قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 789
عنوان قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص
شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
پڑھا گیا 230449
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص کے بنیاد
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ / قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص - کی دوسری شاخیں-

قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص


شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

پہلی بات یہ ہے کہ قدر کی متعلقاتی حالت کا وجودممکن نہیں،کیونکہ جو سلسلہ اس کی وضاحت کرتا ہے وہ لامحدود ہے،اور قدر کی اس مساوات کے سلسلے کی ہر کڑی کا تعین وجود میں آ نے والی ہر اس نئی شے سے جڑا ہوا ہوتا ہے جو کسی بھی انداز میں قدر کی حامل ہو،اور اس قدر کا اظہار کر سکتی ہو۔دوسری بات یہ کہ یہ قدر کے اظہار کی کثیرالجہتی، آزاد صورت ہے۔آخر ی بات یہ ہے کہ اگرہر شے کی متعلقاتی قدر اسی تصریحی شکل میں اظہار پائے تو ہمارے پاس ہر ایک کی ایسی متعلقاتی قدری شکل آ جائے گی جو ہر صورت میں مختلف ہو گی اور قدر کے اظہار کے ایک لا متناہی سلسلے پر مشتمل ہو گی ، اور لازماً ایسا ہی ہوتا ہے۔اجتماعی متعلقاتی قدری حالت کے نقائص اس سے تعلق میں آنے والی مساوی القوت شکل میں ظاہر ہوں گے۔ہر شے کی جسمانی ساخت دوسری تمام اشیاء کی طرح ایک خاص مساوی القوت حالت کی حیثیت رکھتی ہے، چنانچہ مجموعی طور پر ہمارے پاس کئی قسم کی مساوی القوت حالتیں رہ جاتی ہیں۔یہ جزوی مساوی القوت اشکال کے سوا کچھ نہیں اور ان میں ہر حالت دوسری کو اپنے سے خارج رکھتی ہے۔بالکل اسی طرح وہ خاص مقرونی محنِ مفید جو ہر مساوی القوت میں مجسم ہوتا ہے محن کی ایک خاص شکل بن کر رہ جاتا ہے،اس لئے وہ عمومی انسانیمحن کی مکمل نشان دہی نہیں کرتا۔در حقیقت آخرالذکر اپنی خاص مقرونی کثیرالجہتی اشکال کے اجتماع میں اظہار کی موزوں ترین صورت حاصل کر لیتا ہے۔لیکن دوسری صورت میں غیر محدود سلسلے کی صورت میں اس کا اظہار ہمیشہ نا مکمل رہے گا۔

چنانچہ اجتماعی متعلقاتی قدری صورت ، پہلی قسم کی ابتدائی مساواتوں کے اجماع کے سوا اور کچھ نہیں۔جیسا کہ

20 گز ململ = ایک کوٹ

یا

20 گز ململ = 10 گرام چائے

اگر مساوات کو الٹ دیا جائے تو بھی بات واضح رہتی ہے۔

ایک کوٹ = 20گز ململ

10گرام چائے= 20گز ململ ، وغیرہ۔

در حقیقت جب ایک آدمی اپنی ململ کا تبادلہ بہت ساری دوسری اشیاء سے کرتا ہے اور اس کی قدر بہت ساری دوسری اشیاء میں ظاہر ہوتی ہے،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرالذکر اشیاء کے مالکان اپنی تمام اشیاء کو ململ سے بدل سکتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں ان کی تمام اشیاء کی قدر صرف اور صرف اس تیسری شے یعنی ململ میں ظاہر ہوتی ہے۔اگر اس صورت میں ہم اس مساواتی سلسلے کو بدل دیں :

20 گز ململ = ایک کوٹ

یا

10= گرام چائے ......... وغیرہ

تو ہمیں وہی مساواتی سلسلہ حاصل ہو جائے گا جو کچھ دیر قبل ہم نے اخذ کیا ۔



(C )قدر کی عمومی حا لت

ایک کوٹ

10 گرام چائے

40 گرام کافی

20 گز ململ=10کلو مکئی

2 گرام سونا

2/1ٹن لوہا

X شے Aوغیرہ

-01-01-00-00-00





= 20گز ململ

-01-E4-01-00-00 تمام اشیاء ،اب اپنی قدر کا اظہار ،(1 )ابتدائی حالت میں کر رہی ہیں،کیونکہ واحد شے میں کر رہی ہیں؛(2 )وحدت میں کر رہی ہیں ،کیونکہ ایک ہی شے میں کر رہی ہیں۔قدر کی یہ حالت ابتدائی ہے،اور سب کے لئے یکساں ہے،اس وجہ سے اسے عمومی قرار دیا جا سکتا ہے۔

