قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 790
عنوان قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی
شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
پڑھا گیا 226744
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی کے بنیاد
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ / قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی - کی دوسری شاخیں-

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی


شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

عات کے سماجی تعلق کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

ایک شے صرف اس وجہ سے پر اسرار چیز بن جاتی ہے کہ اس میں موجود انسانی محن کا سماجی خاصہ ان کے سامنے بطور ایک معروضی خاصے کے ظاہر ہوتا ہے جو اس شے پر چپکا ہوا لگتاہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ پیداکاروں کا اپنے محن کے کل کے ساتھ تعلق ایک ایسے سماجی تعلق کے طور پر سامنے آ تا ہے جو خود ان کے اپنے مابین نہیں ہوتا بلکہ ان کے محن کی مصنوعات کے درمیان ہوتا ہے۔اسی وجہ سے محن کی مصنوعات اشیاء کا روپ دھار لیتی ہیں ،یعنی ایسی سماجی چیزیں جن کے خواص بیّن بھی ہوتے ہیں اور مخفی بھی۔بالکل اسی طرح سے ،جو روشنی ایک چیز سے ہم تک پہنچتی ہے وہ ہمارے بصری اعصاب کی تحریک کا داخلی نتیجہ نہیں ہوتی،بلکہ بالواسطہ طور پر ہم تک ایک ایسی چیز کے ذریعے سے پہنچتی ہے جو ہماری آنکھوں سے باہر ہے۔لیکن دیکھنے عمل کے دوران روشنی حقیقتاً ایک چیز سے دوسری چیز تک جاتی ہے،اور ایک بیرونی چیز سے آنکھ تک آتی ہے۔ طبعی چیزوں کے مابین تعلق بھی طبعی نوعیت کا ہوتا ہے، لیکن اشیاء کا معاملہ اس سے کافی مختلف ہے۔وہاں،چیزوں کا بطور اشیاء کے وجود ،اور محن کی مصنوعات کے درمیان قدری تعلق جو انہیں اشیاء کی شکلمیں لاتا ہے، ان کے طبعی خواص سے اور اس مادی رابطے کے ساتھ جو ان کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے، کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔اب افراد کے مابین ایک خاص سماجی تعلق ہوتا ہے،جو ان کی نظروں میں ،چیزوں کے مابین ایک واہمی تعلق کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔چنانچہ ان کی مشابہت جاننے کے لئے ہمیں مذہب کے ایک مبہم پہلو کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔اس [مذہبی] دنیا میں انسانی ذہن کی پیداوار آزاد وجود کا روپ دھار لیتی ہیں جن کی اپنی زندگی ہے۔جوخود ایک دوسرے کے مابین اور انسان کے ساتھ باہمی تعلق میں متحرک نظر آتی ہے۔یہی صورتِ حال دنیائے اشیاء میں انسانی ہاتھ کی مصنوعات کے ساتھ ہے۔اور میں اس کو ‘‘استصنامـ ’’ کے نام سے موصوم کرتا ہوں،اور جیسے ہی مصنوعات اشیاء کی صورت اختیار کریں یہ ان کے ساتھ چمٹ کر رہ جاتا ہے،یہاں تک کہ اس کو ان اشیاء سے الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔

اشیاء کے اس استصنام کی بنیاد، جیسا کہ ہمارے تجزئے نے ثابت بھی کر دیا ہے،محن کے اس سماجی کردار پر ہے جوانہیں پیدا کرتا ہے۔

