی حالت

X شے A = Yشے B

یا

Xشے A ،Y شے Bکے مساوی ہے۔

20 گز ململ = ایک کوٹ

یا

20 گز ململ ایک کوٹ کے مساوی ہے


اس سلسلے میں ہم دو چیزوں -ایک کوٹ اور دس گز ململ، کی مثال لیتے ہیں،اور پہلے مرحلے میں کوٹ کی قدر ململ سے دو چند کر دیتے ہیں ۔اب اگر


دس گز ململ= W


ہو تو


ایک کوٹ = 2 W


ہو گا۔


کوٹ ایک ایسی قدرِ صرف ہے جو کسی خاص حاجت کی تسکین کرتی ہے،اور اس کا وجود ایک خاص پیداواری سرگرمی کا نتیجہ ہے، جس کی اصلیت کو مقصد ،طریقۂ کار،اس کی نوعیت،ذرائع اوراس کے نتیجے سے جانا جا سکتا ہے۔ وہ محن جس کی افا دیت اس کی مصنوعہ چیز کے استعمال میں ملتی ہے،یا جو اپنا اظہار اس چیز کی قدرِ صرف کی صورت میں کرتی ہے،اسے ہم محنِ مفید کا نام دے سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم محض اس کا مفید پہلو مدّ ِ نظر رکھیں گے۔


چونکہ کوٹ اور ململ خواصی اعتبار سے بھی دو مختلف قدریں ہیں ،چنانچہ ان پر صرف ہونے والا محن ،یعنی سلائی اور بنائی ،بھی مختلف نوعیت کا ہے ۔اگر یہ دونوں چیزیں اپنی افادیت کے لحاظ سے مختلف نہ ہوتیں یعنی ان پر مختلف قسم کا محن صرف نہ ہوتا تو یہ اشیاء کی حیثیت سے آمنے سامنے نہ آتیں ۔کوٹ کا تبادلہ کوٹ سے نہیں کیا جا سکتا،ایک قدرِ صرف کا اسی نوع کی دوسری قدرِ صرف سے تبا دلہ ممکن نہیں ۔


اقدار کی وہ تمام اقسام جو استعمال میں لائی جاتی ہیں ان پر انہی سے ہم آہنگ اتنی ہی اقسام کا محنِ مفید صرف ہوتا ہے۔ان کی درجہ بندی جنس ،نوع،ترتیب،اور ان کی سماجی تقسیم کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔محن کی یہ تقسیم اشیاء کی پیداوار کے لئے بڑی ضروری ہوتی ہے،لیکن حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں بلکہ اس کے برعکس ،اشیاء کی پیداوار ہی تقسیمِ محن کی لازمی شرط بن جاتی ہے۔قدیم ہندوستانی معاشرے میں محن کی سماجی درجہ بندی کا اشیاء کی پیداوار سے کوئی سروکار نہیں ۔اس سلسلے میں اپنے ملک کی مثال بھی لی جا سکتی ہے۔ہر کارخانے میں ایک خاص ضابطے کے تحت محن کی تقسیم کی جاتی ہے لیکن یہ تقسیم اپنی انفرادی پیداوار کے باہمی تبادلے کا باعث نہیں بنتی۔صرف وہی مصنوعات ایک دوسرے کے لحاظ سے اشیاء میں بدلتی ہیں جن پر انفرادی طور پر مختلف قسم کا محن استعمال ہوا ہو۔


بات کو جاری رکھتے ہوئے ،کہ ہر شے کی قدرِ صرف میں محنِ مفید موجود ہوتا ہے یعنی ایک خاص نوعیت کی پیداواری سرگرمی جسے خاص مقصد کے تحت اختیار کیا گیا ہو۔اقدارِ صرف اس وقت تک اشیاء کی حیثیت سے ایک دوسرے سے متبادل نہیں ہو سکتیں جب تک ان میں مجسم محنِ مفید کی نوعیت مختلف نہ ہو۔جس کمیونٹی کی پیداوار اشیاء میں بدل جائے دوسرے لفظوں میں اشیاء پیدا کرنے والوں کی کمیونٹی میں جہاں ہر کارخانے دار کے پاس انفرادی طور پر محن کی مختلف مفید حالتیں موجود ہوتی ہیں وہاں یہ[محن کی مفید حالتیں] محن کی سماجی تقسیم کی صورت میں ایک پیچیدہ نظام کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔


تاہم کو ٹ چاہے درزی استعمال کرے یا اس کا کوئی گاہک ،ہر دو صورتوں میں یہ قدرِ صرف ہی کا کام دیتا ہے۔اور نہ کوٹ اور اس کے محن کے باہمی تعلق پر وہ حالات اثر انداز ہوتے ہیں جن کے تحت سلائی کے فن نے پیشے ،یعنی محن کی سماجی تقسیم کی آزاد شاخ ،کی شکل اختیار کی۔جہاں تک کپڑے کا تعلق ہے ،بنی نوع انسان نے ہزاروں سال تک اپنی ضرورت کے تحت لباس تیار کئے،مگر سلائی کو درزی کے پیشے کے طور پر کسی شخص نے بھی نہ اپنایا۔ کوٹ اور ململ، دولت کی دیگر مادی اشکا




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
اشیاء - موضوع کے دوسرے داخلے