قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 789
عنوان قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص
شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
پڑھا گیا 230468
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص کے بنیاد
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ / قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص - کی دوسری شاخیں-

قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص


شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

ی اسی طرح سے اپنی قدر کا اظہار کرپاتی ہے۔اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ چونکہ اشیا کا وجود بطور قدر مکمل طور پر سماجی ہے، یہ سماجی وجود ان کے سماجی تعلقات کی کلیت سے ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔ نتیجتاً ان کی قدر کی شکل لازماً سماجی طور پر تسلیم ہونی چاہئے۔

تمام اشیاء ململ سے مساوی [القدر]ہونے کے سبب اب نہ صرف عمومی انداز کی اقدار ہونے کے ناتے معیاری طور پر برابر ہیں ،بلکہ بطور ایسی اقدار کے بھی جن کے حجم موازنے کے اہل ہیں۔اپنی قدروں کے حجموں کو ایک ہی جسم یعنی ململ میں بیان کرنے کے باعث وہ حجم بھی ایک دوسرے سے مساوی ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر

10 گرام چائے = 20گز ململ

اور

40گرام کافی = 20گز ململ

چنانچہ

10 گرام چائے40 =گرام کافی

دوسرے لفظوں میں ایک گرام کافی میں ایک گرام چائے کی نسبت4/1 یا ایک چوتھائی قدر یعنی ،محن ، پائی جاتی ہے۔

متعلقاتی قدر کا عمومی روپ جو دنیا کی تمام اشیاء کا احاطہ کرتا ہے ، اس شے کو، جس کا وجود ان سے الگ ہو،اور جسے مساوی القوت کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے ،جیسے ململ، یو نیورسل مساوی القوت میں بدل دیتا ہے۔ململ کی جسمانی ساخت اب ایک ایسے روپ میں آ چکی ہے جو تمام اشیاء کی قدروں نے دھار رکھا ہے۔اس وجہ سے یہ تمام اشیاء سے بدلی جا سکتی ہے۔یوں ململ ہر قسم کے محنِ انسانی کی شفاف سماجی ماہیت کی جسمانی شکل میں آ جاتی ہے۔بنائی جو کہ ایک خاص نجی فرد کا محن ہے اور جس سے وہ ایک خاص چیز ململ تیار کرتا ہے۔اب اس محن نے ایک سماجی وصف اپنا لیا ہے،یہ وصف دوسری تمام اشیاء سے برابری کا وصف ہے۔وہ تمام مساواتیں جن کے تحت قدر کی عمومی حالت ترتیب دی جاتی ہے ململ میں مجسم محن کو دوسری تمام اشیاء کے محن سے مساوی کر دیتی ہیں۔ اس طرح سے وہ تمام مساواتیں بنائی کے محن کو ناقابلِ تخصیص محنِ انسانی میں بدل دیتی ہیں ۔ اس طریقے سے اشیاء کی اقدارمیں موجود محن کا نہ صرف منفی پہلو اجاگر ہوتا ہے ،جس کے تحت حقیقی محن کے مفید خواص اور ان کی مقرونی شکل کو علیحدہ کر دیا جاتا ہے،بلکہ اس کا اپنا مثبت عنصر بھی اپنے آپ کا واضح طور پر اظہار کرتا ہے۔ عمومی شکل قدر تمام قسم کی حقیقی محن کو اس کے مشترکہ خاصے ، یعنی عمومی انسانی محن تک محدود کر دیتی ہے۔دوسرے الفاظ میں محض انسانی قوتِ محن کا خرچ ہونا۔

وہ عمومی قدری حالت جو تمام چیزوں کے محن کو ناقابلِ تخصیص محنِ انسانی کے بطور ظاہر کرتی ہے،اس کے ظاہری ڈھانچے سے پتا چلتا ہے کہ یہ دنیائے اشیاء کے سماجی وجود کا اختصار ہے۔ نتیجتاًیہ شکل حتمی طور پر واضح کرتی ہے کہ اشیا کی دنیا میں ہر محن میں ایک خاصہ ہے کہ یہ انسانی محن ہے اور یہ اس کے مخصوص سماجی خاصے کی تشکیل کرتا ہے۔



