قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 786
عنوان قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
پڑھا گیا 237463
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ کے بنیاد
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ - کی دوسری شاخیں-
قدر کا اجتماعی متعلقاتی روپ
خاص مساوی القوت حالت
قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص
قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی

قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ


شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0-گذشتہ صفحہ


کسی شے کی قدر کی ابتدائی حالت اس مساوات کے تحت بیان ہوتی ہے جس میں اس کا قدری تعلق کسی دوسری قسم کی شے کے ساتھ ظاہر ہو رہا ہو۔شے A کی قدر کا اظہا ر اس حقیقت کے تحت ہوتا ہے کہ شے B اس سے آ زادانہ طور پر متبادل ہے۔اور اس کی قدر کا مقداری اظہار اس حقیقت کے تحت ہوتا ہے کہ شےB کی ایک خاص مقدار شےA کی خاص مقدار کا بدل ہو سکتی ہے۔دوسرے لفظوں میں کسی شے کی قدر جب قدرِ مبادلہ کی شکل میں آ جاتی ہے تو یہ اظہار کا ایک خاص روپ دھار لیتی ہے۔اس باب کے آغاز میں ہم نے جب ہم نے عام زبان استعمال کرتے ہوئے کہاکہ ایک شے ایک وقت میں قدرِ صرف بھی ہوتی ہے اور قدرِ مبادلہ بھی، تو ٹھیک ٹھیک اصطلاحات کی رو سے یہ بات ٹھیک نہ تھی۔ایک شے قدر ِ صرف ،یعنی ایک کار آمد چیز ،اور قدر ہوتی ہے۔اس میں یہ دو رخی خاصیت اس وقت آتی ہے جب اس کی قدرایک خود مختار صورت اختیار کر جائے،یعنی جب یہ قدرِ مبادلہ میں آ جائے۔تاہم اکیلے میں یہ دو رخی شکل اختیار نہیں کرتی،بلکہ صرف اس وقت کرتی ہے جب اسے قدر یا مبادلے کے تعلق کے تحت کسی دوسری قسم کی شے کے سامنے لایا جاتا ہے۔جب ہم یہ حقیقت جان جاتے ہیں تو اظہار کا یہ طریقہ ہماری پریشانی کا باعث نہیں بنتا بلکہ محض اختصارو ایجاز کا کام دیتا ہے۔

ہمارے تجزیے سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ کسی شے کی قدر کا اظہاریا شکل قدر کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے؛ قدر اور اس کے حجم کا ماخذ ان کے قدرمبادلہ کے اظہار میں نہیں ہے۔ نہ صرف قدیم تاجر اور ان کے فیرئر( Ferrier)اور گے نیل(Ganilh )23؂ جیسے آج کے مقلدین اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں ،بلکہ ان کے مخالفین اور آزاد تجارت کے علمبردار مثلاً باسٹیٹ(Bastiat )وغیرہ بھی اسی دھوکے کا شکار ہیں۔قدیم طرز کے تاجر قدر کے اظہار کے خواصی پہلو پر زور دیتے ہیں،چنانچہ ان کی ترجیح اشیاء کا مساوی القوت روپ ہی ہوتی ہے ،جو بعد ازاں ترقی پا کر روپے کا روپ دھار جاتا ہے۔آ زاد تجارت کے جدید دعویدار جو کسی بھی قیمت کے عوض اپنی چیز بیچنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ان کی مثال اس سے برعکس ہے۔کیونکہ یہ قدر کی متعلقاتی حالت کے مقداری پہلو پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک نہ قدر کی کچھ اہمیت ہوتی ہے اور نہ وہ قدر کے اجماع ہی کو در خورِ اعتنا سمجھتے ہیں ۔وہ صرف اشیاء کے مبادلی تعلق کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی قدر پر تکیہ کرتے ہیں، جو ان کی روزانہ کی قیمت ہوتی ہے۔میکلیوڈ جس نے لمبارڈ کے بے تکے خیالات کو اعلیٰ وا ارفع الفاظ سے سجانے کی کوشش کی ہے، اوہام پرست تاجرانہ ذہنوں اور روشن خیال آزاد تجارت کے نقارچیوں کی درمیانی کڑی ہے۔

