قدر کی متعلقاتی حالت : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 784
عنوان قدر کی متعلقاتی حالت
شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
پڑھا گیا 233716
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی متعلقاتی حالت کے بنیاد
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی متعلقاتی حالت - کی دوسری شاخیں-

قدر کی متعلقاتی حالت


شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

قدر کی متعلقاتی حالت

(الف )اس حالت کی نوعیت اور اہمیت

یہ بات جاننے کے لئے کہ کسی شے کی قدرکے ابتدائی اظہار کی صورت کس طرح سے دو اشیاء کے قدری تعلق میں مضمر ہے ،ہمیں سب سے پہلے آخرالذکر کے مقداری پہلو کو یکسر نظر انداز کرنا ہو گا۔اس کا رسمی طریقۂ کا ر اس سے بالکل برعکس ہے۔جس کے تحت مختلف قسم کی دو اشیاء کی صرف ان خاص مقداروں کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے جنہیں مساوی سمجھا جائے۔اور یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ مختلف اشیاء کی دو مختلف مقداروں کو صرف اسی صورت میں آمنے سامنے لایا جا سکتا ہے جب دونوں کا حجم ایک ہی پیمانے سے متعین کیا گیا ہو۔یعنی ایسے اجزاء جن کا تعلق ایک ہی جنس سے ہو اور ایک دوسرے سے متبادل ہوسکتے ہوں۔ 17؂

چاہے20 گز ململ ایک کوٹ کے برابر ہو یا 20 کوٹوں کے یا اس سے بھی زیادہ،مطلب یہ کہ چاہے ململ کی دی گئی مقدار ایک کوٹ کے برابر ہو یا زیادہ کے،اس قسم کی کسی بھی مساوات سے مراد یہ ہو گا کہ قدر کے اجماع کی حیثیت سے کوٹ اور ململ ایک ہی چیز کے اظہار کی دو صورتیں ہیں۔

ململ = کوٹ

ہی مساوات کی بنیاد ہے۔

لیکن وہ دو اشیاء جن کے معیار کی شناخت ہو چکی ہو اس پر یہ مساوات صادق نہیں آتی۔یہ تو صرف ململ کی قدر ہے جس کا اظہار کیا گیا ہے ۔اور کس طرح؟ کوٹ کے ساتھ اس کے مساوی القوت ہونے کی بنا پر،یعنی ایک ایسی چیز کی حیثیت سے جو اس سے متبادل ہو سکتی ہے۔اس تعلق میں کوٹ قدر کے اظہار کا ایک انداز ہے،یا قدر کی تجسیم ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کی مثا ل بھی ململ کی سی ہے۔اس کے برخلاف ململ کی اپنی قدر انفرادی طور پر ظاہر ہوتی ہے۔یعنی یہ تو محض ایک ایسی قدر ہے جس کا موازنہ کوٹ کے ساتھ اس وجہ سے کیا جا سکتا ہے ،یا یہ کوٹ سے اس وجہ سے بدلی جا سکتی ہے کہ یہ بھی اس سے مساوی قدر ر کھنے والی ایک چیز ہے۔وضاحت کے لئے ہم کیمسٹری سے ایک مثال لے سکتے ہیں۔ بیوٹرک ایسڈ(butric acid)اور پروپائل فارمیٹ(propile formate)دو مختلف عناصر ہیں۔لیکن دونوں ایک ہی قسم کے کیمیائی موادیعنی کاربن ، ہائیدروجن اور آکسیجن سے بنتے ہیں،اور ان کا تناسب بھی برابر ہی ہوتا ہے یعنیC4H8O2اب اگر ہم بیوٹرک ایسڈ کو پروپائل فارمیٹ سے مساوی ٹھہرائیں،تواوّلاً،اس تعلق کے تحت، پروپائل فارمیٹ ایک ایسی حالت ہے جس میں C4H8O2موجود ہے،اور ثانیاً ،ہمارا دعویٰ یہ بھی ہو گا کہ بیوٹرک ایسڈ بھی C4H8O2پر ہی مشتمل ہے۔چنانچہ ان دو کیمیائی عناصر کا موازنہ کرتے ہوئے ان کی کیمیائی بناوٹ ہی کو مدِ نظر ر کھا کائے گا اور ان کی طبعی بناوٹ یکسر نظر انداز کر دی جائے گی۔

اگر ہم یہ کہیں کہ ، اقدار ہونے کی حیثیت سے ، اشیاء محض محنِ انسانی کی ٹھوس اشکال ہیں ، تو ہم انہیں ان کی مجرد حالت یعنی‘‘ قدر ’’میں بدل دیتے ہیں۔لیکن ہم اس قدر کو اس کے جسم سے ہٹ کر کوئی چیز قرار نہیں دے سکتے۔ایسا محض ایک شے کے دوسری شے سے قدری تعلق کی صورت میں ممکن ہے۔یہاں پر ایک جسم اس وجہ سے قدر کا روپ اختیار کئے ہوئے ہے کہ اس کا تعلق ایک دوسرے جسم کے ساتھ ہے۔