2. قدر کی متعلقاتی اور مساوی القوت حالتوں کی داخلی ترقی

قدرکی متعلقاتی حالت کے ارتقاء کا حیطہ اس کے مساوی القوت پر انحصار کرتا ہے۔لیکن ایک بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ مؤ خرالذکر کا ارتقاء صرف اور صرف اول الذکر کے ارتقاء کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ایک شے کی قدر کی ابتدائی یا یکتا حالت ،کسی دوسری شے کو بھی یکتا مساوی القوت میں بدل دیتی ہے۔متعلقاتی قدر کی تصریحی حالت جس کے تحت ایک شے کی قدر کا اظہار دوسری تمام اشیاء میں ہوتا ہے،ان تما م اشیاء کو مختلف اقسام کا خاص مساوی القوت کردار تفویض کرتا ہے ۔اور آخری بات یہ کہ ایک خاص قسم کی شے یونیورسل مساوی القوت کا درجہ اختیا ر کر جاتی ہے،وجہ اس کی یہ ہے کہ دوسری تمام اشیاء کے لئے یہ اس خاص چیز کا کام کرتا جس کی صورت میں وہ سب اپنی اپنی اقدار ظاہر کرتی ہیں۔

قدری حالت کے قطبین، یعنی قدر کی متعلقاتی اور مساوی القوت حالت میں مخاصمت قدر کے ساتھ خود بخود ہی پروان چڑھتی ہے۔

پہلی صورت یعنی:

20 گز ململ = ایک کوٹ

میں یہ تضاد پہلے ہی سے موجود ہے اگرچہ اسے حتمی صورت نہیں ملی۔اگر ہم ان مساواتوں کو الٹ پلٹ کر دیکھیں تو ململ اور کوٹ کے کردار کی نو عیت بدل جاتی ہے۔ایک صورت میں ململ کی متعلقاتی قدر کو ٹ میں ظاہر ہو گی ، اور دوسری صورت میں کوٹ کی متعلقاتی قدر ململ میں۔قدر کی اس اولین صورت میں طرفین کے اختلاف کا سرا غ لگانا مشکل ہے۔

شکل Bسے پتا چلتا ہے کہ ایک وقت میں صرف تنہا ایک شے ہی مکمل طور پر اپنی قدر کی تصریح کر سکتی ہے۔اور یہ تصریحی صورت اس وجہ سے حاصل کر پاتی ہے کہ دوسری تمام اشیاء بھی اس کے لحاظ سے مساوی القوت ہیں۔اب اس مقام پر ہم مساوات کو الٹ نہیں سکتے،جیسا کہ ہم نے مساوات

20 گز ململ =ایک کوٹ

کو بدلا تھا۔البتہ اگر ہم اس کے عام وصف پر اثر انداز ہوتے ہوئے اس کی قدر کی تصریحی صورت کو قدر کی عمومی صورت میں بدل دیں تو ایسا ممکن ہے۔

آخری بات یہ کہ حالت Cدنیائے اشیاء کو قدر کی عمومی سماجی متعلقاتی حالت تفویض کرتی ہے۔اس نکتے کی رو سے ایک شے کے علاوہ باقی تمام اشیاء مساوی القوت حالت سے باہر ہو جاتی ہیں،اس لحاظ سے ایک تنہا شے مثلاً ململ میں کوئی ایسا عنصر موجود ہے کہ جس کے تحت اس کو دوسری تمام اشیاء سے بدلا جا سکتا ہے۔اور یہ ایک ایسا وصف ہے جو دوسری اشیاء میں مزاجاً موجود نہیں ہوتا۔26؂

وہ شے جو یونیورسل مساوی القوت کا روپ دھار لیتی ہے ،ساتھ ہی متعلقاتی قدری روپ سے خارج ہو جاتی ہے۔اگر ململ یا کوئی بھی دوسری شے مساوی القوت کے طور پر کام کر رہی ہو ،اور اسی وقت اسے قدر کا متعلقاتی روپ بھی دھارنا پڑے تو اسے خود اپنے ہی مساوی القوت کا کردار ادا کرنا ہو گا۔پھر ہمارے پاس مساوات کی ذیل کی صورت رہ جائے گی:

20 گز ململ= 20 گز ململ

یہ مترادف صورت نہ قدر کی وضاحت کرتی ہے اور نہ قدر کے حجم کی ۔یونیورسل مساوی القوت کی متعلقاتی حالت کو بیان کرنے کے لئے ہمیں حالت C کوا لٹناہو گا۔اس مساوی القوت کا دوسری اشیاء کے حوالے سے کوئی متعلقاتی قدری روپ نہیں، لیکن اس کی قدر دوسری تمام اشیاء کے لا محدود سلسلے میں بیان ہوتی ہے۔

اس طرح سے متعلقاتی قدرکی تصریحی شکل یا حالت Bکسی مساوی القوت شے کے لئے اب اپنے آپ کو متعلقاتی قدر کے مخصوص روپ میں ظاہر کرتی ہ




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