حالت Aاور حالتB ایک شے کی قدر بتانے کی اہل اس وجہ سے تھیں کہ یہ اس شے کی جسمانی ساخت اور قدرِ صرف سے بالکل مختلف تھیں۔

اولین حالت A مساواتوں کو ذیل کے انداز میں بیان کرتی ہے:

ایک کوٹ = 20 گز ململ

اور

10گرام چائے = 2/1ٹن لوہا

ململ کی قدر کوٹ سے اس طرح مساوی ہے جس طرح چائے کی لوہے سے۔لیکن ململ سے مساوی ہونا اور پھر دوبارہ لوہے سے مساوی ہونا ،اس عمل میں ایسا ہی اختلاف ہے جیسا کہ ململ اور لوہاایک دوسرے سے مختلف ہیں۔اب یہ بات واضح ہے کہ عملاً صرف آغاز ہی میں ممکن ہے،کہ جب محن کی پیداوار اس طرح سے اشیاء میں بدلے کہ ان کا لمحاتی یا کبھی کبھار مبادلہ ممکن ہو۔

دوسری حالتB کسی شے کی قدر اور قدر صرف میں تخصیص پہلی صورت کی نسبت زیادہ اچھوتے انداز میں کرتی ہے؛ وجہ اس کی یہ ہے کہ کوٹ کی قدر اپنی جسمانی ساخت سے مختلف تمام ممکنہ اشکال میں پیش کر دی گئی ہے۔اور یہ اپنے علاوہ لوہے سے ، چائے سے،اور مختصر یہ کہ ہر دوسری شے سے مساوی ہے۔جبکہ دوسری طرف قدر کے اس عمومی روپ کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے جو تمام اشیاء میں مشترک ہے،کیونکہ ہر شے کی قدر کی مساوارت میں دوسری تمام اشیاء مساوی القوت کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔قدر کی تصریحی حالت پہلی مرتبہ اس وقت حقیقی وجود میں ظاہر ہوتی ہے جب محن کی خاص مصنوعہ چیز ،جیسے برتن، مستثنیات میں نہ آئے ،بلکہ انفرادی طور پر دوسری اشیاء سے بدلی جا سکے۔

تیسری اور آخری اظہار کی صورت وہ ہے جس کے تحت دنیا کی تمام اشیاء کی قدر اس ایک چیز میں ظاہر ہو جائے جسے اس مقصد کے لئے رکھا گیا ہے،یعنی ململ،چنانچہ اب وہ تمام اشیاء اپنی قدر ململ سے برابری کے ذریعے بیان کریں۔ہر شے کی اپنی قدر ململ سے متعلق ہونے کے ناتے نہ صرف اپنی قدرِ صرف سے مختلف ہے ، بلکہ مجموعی طور پر دوسری تمام اشیاء کی اقدارِ صرف سے بھی مختلف ہے۔چنانچہ اس انداز میں ظاہر ہوئی ہے کہ تمام اشیا ء میں مشترک ہے۔ اس صورت میں اشیاء پہلی مرتبہ ،قدر کے طور پر ،ایک دوسرے کے سامنے لائی گئی ہیں،یا انہیں اقدارِ مبادلہ کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔

پہلی دو حالتوں میں ہر شے کی قدر کو یا تو مختلف نوعیت کی ایک ہی شے میں ظاہر کیا گیا ہے یا پھر مختلف قسم کی بہت ساری اشیاء کی لڑی میں ۔دونوں صورتوں میں ہر شے کا انفرادی سطح پر خاص کام یہ ہے کہ وہ اپنی قدر کے اظہار کا ذریعہ تلاش کرے، اور ایسا یہ دوسری اشیاء کی مدد کے بغیر کرتی ہے۔یہ دوسری اشیا ء پہلی کے حوالے سے مساوی القوت کا مجہول کردار ادا کرتی ہیں ۔چنانچہ قدر کی عمومی حالت یعنی(C )اپنے اور دوسری تمام اشیاء کے اجتماعی عمل کا نتیجہ ہے۔کوئی بھی شے اپنی قدر کا عمومی اظہار دوسری اشیا کے ساتھ اس وقت کرے گی جب ان کی قدر کا اظہار بھی بیک وقت ایک ہی مساوی القوت میں ہو گا، اور ہر نئی شے ب




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