ایک سادہ سا کلیہ ہے کہ عام استعمال کی چیزیں اس وجہ سے اشیاء میں بدلتی ہیں کہ وہ ایک نجی فرد کے محن کی پیداوار ہیں،یا افراد کے ایک ایسے گروہ کی جوایک دوسرے سے علیحدہ اپنا کام کرتے ہیں۔ان تمام نجی افراد کے محن کا مجموعہ ہی سماج کے محن کی اوسط بنتا ہے۔پیداکار اس وقت تک ایک دوسرے کے ساتھ سماجی رابطے میں نہیں آ سکتے جب تک وہ اپنی مصنوعات کا تبادلہ نہیں کرتے۔کیونکہ ہر پیداکار کے محن کا مخصوص سماجی کردار صرف اور صرف مبادلے کے عمل ہی میں ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک فرد کا محن صرف اس وقت سماج کے مجموعی محن کے جزو کی شکل اختیار کرتا ہے جب یہ اس تعلق کے طور پر ظاہر ہو جو مبادلے کا عمل بالواسطہ طور پر مصنوعات کے درمیان قائم کرتا ہے اور بلاواسطہ طور پر پیداکاروں کے درمیان۔ موخر الذکر تعلق کی حقیقت ایک ایسے تعلق کی ہے جس کے تحت فردِ واحد کے محن کی جڑت دوسرے تمام افراد کے ساتھ افراد کے مابین براہِ راست سماجی تعلق کی صورت میں نہ ہو بلکہ ان کے مادی [غیر سماجی]تعلق کو ظاہر کرے،اور چیزوں کے سماجی تعلق کوظاہر کرے ۔وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ مبادلے کے عمل میں محن کی مصنوعات کو اقدار ہونے کی رو سے ایک ایسا متجانس سماجی روپ درکار ہوتا ہے جو ان کے مختلف نوعیت کی مفید چیزیں ہونے سے مختلف ہو۔ایک مصنوعہ کی کار آمد چیز اور ایک قدر میں یہ تقسیم عملی طور پر اہم اس وقت بنتی ہے،جب یہ مبادلہ میں ایسی شکل اختیار کر جائے کہ مفید چیزوں کو صرف مبادلے ہی کی غرض سے تیار کیا جائے۔اور ان کے قدری پہلو کو پیداواری عمل کے دوران ہی مدِ نظر رکھا جائے۔اسی لمحے سے ایک فرد کے محن میں دو رخا پن در آتا ہے۔ایک طرف ایک خاص فرد کے محن کو مفید ہونے کے ناتے کسی خاص سماجی حاجت کی تسکین کرنا ہوتی ہے،اس طرح سے یہ اجتماعی محن کا جزوِ لاینفک بن جاتا ہے،یعنی محن کی سماجی تقسیم کی ایک ایسی شاخ جس کی نمودخود بخود ہوجاتی ہے۔دوسری طرف یہ پیداکار کی کثیر الجہتی حاجات کی تسکین بھی کر سکتا ہیجہاں تک کہ ہر نوع کے نجی محنِ مفید کا باہمی تبادلہ ایک اٹل سماجی حقیقت ہے،اس لئے ہر پیداکار کا نجی انفرادی محن دوسرے تمام پیداکاروں کے محن سے برابری پر آ جاتا ہے۔مختلف اقسام کے محن کے امتیازات سے[انسانی محن کے عنصر کا]امتشاق کرنیسے ہی یہبرابری حاصلہو سکتی ہے،یا پھر ان کی اپنے عمومی نسب نما میں تبدیلی، یعنی محنِ انسانی یا انسانی قوتِ محن کے استعمال کاامتشاق۔ایک فرد کے محن کا دو رُخا کردار اس پر صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ اس کے ذہن میں ان اشکال کی صورت میں منعکس کیا جائے جو اس محن پر چیزوں کے روز مرہ کے تبادلے کی ذیل میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس طریقے سے وہ کردار جس کا حامل خود اس کا اپنا محن ہوتا ہے،یعنی سماجی طور پر مفید ہونا،اس پر یہ شرط لاگو آ جاتی ہے کہ مصنوعہ کو محنِ مفید ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اوروں کے لئے بھی کار آ مد ہونا چاہیے۔اور وہ سماجی رویہ جو اس کے مخصوص سماجی محن کو تفویض ہوتا ہے ،کہ وہ تمام ودوسرے خاص قسم کے محن سے بھی مساوی [القوت] ہو، اس کی شکل کچھ اس طرح سے بن جاتی ہے کہ تمام متفرق مصنوعاتِ محن جن کے مادی خواص بھی جدا ہیں ان میں ایک ہی متجانس عنصر در آئے کہ وہ تمام قدر کی حامل ہیں۔

پس جب ہم اپنے محن کی مصنوعات کوباہمی تعلق میں لاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ متجانس محنِ انسانی کا منبع ہیں ،بلکہ اس سے برعکس کہ جب ہم اپنی مصنوعات کو مساوی تصور کرتے ہیں تو در حقیقت ہم ان پر خرچ شدہ مختلف نوعیتوں کے محن کو عام انسانی محن میں بدل دیتے ہیں ۔ہم اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے،اگرچہ ہم یہ سب کر گزرتے ہیں28؂۔چنانچہ قدر اس لبادے تک ہی محدود نہیں رہ جاتی جو اس پر تان دیا جاتا ہے،بلکہ یہ قدر ہی ہوتی ہے جو ہر مصنوعہ چیزکو معاشرتی علامت میں بدل دیتی ہے۔بعد ازاں ہم اس علامتی خول کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ خود اپنی سماجی مصنوعات کے رموز جان سکیں۔ کیونکہ افادے کی حامل چیز پرقدر کی چھاپ لگانا اتنا ہی سماجی عمل ہے جتنا کہ زبان۔جدید سائنسی ایجادات جوکہ در حقیقت محن کی پیداوار ہیں ، اقدار ہونے کے ناتے بجز اس محنِ انس




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