قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 790
عنوان قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی
شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
پڑھا گیا 226995
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی کے بنیاد
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ / قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی - کی دوسری شاخیں-

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی


شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

یونیورسل مساوی القوت در حقیقت قدر کی ایک عمومی صورت ہے، اور قدر کی یہ حالت کوئی بھی شے اختیار کر سکتی ہے۔دوسری طرف اگر ایک شے یونیورسل مساوی القوت حالت( حالت C)میں آ جائے ، جو صرف اس صورت میں اور اسی حد تک ممکن ہے جب دوسری تمام اشیاء سے اس کا مساوی القوت کا تعلق ختم ہو جائے اور یہ خاتمہ خود دوسری اشیا کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اسی لمحے سے کہ جب یہ خروج محض ایک خاص شے ہی سے برتا جائے تو صرف اسی لمحے کے لئے دنیائے اشیاء کی متعلقاتی قدر کی عمومی صورت ،ایک حقیقی وجود اور خاص سماجی سند حاصل کر لیتی ہے۔

وہ مخصوص شے جس کی جسمانی ساخت سے مساوی القوت حالت سماجی طور پر مشابہت اختیار کر جائے تو اس صورت میں وہ روپے کی شکل میں آ جاتی ہے، یا روپے کا کام دیتی ہے۔اب یہ اس شے کا خاص سماجی کردار اور سماجی اجارہ داری بن جاتی ہے، کہ وہ دنیائے اشیاء میں یونیورسل مساوی القوت کے طور پر کام کرے۔حالت Bمیں وہ اشیاء جو مساوی القوت روپ اختیار کرتی ہیں ،حالت C میں وہ اپنی متعلقاتی قدریں ململ میں بیان کرتی ہیں۔اور اب یہ جگہ ایک الگ چیز‘‘ سونے ’’نے سنبھال لی ہے۔پھر اگر ہم ململ کی جگہ سونے کو دے دیں تو ہمارے پاس ذیل کی صورت رہ جاتی ہے

(D )شکلِ روپیہ

20 گز ململ=

ایک کوٹ=

10 گرام چائے=

40 گرام کافی=

10 کلو مکئی=

2 /1 من لوہا=

X شےA =



-01-01-00-00-00





2اونس سونا

-018-02-00-00 حالت Aسے حالتBمیں بدلتے ہوئے،اور پھر حالت Bسے حالتCمیں بدلتے ہوئے جو تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں ان کی اصلیت اساسی ہے۔جبکہ حالت CاورDمیں کوئی فرق نہیں،بجز یہ کہ ململ کی جگہ سونا مساوی القوت روپ میں آ گیا ہے۔حالتDمیں سونے کا وہی کردار ہے جو حالت Cمیں ململ کا تھا،یعنی یونیورسل مساوی القوت ۔

دوسری تمام اشیاء کی رو سے اب سونا روپیہ بن چکا ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ پہلے یہ ان کے لحاظ سے محض ایک شے تھا،اور دوسری تمام اشیاء کی طرح یہ بھی مساوی القوت کردار کا اہل تھا ۔چاہے تنہا تبادلوں میں سادہ مساوی القوت کے طور پر یا دوسروں کے اعتبار سے مخصوص مساوی القوت کے طور پر۔پھر آہستہ آہستہ بدلتے ہوئے محدودات کے تحت یہ یو نیورسل مساوی القوت بن گیا۔جونہی دنیائے اشیاء کی اقدار کے بیان میں اس کی یہ اجارہ داری قائم ہوئی تو یہ شے کی وہ شکل بن گیا جو اب‘‘ روپیہ’’کا کام دینے لگی۔(( money commodity۔پھر حالت Dکی صورتِ احوال حالتCسے ممیزہوتی گئی،اور قدر کی عمومی صورت روپے کی صورت میں بدل گئی۔

ایک خاص شے ،جیسے‘‘ ململ ’’کی متعلقاتی قدر کا کسی بھی دوسری شے میں ابتدائی اظہار،جیسے سونا،جو روپے کا کردار ادا کرتا ہے، اس شے کا قیمت کی شکل میں بیان بھی ہے۔چنانچہ ململ کی قیمت کی شکل درج ذیل ہو گی:

20 گز ململ = 2 گرام سونا

یا

جب 2 گرام سونا سکے کی شکل میں آ تا ہے ،تو روپوں میں بدل جاتا ہے چنانچہ:

20گز ململ = 2روپے

شکلِ روپیہ کی اصلیت جاننے میں یونیورسل مساوی القوت کا ادراک سب سے بڑا مسئلہ ہے،اور واضح نتیجہ اخذ کرنے میں قدر کی عمومی صورت یعنی حالت C۔آ خرالذکر کو حالت B، یعنی قدر کی تصریحی صورت،سے بھی منتج کیا جا سکتا ہے،وہ ضروری عنصر جو ہم نے حالت Aمیں دیکھا تھا،یعنی

