قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-15
داخلا نمبر 781
عنوان قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
شاخ اشیاء
پڑھا گیا 232339
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ کے بنیاد
اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ - کی دوسری شاخیں-
متعلقاتی حالت اور مساوی القوت حالت
قدر کی متعلقاتی حالت
قدر کی مساوی القوت حالت
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ


شاخ اشیاء
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

ل کی مانند ،فطرت کی پیداوار نہیں ہیں،بلکہ ان کا وجود ایک خاص قسم کی تخلیقی سرگرمی کی بدولت عمل میں آیا ہے جسے ایک خاص مقصد کے تحت اختیار کیا گیا، یعنی ایسی سرگرمی جو کسی چیز کے فطری خواص کو انسان کی مخصوص حاجات کے موافق بناتی ہے۔اب چونکہ محن یعنی محنِ مفیدہی قدرِ صرف پیدا کرتا ہے ،چنانچہ یہ سماج کی ہر قسم کی بنتر سے مبرّا ایک ایسی لازمی شرط ہے، جوبنی نوع انسان کے وجود کی وجہ سے ایک غیبی قوت کی لاگو کردہ ضرورت ہے،جس کے بغیر انسان اور فطرت کے مابین کوئی تعلق ممکن نہیں،لہٰذا زندگی بھی ممکن نہیں۔


اقدارِ صرف کوٹ اور ململ وغیرہ مادی اشیاء ہونے کی وجہ سے دو عناصر، محن اور مادہ، کا امتزاج ہیں۔اگر ہم اس پر صرف شدہ محنِ مفید کو ساقط کر دیں تو باقی صرف بنیادی مادہ(substratum)بچے گا، جسے فطرت نے انسانی مداخلت کے بغیر تخلیق کیا۔آخرالذکر [انسان]فطرت ہی کی مانند اس پر اثر انداز ہوتا ہے۔یعنی یہ محض مادے کی بنتر بدل سکتا ہے13؂ ۔ اتنا ضرور ہے کہ مادے کی بنتر کو بدلنے کے اس عمل کے دوران قدرتی طاقتیں مسلسل اس کے ساتھ رہتی ہیں،اور کچھ نہیں۔ہم نے دیکھا کہ صرف محن ہی مادی دولت کا واحد ذریعہ نہیں،بلکہ اس کی تخلیق کردہ قدرِصرف ہی اس کی مرہونِ منت ہے۔جیسا کہ ولیم پیٹی( William petty )کہتا ہے:


محن کی اس [مادی دولت] کے باپ کی حیثیت حاصل ہے اور زمین کو ماں کی۔


اب ہم اشیاء کا جائزہ قدرِ صرف کے بجائے محض قدر کی حیثیت سے لیتے ہیں۔


ہمارا وہ فرضیہ جس کے تحت ہم نے کوٹ کو ململ سے دو چند تصور کیا تھا۔ یہ فرق صرف مقداروں کا فرق ہے جس سے ہمیں فی الوقت کوئی سروکار نہیں۔ہمیں یاد ہے کہ اگر کوٹ کی قدر کو 10گز ململ سے دو چند کر دیا جائے تو 20 گز ململ ایک کوٹ کے مساوی سمجھا جائے گا۔اب چونکہ یہ قدریں ہیں ،اور کوٹ اور ململ ایک ہی ماہیت رکھنے والی دو مختلف چیزیں ہیں ،یعنی معروضی طور پر متجانس محن کی ظاہری صورتیں۔لیکن سلائی اور بنائی اپنے خواص کی رو سے محن کی دو الگ اقسام ہیں۔تاہم سماج کے جن طبقات میں ایک ہی فرد کو سلائی اور بنائی کے ہر دو کام کرنے پڑتے ہیں،وہاں محن کی یہ دونوں اقسام انفرادی محن کی دو متفرق وضعیں بن جاتی ہیں۔یعنی ان پر دو افراد کی انفرادی صلاحیتیں صرف نہیں ہوتیں۔ اس کی مثال ایسے دی جا سکتی ہے کہ ایک درزی ایک دن کوٹ بنائے اور دوسرے دن شلوار قمیص۔مزید برآ ں ہم نے اس قاعدے پر بھی طائرانہ نگاہ دوڑائی جس کے تحت سرمایہ دارانہ نظام والے معاشرے میں موجود محنِ انسانی کی نوعیت اپنے نظام کے تقاضوں کے تحت بدلتی رہتی ہے۔اگر اب یہ سلائی کا کام کر رہا ہے تو تب یہ بُنائی کا کام کرے گا۔محن کی یہ تبدیلی ظہور پذیر ضرور ہوتی ہے چاہے کسی بیرونی قوت کے تحت آئے۔


