قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 790
عنوان قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی
شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
پڑھا گیا 226760
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی کے بنیاد
قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ / قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی - کی دوسری شاخیں-

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی


شاخ قدر کی ابتدائی حالت کا مجموئی جائزہ
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ4
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں،اور اس کے نتیجے میں افراد پیداکاروں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں،ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں ، تاہم ان کی اہمیت میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے،جب قدیم طبقات آہستہ آہستہ اپنی فنا کے قریب تر ہوتے گئے۔ تمام نام نہاد تجارتی اقوام،تھوڑ ے درمیانی وقفے میں وجود رکھتی تھیں، بالکل ایپی کیورس کے دیوتاؤں کی طرح جو تھوڑی دیر کے لئے پاتال میں رہے، یا ان یہودیوں کی طرح جو پولینڈ کے معاشرے میں دھنسے ہوئے تھے۔پیداوار کے وہ سماجی ڈھانچے بورژوا سماج کی نسبت بہت سادہ اور شفاف ہیں۔لیکن ان کی بنیاد یا تو ایک فرد کی نجی حیثیت کے اس ابتدائی نوعیت کے تعلق پر استوار ہوئی،جس میں ایک فرد قدیمی قبائلی معاشرے کے نال [umblical cord ]سے ابھی چھوٹا نہ تھا،یا پھراطاعت کے براہِ راسط تسلط پر ۔ان کا وجود صرف اس وقت اپنا اظہار کر سکتا ہے جب محن کی تخلیقی قوت کا ارتقاء ابھی پست ترین سطح سے بلند نہ ہوا ہو،اور جب مادی زندگی کے سماجی تعلقات یعنی انسان اور انسان کے درمیان اور انسان اور فطرت کے درمیان ،واضح طور پر تنگہوں۔روابط کی یہ تنگی فطرت کی پرستش اور مقبول ترین مذاہب کے دیگر عناصر سے منعکس ہو جاتی ہے۔حقیقی دنیا کی مذہبی شبیہ صرف اس وقت غائب ہوتی ہے،جب روز مرہ زندگی کے عملی روابط انسان کے اوپر صرف ایسے روابط کی صورت میں ظاہر ہوں جو دیگر افراد اور فطرت کے لحاظ سے حقیقی اور عقلی ہوں۔

معاشرے کا عملِ حیات،جس کی بنیادپیداوار کے مادی عمل پر استوار ہوتی ہے،اس وقت تک اپنے اندر سے مذہبی خناس کو دور نہیں کر پاتا، جب تک اس کی پیداوار کو آزاد انسانوں کی پیداوار نہیں سمجھا جاتا اور اسے شعوری طور پر ایک طے شدہ عمل کے تحت سر انجام نہیں دیا جاتا ۔تاہم یہ چیز معاشرے کے لئے ایک ایسے مادی پس منظر یا بقا کی شرائط کے ایک ایسے نظام کا تقاضا کرتی ہے ،جس کی حقیقت ارتقاء کے ایک طویل اور تکلیف دہ عمل کا نتیجہ ہو۔

سیاسی معاشیات نے قدر اور اس کے اجماع کاتجزیہ کیا ضرور ہے32؂ ،اگرچہ یہ نا مکمل ہی ہے،اور یہ سراغ بھی لگایا ہے کہ ان ہیئتوں کی تہہ میں کیا چیز مخفی ہے۔لیکن یہ سوال کبھی بھی اٹھایا نہیں گیا کہ محن مصنوعہ کی قدر سے ، اور عرصۂ محن قدر کے اجماع سے کیوں بیان کیا جاتا ہے33؂۔یہ کلیے جن پر یہ بات غلط انداز میں ثبت کر دی جاتی ہے کہ وہ معاشرے کی ایک ایسی حالت سے متعلق ہیں جس میں پیداواری نظام انسانوں کے تابع ہونے کے بجائے ان پر سبقت رکھتا ہے، اس قسم کے کلیے بورژوا اذہان کو اس انداز میں متاثر کرتے ہیں کہ وہ ان کو واضح لازمیت گردانتے ہیں جو فطرت نے مسلط کی ہے جس طرح پیداواری محن فطرت کی طرف سے انسان کے لئے لازمیت ہے۔ اس لئے بورژوا سماج سے پہلے کی سماجی بنتیں بورژوا ویسے ہی سمجھتے ہیں جس طرح گرجا کے پادری عیسائیت سے پہلے کے مذاہب کو لیتے ہیں34؂۔

کچھ معیشت دان استصنامِ شے سے ،یا محن کے سماجی خصائص کی معروضی شکل سے کس حد تک گمراہ ہوئے ہیں،اس کا اندازہ ہمیں اس بات سے ہو جاتا ہے کہ وہ [اشیاء کی ]قدرِ مبادلہ کے پروان چڑھانے میں فطرت کے کردار پر کس بے ہنگم اور بے معنی انداز میں بحث کرتے ہیں۔چونکہ قدرِ مبادلہ ایک ایسا مخصوص سماجی عمل ہے جس کے تحت ایک چیز پر استعمال شدہ مقدارِ محن کا اظہار کیا جاتا ہے،اس مقام پر فطرت محض اس مبادلے کی نوعیت کی تشکیل کرتی ہے۔