20 گز ململ= ایک کوٹ

یا

Xشے A = yشے B

ابتدائی شکل ِشے میں سے ہی در اصل شکلِ روپیہ کا سوتا پھوٹتا ہے۔



فصلِ چہارم:استصنامِ شے اور اس کے اسرار

شے ،بادی النظر میں ،ایک معمولی سی چیز لگتی ہے جس کا سمجھنا بڑا آسان ہے۔اس کے تجزئے سے پتا چلتا ہے کہ در حقیقت یہ ایک پیچیدہ اور غیر معمولی چیز ہے، جس میں ما بعد الطبعیاتی سیراب اور غیر مرئی نفاستیں پائی جاتی ہیں ۔ اب چونکہ اس کی حقیقت استعمال کی ایک قدر کی بھی ہے اس لئے اس میں کوئی چیز بعید از فہم نہیں ہے۔چاہے ہم اس کو ان خواص کے تحت پرکھیں جن کے ذریعے یہ انسانی حاجات کی تسکین کرتی ہے یا اس نقطۂ نظر کے تحت کہ یہ خواص محنِ انسانی کی پیداوار ہیں۔یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسان اپنی صنعت سے فطرت کے پیدا کردہ عناصر کی ماہیت بدل کر اسے اپنے لئے مفید بنا لیتا ہے۔مثال کے طور پر لکڑی کی ظاہری صورت کو بدل کر میز بنایا جا سکتا ہے۔لیکن خود میز عام روزمرہ استعمال کی چیز ہونے کے باوجود درحقیقت لکڑی ہی رہتا ہے۔لیکن جونہی یہ اشیاء میں شمار ہونے لگتا ہے تو یہ ایک ماورائی چیز میں بدل جاتا ہے۔ نہ صرف کہ اس کے اپنے پاؤں زمین پر ہوتے ہیں بلکہ دوسری اشیاء کے لحاظ سے یہ سر کے بل بھی کھڑا ہوتا ہے۔اس کے لکڑی کے دماغ میں عجیب وغریب نظریات بھی پیدا ہوتے ہیں۔یہ نظریات جادوئی شعبدہ بازی سے کہیں زیادہ حیران کن ہیں۔

لہٰذااشیاء کا پوشیدہ جادوئی وصف ان کی قدرِ صرف سے نمودارنہیں ہوتا۔ نہ ہی یہ وصف قدر کے تعین کے عوامل کی نوعیت میں نمودار ہوتا ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ مفید قسم کا محن یا پیداواری سرگرمی ،چاہے ان کی نوعیت کوئی بھی ہو ،مادیحقیقت ہے کہ، بنی نوع انسان ہی کے عمل کا نتیجہ ہے۔اور یہ کہ اس قسم کا ہر عمل،چاہے اس کی نوعیت کوئی بھی ہو ،بنیادی طور پر انسانی دماغ، اعصاب ، اور طاقت وغیرہ ہی کا استعمال ہے۔ دوسرے یہ کہ اس چیز کی رو سے جو قدر کے مقداری ناپ کے لئے بنیاد مہیا کرتی ہے ،یعنی اس [دماغ،اعصاب اور طاقت وغیرہ کے] استعمال کا عرصہ یا مقدارِ محن،یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ، اس کے خواص اور مقدار میں واضح فرق ہوتا ہے۔معاشرے کے تمام طبقات میں ،وہ عرصۂ محن جو اشیائے خورد و نوش کی پیداوار کے لئے درکار ہوتا ہے، لازماًانسان کی دلچسپی کا سامان ہے، اگرچہ [معاشرے کے ]ارتقا کے مختلف مدارج میں یہ دلچسپی ایک جیسی نہیں ہوتی27؂۔ آخری بات یہ کہ عین اس لمحے سے جب انسان کسی بھی طریقے سے ایک دوسرے کے لئے کام شروع کر دیتے ہیں، ان کی محن سماجی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

پھر محن کی پیداوار کے دقیق تر انداز کامخرج جونہی یہ اشیاء کی صورت میں آ تی ہے، کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ خود اسی صورت سے۔تمام انواع و اقسام کی انسانی محن کی برابری معروضی طور پر اسی صورت میں بیان ہوتی ہے کہ،[اولاً] اس محن کی تمام مصنوعات مساوی قدر کی حامل ہوتی ہیں۔[ثانیاً ] ان پر مستعمل قوتِ محن کا ناپ اپنی استعمال کی مدت کے ذریعے ،[ثالثاً]مصنوعۂ محن کی قدر کے اجماع کی شکل اختیار کر تے ہوئے۔ آخری بات یہ کہ پیداکاروں کے وہ باہمی تعلقات جن کے تحت ان کے محن کا سماجی خاصہ اپنا تعین کرتا ہے،یہی رابطہ ان کی مصنو




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