کوٹ کو ململ سے مساوی القوت قرار دے کر ہم اول الذکر پر خرچ ہونے والے محن کو آخرالذکر کے محن کے مساوی قرار دے دیتے ہیں۔اب یہ بھی حقیقت ہے کہ کوٹ کو تیار کرنے والا محن یعنی سلائی ، ململ کی تیاری میں صرف محن یعنی بنائی ،سے اپنے خواص کی رو سے مختلف ہے۔جو عمل سلائی کے محن کو بنائی کے محن میں بدل دیتا ہے اس کے تحت سلائی ایک ایسے محن میں تبدیل ہو جاتی ہے جو واقعی دونوں اقسام کے محن میں مساوی ہوتا ہے،یعنی محض سادہ محنِ انسانی۔اس مبہم صورت میں ، یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ، سلائی بھی چونکہ قدر ہی ‘بُنتی ’ہے ،اس وجہ سے اس میں بنائی سے مختلف کوئی چیز نہیں رہتی،چنانچہ یہ بھی مجرد محنِ انسانی ہی ہے۔یہ مختلف قسم کی اشیاء کے مابین اس توازن کا اظہار ہے،جو محض قدر پیدا کرنے والے محن کے کردار کو ساقط کر دیتا ہے،اوریہ ایسا مختلف انواع کے اس محن کو،جو مختلف قسم کی اشیاء میں مجسم ہوتا ہے،محنِ انسانی کی مجرد صورت میں بدل کر کرتا ہے۔18؂

اب یہاں ایک ایسی چیز مطلوب ہے جو محن کے اس مخصوص کردار سے بالکل الگ ہے جس کے تحت ململ کی اپنی قدر متعین ہوتی ہے۔متحر ک انسانی قوتِ محن یا انسانی محن ،قدر پیدا کرتا ہے ،لیکن بذاتِ خود قدر نہیں ہے۔یہ اس وقت قدربنتا ہے جب کسی چیز کی ٹھوس شکل میں سامنے آئے۔چنانچہ ململ کی قدر کا محنِ انسانی کی ٹھوس شکل میں اظہار صرف اس صورت میں ممکن ہے جب یہ قدر معروضی روپ میں ظاہر ہو۔یعنی اس کی مثال ایک ایسی عنصر کی ہو جو مادی طور پر تو ململ سے بالکل مختلف ہو مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ململ اور دوسری چیزوں میں مشترک طور پر پایا بھی جاتا ہو۔اس طرح سے مسئلہ اپنے منطقی حل کو پہنچتا ہے۔

قدر کی مساوات میں جب کوٹ مسا وی القوت کی حیثیت اختیار کرتا ہے تو یہ معیاری طور پر ململ کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔یعنی ایک ایسی چیز جو بالکل ململ کی طرح ہے کیونکہ یہ قدر ہے۔اس کیفیت میں ہمیں اس کے اندر ماسوائے قدر کے اور کچھ نظر نہیں آتا، یا جس کی ظاہری جسمانی ساخت قدر کا اظہار کر رہی ہے۔اس کے باوجود کوٹ کی اپنی حقیقت شے کے طور پر قدرِ صرف ہی کی ہے۔ایک کوٹ سوائے اس کے او ر کچھ نہیں ظاہر کرتاکہ یہ ایک قدر ہے ،جیسا کہ ململ کا وہ ٹکڑا جو کہ زیرِ بحث تھا ۔اس سے پتا چلتا ہے کہ جب کوٹ کو قدری تعلق کی بنا پر ململ کے مقابل لایا جاتا ہے تو وہ اپنی حقیقت اپنے اصل روپ سے ہٹ کر ظاہر کر تا ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے وردی میں ملبوس پریڈ کرتے ہوئے سپاہیوں کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے اور سادہ کپڑوں میں ان کی حقیقت بالکل بدل جاتی ہے۔

کوٹ کی تیاری میں اس پرسلائی کی صورت میں ا نسانی قوتِ محن ضرور استعمال ہوا ہے۔چنانچہ اس میں محنِ انسانی مجتمع ہے۔اس رو سے کوٹ قدر کی حامل ایک چیز ہے،لیکن چونکہ یہ دھاگے سے سلا ہوا ہے اس وجہ سے یہ اس حقیقت کا اظہار نہیں کر سکتا ۔اور قدر کی مساوات میں ململ سے مساوی القوت ہونے کی حیثیت سے یہ محض قدر کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔یعنی ایک ایسے جسم کی مثال پیش کرتا ہے جس کی حقیقت صرف قدر ہی کی ہے۔مثال کے طور پر‘ ا ’کی حیثیت‘ ب ’کی نظروں میں اس وقت تک‘ جنابِ مکرم’کی نہیں ہو سکتی، جب تک‘ ا ’اس حالت میں نہیں آ جاتی جو‘ ب ’کی نظروں میں‘ جنابِ مکرم ’کی ہے،اور یہ کہ لوگوں کے ہر نئے فادر کی آمد کے ساتھ ہی اس کے خصائص اور حدود اربعہ تک بدل جاتا ہے۔

پس اس قدری مساوات میں جس کے تحت کوٹ ململ کے مساوی القوت ہے ،کوٹ قدر کی حالت میں آجاتا ہے۔شے ململ کی قدر کا تعین شے کوٹ کی جسمانی ساخت کرتی




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

قدر کی متعلقاتی حالت ان داشلائوں میں استعمال ھے
قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ - موضوع کے دوسرے داخلے