اگر ہم تخلیقی سرگرمی کی خاص شکل یعنی کار آمد محن کو نظر انداز کر دیں تویہ محض محنِ انسانی کا ضیاع رہ جائے گی۔سلائی اور بنائی اگرچہ اپنے خواص کی رو سے دو مختلف سرگرمیاں ہیں لیکن چونکہ یہ دونوں انسان کی ذہنی اور اعصابی صلاحیتوں کا نتیجہ ہیں اس وجہ سے محنِ انسانی کا درجہ رکھتی ہیں۔دوسرے لفظوں میں یہ انسانی قوتِ محن کی دو مختلف وضعیں ہیں۔وہ قوتِ محن جو اپنی تمام متفرق صورتوں میں بھی اپنے خواص برقرار رکھتی ہے ،یقینا مادے کی مختلف وضعیں اختیار کرنے سے قبل تبدیلی کے مراحل سے ضرور گزرتی ہو گی۔لیکن ایک شے کی قدر محنِ انسانی کے مجرد روپ کا اظہار کرتی ہے،یعنی محن ِ انسانی کا عام اظہار۔جیسے ایک معاشرے میں جرنیل یا بینک آفیسر کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے جبکہ ایک عام آدمی بڑے معمولی کردار کا حامل ہوتا ہے 14؂ ، محنِ انسانی کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہ وہی سادہ سی قوتِ محن ہے جو، کسی خاص نشوونما سے قطع نظر ،معاشرے کے ہر عام آدمی کی ذات میں موجود ہے۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس اوسط محن کی نوعیت مختلف ممالک اور مختلف اوقات میں ادلتی بدلتی رہتی ہے۔لیکن ایک مخصوص معاشرے میں یہ مستقل رہتی ہے۔ہنر یافتہ محن کی مثال محنِ عام کی شدید تر حالت کی ہے،یعنی محنِ عام کی بہتات۔دوسرے لفظوں میں ہنر یافتہ محن کی دی گئی مقدار محنِ عام کی نسبتاً زیادہ بڑی مقدار کے برابر سمجھی جائے گی۔تجربات سے معلوم ہوتاہے کی یہ تبدیلی مسلسل عمل کی صورت میں چلی آ رہی ہے۔ایک شے زیادہ ہنر یافتہ محن کی پیداوار ہو سکتی ہے ۔لیکن اس کی قدر کی تعیین محنِ عام ہی کو مدِ نظر رکھ کرکی جائے گی15؂ ۔وہ مختلف نسبتیں جو مختلف نوعیت کے محن کو غیر ہنر یافتہ محن کی صورت میں جانچنے کا پیمانہ بنتی ہیں ، اس خاص سماجی عمل کے نتیجے کے طور پر روایتی انداز میں وضع ہو جاتی ہیں جس کے ساتھ کارخانے دار کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔اپنی سہولت کی غرض سے ہم ہر قسم کے محن کو غیر ہنر یافتہ یا محنِ عام ہی تصور کرتے ہیں،تاکہ اپنے آپ کو تبدیلی کے عمل سے بچایا جا سکے۔


بالکل اسی طرح ،جب ہم کوٹ اور ململ کو محض اقدار کی صورت میں دیکھتے ہیں تو ان کی مختلف اقدارِ صرف کو ساقط کر دیتے ہیں ،یہی عمل ان کے محن کے ساتھ ہوتا ہے،مطلب یہ کہ ہم ان کی مفید حالتوں ،سلائی اور بنائی ،کو بھی محوِ نظر کر دیتے ہیں ۔ اقدارِ صر ف ہونے کے ناتے کوٹ اور ململ کپڑے اور دھاگے کے ساتھ دو مختلف سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں ،جبکہ محض اقدار ہونے کی حیثیت سے کوٹ اور ململ صرف ایک نا قابلِ تفریق محنِ متجانس ہی ہیں ۔چنانچہ موخرالذکر اقدار میں موجود محن کا اپنی نوعیت کی رو سے کپڑے یا دھاگے سے کچھ تعلق نہیں بنتا،بلکہ یہ ایک سادہ سا انسانی قوتِ محن بن کر رہ جاتا ہے۔کوٹ اور ململ کو سلائی اور بنائی اقدارِ صرف بنانے میں اہم کردار ضرور ادا کرتے ہیں ،وہ صرف اس لئے کہ یہ دونوں محن مختلف خواص کے حامل ہیں ۔ لیکن اگر ہم ان کے انہی خواص کو ساقط کر دیں تو ان میں صرف محنِ انسانی کی وا حد صفت باقی رہ جائے گی،تو کیا سلائی اور بنائی ایک ہی قسم کے عناصر کی اقدار کی ماہیت کا تعین کرتے ہیں ؟


کوٹ اور ململ محض اقدار ہی نہیں ہیں،بلکہ مخصوص خواص کی حامل اقدار ہیں ؛اور ہمارے فرضیے کے مطابق کوٹ کی قدر دس گز ململ کی قدر سے دو چند ہے۔ان کی اقدار میں یہ فرق کیسے ہے؟بات سیدھی سی ہے،کہ ململ پر کوٹ کی نسبت آدھا محن صرف ہوا ہے۔نتیجہ یہ نکلاکہ آخرالذکر کی تیاری پر اوّل الذکر سے دو گونا وقت کا قوتِ محن صرف ہوا ہے۔


اب اگر قدرِ صرف کو مدِ نظر رکھا جائے تو ایک شے میں موجود محن کو محض معیار کے حوالے سے دیکھا جائے گا،جبکہ اگر صرف قدر کو مدِ نظر رکھا جائے تو اسے مقدار کی رو سے دیکھا جائے گا، چنانچہ پہلے اسے خالص سادہ محن میں بدلا جائے گا۔پہلا مسئلہ،‘ کیونکر ’اور‘ کیا’کا سوال اٹھاتا ہے ،جبکہ دوسرے مسئلے میں ‘کتنا’یا‘‘کتناوقت ’کا سوال جنم لیتا ہ




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
اشیاء - موضوع کے دوسرے داخلے