قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-15
داخلا نمبر 781
عنوان قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
شاخ اشیاء
پڑھا گیا 232341
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ کے بنیاد
اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ - کی دوسری شاخیں-
متعلقاتی حالت اور مساوی القوت حالت
قدر کی متعلقاتی حالت
قدر کی مساوی القوت حالت
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ


شاخ اشیاء
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

ے۔چونکہ کسی شے کی قدر کا اجماع صرف اس میں موجود مقدارِ محن کا تعین کرتاہے اس لئے اس اصول کے تحت تمام اشیاء کی مخصوص مقداریں قدر کی رو سے برابر ہونی چاہئیں۔


اگر ایک کوٹ کی تیاری کے لئے مطلوب مختلف اقسام کے تمام محن کی تخلیقی قوت یکساں رہے تو جوں جوں ان کی تعداد میں اضافہ ہو گا توں توں ان کی اقدار بھی بڑھیں گی۔اگر ایک کو ٹ پر صرف محن لا وقت ہو تو دو2 کوٹوں پر صرف محن 2لاوقت کے برابر ہو گا۔فرض کریں کہ ایک کوٹ کی تخلیق کے لئے درکاروقت محن اگر دو چند یا نصف ہو جائے تو پہلی صورت میں ایک کوٹ کی قدر پہلے کی نسبت دو گونا ہو جائے گی اور بصورتِ دیگر دو کوٹ پہلے کی نسبت ایک کوٹ کی قدر کے رہ جائیں گے۔اور دونوں صورتوں میں ان میں مجسم محنِ مفید ایک ہی معیار کا رہ جائے گا۔جبکہ اس کی تیاری کے لئے درکار مقدارِ محن میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔


قدرِ صرف کی مقدار میں اضافہ درا صل مادی دولت میں اضافہ ہی ہے۔دو کوٹوں دو آدمیوں کا بدن ڈھانکیں گے جبکہ ایک کوٹ صرف ایک آدمی کے استعمال میں آئے گا۔تاہم مادی دولت کی بڑھتی ہوئی مقدار کے ساتھ ساتھ اس کی قدر کے حجم میں کمی بھی آ سکتی ہے۔ [اقدارکی] یہ مخاصمانہ تبدیلی محن کی دو رخی خاصیت کی بنا پر ظہور پذیر ہوتی ہے۔تخلیقی قوت کا تعلق یقیناً محنِ مفید کے اصراف کی کسی مقرونی شکل کے ساتھ ہوتا ہے،اور ایک وقت میں کسی بھی تخلیقی سرگرمی کی اثر پذیری اپنی تخلیقی صلاحیت پر منحصر ہو تی ہے۔جس تناسب میں محنِ مفید کی تخلیقی صلاحیت میں کمی یا اضاہوتا ہے اسی تناسب میں مصنوعات میں اس کی مقدار بھی گھٹتی بڑھتی ہے۔دوسری طرف اس تخلیقی صلاحیت کی کمی بیشی کا اس محن پر کوئی اثر نہیں پڑتا جو محض قدر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔چونکہ تخلیقی قوت محن کی مفید مقرونی صورتوں کا وصف بنتی ہے اس لئے جب تک ہم اس کی ان مقرونی حالتوں کو علیحدہ کر کے نہیں دیکھیں گے اس وقت تک محن میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئے گی۔تاہم تخلیقی قوت میں تبدیلی کے باوجود وقت کے مساوی وقفوں کے دوران استعمال ہونے والا محن، قدر کی ایک جیسی مقداریں ہی دے گا۔مگر یہ[محن]وقت کے مساوی وقفوں کے دوران تخلیقی قوت کو بڑھانے سے استعمال کی زیادہ قدریں دے گا، اور کم کرنے سے کم۔تخلیقی قوت کی یہی تبدیلی اقدارِ صرف کی اس بڑھی ہوئی مقدار کی مجموعی قدر میں کمی کا باعث بن جائے گی،جو محن کی زرخیزی میں اضافہ کرتی ہے،اور جس کے نتیجے کے طور پر اس محن سے پیدا شدہ قدرِ صرف کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے ۔ تاہم اگر [تخلیقی قوت کی] یہ تبدیلی ان اقدارِ صرف کی تخلیق کے لئے درکار کل وقتِ محن میں کمی کر دے،یا پھر اس سے الٹ۔


ایک طرف اپنے جسمانی خواص کی رو سے تمام کا تمام محن سادہ انسانی قوتِ محن کی مثال پیش کرتا ہے،اور اس میں متجانس محنِ انسانی مجرد صورت میں نظر آ تا ہے،جس کے تحت اشیاء کی اقدار کی تعیین ہوتی ہے۔جبکہ تمام کا تمام محن ایک خاص ہیئت میں متشکل ایسا محنِ انسانی ہے جس کا خاص مقصد ہو اور جس میں مفید مقرونی محن کے خواص بھی شامل ہوں،اس صورت میں یہ قدرِ صرف کی تخلیق کا باعث بنتا ہے۔6؂ 1




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
اشیاء - موضوع کے دوسرے داخلے