قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 790
عنوان قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی
شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
پڑھا گیا 226736
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی کے بنیاد
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ / قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی - کی دوسری شاخیں-

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی


شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

نی کی مادی اشکال کے اور کچھ نہیں جو ان کی تیاری میں خرچ ہوئی ہیں ۔در حقیقت یہ بنی نوع انسان کی ترقی کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔لیکن یہاں کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں جس سے اس دھند کو صاف کیا جائے،جس کے ذریعے محن کا سماجی کردار ہمارے سامنے مصنوعات کے اپنے معروضی روپ میں آتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پیداوار کی مخصوص اشکال جوزیر بحث ہیں، یعنی اشیا کی پیداوار، اان کا مخصوص سماجی خاصہ ، یعنی ذاتی محن جو آزادانہ سر انجام دیا جاتا ہے اس بات میں مشتمل ہے کہ ہر قسم کا محن اس لئے برابری رکھتا ہے کہ یہ محن انسانی ہے اور اسی خاصے کی بنا پر شے میں قدر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پیداکار کے لئے یہ حقیقت ، اوپر بیان کی گئی دریافت کے باوجود حقیقی اور حتمی ہے، جیسے ماحول جوں کا توں ہی رہاباوجود اس کے کہ سائنس نے یہ حقیقت دریافت کر لی کہ ہوا میں مختلف گیسیں موجودہیں ۔

سوال یہ ہے کہ جب پیداکار[ اشیاء کا] تبادلہ کرتے ہیں تو عملی طور پر وہ سب سے پہلے کس معاملیسے دوچار ہوتے ہیں؟ اور اپنی پیداوار کے بدلے میں انہیں دوسری قسم کی پیداوار کی کتنی مقدار حاصل ہوتی ہے ؟اور یہ مصنوعات کس تناسب کے تحت تبدیل ہو سکتی ہیں؟جب وقت کے ساتھ ساتھ یہ نسبتیں مستحکم ہو جاتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ مصنوعات کی خود اپنی نوعیت کی وجہ سے ہیں۔اس کی مثال یوں ہے کہ ایک ٹن لوہا اور دو گرام سونافطری طور پر برابر اقدار معلوم ہوتی ہیں۔ان کے بر عکس آدھ کلو سونا اور آدھ کلو لوہا اپنے طبعی اور کیمیاوی خواص سے درکنار دو برابر اوزان ہی ہیں۔قدر رکھنے کا وصف جب ایک بار مصنوعات پر لاگو کیا جاتا ہے تو اس وجہ سے یہ ان کے ساتھ لازم و ملزوم ٹھہرتا ہے کہ وہ اقدار کی مختلف مقداریں ہونے کے ناتے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ یہ مقداریں ایک تسلسل کے تحت بدلتی رہتی ہیں ،اور پیداوار کنندہ کی منشا، حکمتِ عملی،اور رویے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ان کا اپنا سماجی عمل چیزوں کے عمل کی صورت میں بدل جاتا ہے،اور یہ محکوم کی بجائے پیداکاروں کا حاکم بن جاتا ہے۔سائنسی سوجھ بوجھ کے حاصل ضروری ہے کہ پہلے اشیا کی پیداوار مکمل ارتقا حاصل کر لے اور اس سے کلی تجربہ حاصل ہو کہ مختلف اقسام کا انفرادی محن ایک دوسرے سے آزادانہ طورپر سر انجام دیا جاتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ سماجی تقسیم محنت کی مختلف شاخوں کی شکل میں خود بخود ظہور پذیر ہو تا ہے، اور یہ [محن] مسلسل ان مقداری نسبتوں تک محدود ہوتا رہتا ہے جس میں خود معاشرے کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔اور کیوں ؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ چیزوں کے مابین حادثاتی اور ہمیشہ ادلتے بدلتے ہوئے مبادلی تعلقات کے دوران ان کی پیداوار کے لئے سماجی طور پر درکار وقتِ محن اپنے آپ کو فطرت کے ایک بے رحم اصول کی طرح منواتا ہے۔زمینی کشش کا یہ اصول اس وقت اپنے آپ کو منواتا ہے جب ہم کسی گھر کے گرنے کی آواز سنتے ہیں29؂۔وقتِ محن کے ذریعے قدر کے حجم کا تعین ایسے بھید کو دریافت کرنے کی مانند ہے جو کہ بظاہر اشیاء کی متعلقاتی اقدار کے اتار چڑھاؤ میں مضمر ہے۔اس کی دریافت محض اتفاقی کی ظاہر کو مصنوعات کی قدر کے حجم کی تعیےن سے علیحدہ کرتے ہوئے بھی اس نہج کو نہیں بدل سکتی جس میں یہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔

انسان کی سماجی زندگی کی مختلف اشکال پرسوچ بچار اور ساتھ ہی ساتھ ان اشکال کا سائنسی تجزیہ ایک ایسی راہ اختیار کر لیتا ہے جو ان کے تاریخی ارتقاء سے برعکس ہوتی ہے۔وہ کسی چیز کے وقوع پذیر ہونے کے بعد ارتقا کے عمل سے حاصل نتائج کو نقطہ ٔ آغاز بناتا ہے ۔وہ عناصر کوجو مصنوعات کو شے کاروپ دیتے ہیں اور جن کا ظاہر ہونا اشیاء کی گردش کے لئے بنیادی اور لازمی ہے،پہلے ہی سماجی زندگی کی فطری طور پر مستحکم اشکال میں موجود ہوتے ہیں جن کا مفہوم خود سے واضح ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کہ فرد ان کے تاریخی کردار کی چھان بین کرے کیونکہ وہ تو غیر تغیر پذیر ہوتے ہیں بلکہ ان کے معنوں کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ نتیجتاًیہ محض اشیاء کی قیمتوں کا تجزیہ تھا جس کے توسط سے قدر کے حجم کی دریافت ممکن ہوئی۔اور یہ تمام اشیاء کا روپے کی شکل میں عام اظہار تھا جو ان کے اقدار ہونے کا باعث بنا ۔ تاہم اب یہ محض دنیائے اشیاء کی شکلِ روپیہ ہی ہے جو در حقیقت انفرادی محن کے سماجی کردار اور انفرادی پیداکاروں کے درمیان سماجی تعلق کو بجائے ظاہر کرنے کے چھپاتی ہے۔جب میں یہ کہتا ہوں کہ کوٹ یا بوٹ کسی تعلق کے تحت ململ سے مقابل ہوتے ہیں تو چونکہ یہ مجرد محنِ انسانی ہی کی یونیورسل جسمانیت ہیں ،تو اس بیان کی مضحکہ خیزیت خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔جب کوٹ اور بوٹ کے پیداکار ان چیزوں کا ململ کے ساتھ یا اتنی ہی کسی دوسری چیز کے ساتھ مثلاً سونا یا چاندی ،یونیورسل مساوی القوت کے طور پر موازنہ کرتے ہیں تو درحقیقت وہ اپنے انفرادی محن اور سماج کے اجتماعی محن کے باہمی تعلق کی اسی مضحکہ خیزصورت کو پیش کرتے ہیں۔

بورژوا معیشت کے مقولیاتی اصول بھی اسی طرح کی اشکال پر مشتمل ہے ۔وہ اس سوچ کی شکلیں ہیں جو سماجی واجبیت کے ساتھ مخصوص اور تاریخی طور پر متعین طبع پیداوار کی صورتوں اور تعلقات اظہار کرتی ہے،یعنی اشیاء کی پیداوار۔اشیاء کا تمام طلسم اور سارے کا سارا جادو ٹونا جو اس وقت تک مصنوعات ِ محن کو اپنے گھیرے میں لئے رکھتا ہے جب تک وہ اشیاء کی شکل میں رہتی ہیں،اور جونہی ہم پیداوار کی دوسری اشکال کی طرف مڑتے ہیں،غائب ہو جاتا ہے۔

چونکہ رابنسن کروسو(Robinson Crusoe) کے تجربات سیاسی معیشت دانوں 30؂کے ہر دل عزیز ہیں اس لئے ہم اس کے جزیرے پر ایک طائرانہ نگاہ ضرور دوڑائیں گے۔وہ چاہے ایک معتدل سوچ کا مالک تھا،لیکن اس کے باوجود اسے کچھ حاجات کی تسکین کرنا ہوتی تھی ۔چنانچہ وہ کسی بھی طرح کے چھوٹے موٹے مفید کام کیا کرتا تھا،جیسے سامان اور فرنیچر بنانا ،بکریاں پالنا ،مچھلیاں پکڑنا، اور شکار کھیلنا وغیرہ۔اس کی عبادات سے ہمیں کرئی سروکار نہیں ،مانا کہ وہ اس کے لئے مسرت کا سامان فراہم کرتیں ،اور ان عبادات میں دلچسپی رکھتا تھا ۔اس کے باوجود کہ وہ مختلف نوعیتوں کے کام کرتا مگر وہ جانتا تھا کہ اس کا محن اپنی کسی بھی شکل میں صرف رابنسن ہی کی سرگرمی تھا ۔اور ظاہر ہے کہ یہ بجز محنِ انسانی کی مختلف وضعوں کے اور کچھ نہیں ۔احتیاج بذاتِ خود اسے مجبور کرتی کہ وہ اپنے مختلف نوعیتوں کے کاموں کے لئے وقت کی صحیح ترین تقسیمِ کار کرے۔چاہے ایک قسم کا کام اس کی مجموعی سرگرمی میں دوسر ے کام سے زیا




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