اگر ہم A کی قدر کے B کی صورت میں اظہار کا اس مساوات کے تحت بغور جائزہ لیں جس میں A اور B کا قدری تعلق ظاہر ہو رہا ہے تو ہمیں پتا چلے گا کہ Aکی جسمانی ساخت محض قدرِ صرف کا اظہار کرتی ہے جبکہ B کی جسمانی ساخت صرف قدر ہی کی نمائندگی کرتی ہے۔یہ تضاد یا اختلاف ہر شے کی قدرِ صرف اور قدر میں داخلی طور پر موجود ہوتا ہے۔اور یہ تضاد اس وقت منظرِ عام پر آتا ہے جب دو مختلف قسم کی اشیاء اس تعلق کے تحت آمنے سامنے آتی ہیں۔یعنی جس شے کی قدر کا اظہار مطلوب ہے وہ براہِ راست قدرِ صرف کے روپ میں آ جاتی ہے۔اور جس شے میں اس قدر کو بیان کرنا ہوتا ہے وہ قدرِ مبادلہ کی شکل میں آ جاتی ہے۔پس ایک شے کی قدر کی ابتدائی حالت ایک ایسی حالت ہے ،جس کے تحت اس شے کی قدرِ صرف اور قدر کا تضاد واضح ہوجائے۔

محن کی ہر پیداوار معاشرے کے تمام حالات میں قدرِ صرف ہی رہتی ہے۔لیکن سماجی نشوونما کے ایک خاص تاریخی درجے پرہی اس قسم کی پیداوار‘‘ شے’’کا درجہ اختیار کر جاتی ہے ،یعنی اس درجے پر جب ایک کار آمد چیز پر استعمال شدہ محن کا اظہار اس شے کی بہت سی معروضی خصوصیات میں سے ایک، یعنی قدر بن جاتا ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بنیادی قدری شکل بیک وقت وہ قدیمی شکل بھی ہے جس کے تحت کسی محن کی مصنوعہ تاریخی طور پر شے کی حیثیت سے ظاہر ہوتی ہے، اور یہ کہ قدر ی شکل کے ارتقا کے ساتھ ساتھ ان مصنوعات کی شے تک بتدریج تبدیلی بھی رونما ہوتی ہے۔

قدر کی ابتدائی حالت میں رونما ہونے والی کوتاہیاں کچھ اس طرح سمجھ آتی ہے کہ یہ گویا ایک ایسے جرثومے کی مانند ہیں جس کو قیمت کی شکل میں آ نے سے پہلے تبدیلی کے ایک وسیع تر عمل سے دو چار ہونا پڑتاہے جس کی آخری حالت قیمت کی شکل میں ہوتی ہے۔

شے A کی قدر کا کسی بھی دوسری شےB کی صورت میں اظہار A کی قدر کو اس کی قدرِ صرف سے ممیزکرتا ہے۔اور A کو اس سے ایک مختلف شے Bکے ساتھ مبادلی تعلق میں رکھتا ہے لیکن اس حالت میں بھی یہ اظہار اس ایک شے کے ساتھ خواصی نسبت اور باقی تمام اشیاء کے ساتھ مقداری نسبت کی وضاحت نہیں کرتا۔کسی شے کی ابتدائی متعلقاتی قدری حالت سے ایک دوسری شے کی مساوی القوت حالت ہی مشابہ ہوتی ہے۔چنانچہ ململ کی قدر کے متعلقاتی اظہار کے لئے کوٹ مساوی القوت روپ اختیار کرلیتا ہے۔یا اس سے براہِ راست بدلا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ اس صورت میں یہ صر ف اور ململ ہی سے تعلق رکھتا ہے۔

چاہے قدر کی ابتدائی حالت تبدیلی کے ایک خاص عمل سے گذر کر پختہ تر روپ میں آ جاتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اس ابتدائی حالت کے ذریعے شےA کی قدر صرف ایک دوسری شے میں بیان ہو سکتی ہے۔اور یہ دوسری شے کوٹ ، لوہا ،مکئی وغیرہ غرض کوئی بھی ہو سکتی ہے۔اس لئے جس اصول کے تحت A کا تعلق کسی بھی دوسری شے کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے، اسی کے تحت اس ایک ہی شے کی قدر کے ابتدائی روپ کے مختلف انداز ہمارے سامنے آئیں گے24؂۔ممکنہ اظہار کی ان شکلوں کی تعداد اتنی ہی ہو گی جتنی کہ اس [ A] سے مختلف اشیاء کی تعداد ہوگی۔Aکی قدر کا یکتا اظہار قدر کے ابتدائی اظہار کی مختلف اشکال کے ایک طویل سلسلے میں بدلا جا سکتا ہے۔



(B )قدر کی مجموعی یا تصریحی حالت

Zشے A = Uشے B

یا

= V شے C

یا

W=شے D

یا

= X شےE= ..............وغیرہ

20 گز ململ = 1 کوٹ

یا

10=گرام چائے

یا

40= گرام کافی

یا

10= کلو مکئی

یا

2= گرام سونا

یا

100= کلو لوہا .........وغیرہ




ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0-گذريل صفحو

قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ - موضوع کے دوسرے داخلے