وہ طبعِ پیداوار جس میں مصنوعہ شے کی شکل اختیار کر جاتی ہے،یا محض مبادلے کے لئے ہی تیار کی جاتی ہے،بورژوا پیداوارانہ نظام کی عام ترین یا انتہائی بنیادی شکل ہے۔تاہم اس کا اظہار تاریخ کے ابتدائی ادوارمیں ہوتا ہے،اگرچہ اس کی آج کل کے دور جیسی واضح اور غالب شکل نہیں،پس شے کا استصنامی خاصہ جاننا زیادہ آسان ہے۔ لیکن جب ہم اس سے زیادہ مقرونی اشکال کا جائزہ لیتے ہیں ،تو اس کی بظاہر سادہ ترین حالت بھی غائب ہو جاتی ہے۔پھر اس زر کے نظام کا سراب کس وجہ سے نمودار ہوا؟ اس میں سونا اور چاندی ،جب روپے کا کام دے رہے ہوتے ہیں،تو یہ پیداکاروں کے مابین سماجی ربط کو بیان نہیں کرتے،بلکہ ان کی حیثیت ایسے عناصر کی ہوتی ہے جن میں عجیب وغریب سماجی خصائص یکجا تھے۔اور وہ جدید معاش جو اس زر کے نظام کو ایسی حقارت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے ،جب یہ سرمائے کی بات کرتا ہے، تو کیا اس وقت اس کی ضعیف الاعتقادی روزِ روشن کی طرح عیاں نہیں ہوجاتی ؟معاش نے فطری درجہ بندی پر مبنی اس دھوکے کو کب سے نظراندازکر رکھا ہے ،کہ لگان زمین سے پیدا ہوتاہے نہ کہ معاشرے سے؟

لیکن اپنی تسلی سے درکنار ،ہم شکلِ شے کی مزید ایک مثال دینے پر ہی اکتفا کریں گے۔اگر اشیاء کو گویائی نصیب ہو جائے تو وہ کہیں کہ :ہماری قدرِ صرف ہی ایسی چیز ہو سکتی جس میں انسان کو دلچسپی ہو۔شے ہونے کے ناتے یہ ہماری خوبی نہیں ۔شے ہونے کی حیثیت سے ہماری خوبی در اصل ہماری قدر ہے۔ہمارا اشیاء کی حیثیت میں فطری تبادلہ اسی بات کی دلیل ہے۔ایک دوسرے کی نگاہوں میں ہم بجز اقدارِ مبادلہ کے اور کچھ نہیں۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ اشیاء معیشت دانوں کی زبان سے کیا کہتی ہیں۔ ‘‘ قدر ’’۔(مراد قدرِ مبادلہ )‘‘اشیاء کا خاصہ ہوتا ہے،اور دولت ’’( مراد قدرِ صرف )‘‘ انسانوں کا۔قدر کا تعلق،اس لحاظ سے ،محض مبادلوں کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ دولت کا نہیں35؂۔ ’’ ‘‘ دولت ’’ (مراد قدرِ صرف)‘‘کوانسان ہی سے منسوب کیا جا سکتا ہے،اورقدر کو اشیاء کے ساتھ۔ایک آدمی یا ایک شے افزودہ ہوتی ہے ،ایک موتی یا ہیرا قدر کے حامل ہوتے ہیں ـــ....۔ایک موتی یا ہیرا قدر کے حامل ہوتے ہیں ’’ بالکل موتی یا ہیرے کے بطور36؂۔ کسی کیمیا دان نے بھی آج تک موتی یا ہیرے میں قدرِ مبادلہ دریافت نہیں کی۔اس کیمیاوی عنصر کے وہ معاشی کھوجی ،جنہوں نے بار بار تنقیدی بصیرت کے دعوے کئے ہیں ،وہ بھی جان جاتے ہیں کہ چیزوں کی قدرِ صرف کا شمار ان کے اپنے مادی خواص میں ہوتا ہے،جبکہ دوسری طرف ان کی قدر ،ان کے شے ہونے کی وجہ سے ان کا جزو بنتی ہے۔اس اعتبار سے جو عنصر ان کی قدرِ صرف کا تعین ان کے مبادلے کے بغیر ہی کرتی ہے، وہ مخصوص حالات ہیں جس کے تحت انسان اور چیزیں براہِ راست تعلق میں آتے ہیں،دوسری طرف ان کی قدر ان کے تبادلے ہی سے اخذکی جا سکتی ہے،یعنی ایک سماجی عمل کے تحت۔یہاں ہمیں ایک بہترین دوست ، ڈاگ بیری(Dogberry) یاد آ جاتا ہے جس نے اپنے ایک قریبی سکول کو یہ اطلاع بہم پہنچائی تھی کہ :

‘‘ خوش ب




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ4
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

قدر کی عمومی حالت کی شکلِ روپیہ میں تبدیلی ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