قدر کی متعلقاتی حالت : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 784
عنوان قدر کی متعلقاتی حالت
شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
پڑھا گیا 233737
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی متعلقاتی حالت کے بنیاد
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی متعلقاتی حالت - کی دوسری شاخیں-

قدر کی متعلقاتی حالت


شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

ہے۔دوسرے لفظوں میں ایک شے کی قدر کا تعین دوسری شے کی قدرِ صرف کرتی ہے۔قدرِ صرف کی حیثیت سے ململ کو ٹ سے بہت مختلف ہے لیکن محض قدر کی حیثیت سے یہ کوٹ کی طرح ہی ہے۔یعنی اب یہ کوٹ کا لبادہ اوڑھ چکی ہے۔اس طرح سے ململ ایک ایسی حالت میں آ جاتی ہے جو اس کی مادی شکل سے بہت مختلف ہے۔[ململ کی ] یہ حقیقت کہ یہ ایک قدر ہے اس وجہ سے اپنے پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ یہ کوٹ سے مساوی ہے۔بالکل ان معنوں میں جن میں میمنا عیسائی کی مثل ہے،یعنی دونوں خدا کی مخلوق ہیں۔

پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جو بات ہمارا اشیاء کا تجزیہ پہلے سے بتا چکا ہے وہ بات ململ کے تجزئے سے ہم اس وقت اخذکرتے ہیں جیسے ہی یہ دوسری شے یعنی کوٹ کے ساتھ تعلق میں ظاہر ہوتی ہے۔یہ اپنی خاصیت کا اظہار اسی زبان میں کرتی ہے جو صرف خود اس سے مطابقت رکھتی ہے،یعنی اشیاء کی زبان۔یہ بات بتانے کے لئے کہ اس کی اپنی قدر مجرد محنِ انسانی کی بدولت پیدا ہوتی ہے،ململ کوٹ کا سہارا لیتی ہے۔کیونکہ کوٹ بھی ململ سے مساوی ہے اس لئے یہ بھی قدر ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اس پر بھی ململ ہی کی مثل محن خرچ ہوا ہے۔ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرانے کے لئے کہ قدر کی حیثیت سے اس کی خالص حقیقت وہ نہیں جو اس کی ظاہری جسمانی ساخت ہے،یہ اس حقیقت کا اظہار کرتی ہے کہ قدر نے کوٹ کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، اب چونکہ ململ بھی قدر ہے اس وجہ سے یہ اور کوٹ دونوں مٹر کے دو دانوں کی طرح یکساں صفات کے حامل ہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ شے کی زبان کے پاس ، علاوہ سریانی کے، اور بھی بہت سی چھوٹی بڑی زبانوں کے اظہار موجود ہیں۔جرمن لفظ "Werstein" جس کا مطلب ہے قدر رکھنا، رومانوی فعل Valere, Valer, Valoirسے کم زور آور طریقے سے شے ب کو شے الف کے مساوی القدر کہا جا سکتا ہے ۔ یہ شے الف کا اپنی قدر کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ علاوہ عبرانی کے ، شے کے پاس اپنی قدر ظاہر کرنے کے اور بھی ، لیکن کم زور آور وسیلے ہیں۔ مثال کے طور پر جرمن لفظ "Wertsein" جس کا مطلب ہے‘ وقعت رکھنا ’رومانوی افعال جیسے Valere, valer, valoirکی نسبت مبتذل ہیں۔ یہ کہ شے ب کا اپنے آپ کو شے الف سے مساوی ٹھہرانا،در حقیقت الف کا اپنی ہی قدر کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔

لہٰذا ہماری مساوات میں موجود قدری تعلق کے ذریعے ، شے ب کی جسمانی شکل شے الف کی قدری شکل بن جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، شے B کی جسمانی شکل شے Aکی قدری حیثیت کا پرتوہے19؂۔ اپنے آپ کو شے B کے ساتھ ،بطور ایک ایسی قدر کے جو خود اس کی اپنی ماہیت ہے، تعلق کی صورت دے کر ، یعنی ایسا وصف جس سے خود انسانی محن تشکیل پاتا ہے ، شے A اس قدر صرف کو بدل کر ،یعنی B کو اس ماہیت میں بدل دیتی ہے جس سے کہ یہ یعنی شے Aاپنی قدر کا اظہار کرتی ہے۔ اس طرح شے A کی قدر شے B کی قدر صرف کے ذریعے سے اظہار پاتی ہے۔ اس کو متعلقاتی قدر کہا جاتا ہے۔



(ب)متعلقاتی قدر کا مقداری تعین

ہر وہ شے جس کی قدر کا اظہار مطلوب ہو مخصوص مقدار کی ایک کار آمد چیز ہوتی ہے،جیسے15 کلو مکئی یا 10گرام چائے۔کسی بھی شے کی دی گئی مقدار اپنے اندر محنِ انسانی کی ایک خاص مقدار لئے ہوئے ہوتی ہے۔قدری حالت محض قدر کا اظہار ہی نہیں کرتی بلکہ یہ اس کی خاص مقدار کا تعین بھی کرتی ہے۔اس لحاظ سے شے Aکے ساتھ شے B ،یعنی ململ کے ساتھ کوٹ کے قدری تعلق میں آخرالذکر نہ صرف ململ سے مساوی آتا ہے بلکہ کوٹ کی خاص مقدار( ایک کوٹ )کو ململ کی خاص مقدار(20 گز ململ )کے برابر بھی ثابت کرتا ہے۔

مساوات : 20 گز ململ = ایک کوٹ _یا_ململ کے بیس گز ایک کوٹ کے مساوی ہیں ، اس پر بھی صادق آتی ہے کہ دونوں میں قدری ماہیت( مجتمع محن) کی ایک جتنی مقدار ہی مجتمع ہے۔یعنی دونوں کی تیاری میں ایک جتنی مقدارِ محن یا ایک مساوی عرصۂ محن استعمال ہوا ہے۔لیکن 20 گز ململ یا ایک کوٹ کی تیاری کے لئے درکار ضروری عرصۂ محن بنائی یا سلائی کی صلاحیت میں تبدیلی کی وجہ سے بدلتا رہتا ہے۔اب ہمیں یہ جاننا ہے کہ یہ تبدیلیاں قدر کے مقداری اظہار کے متعلقاتی پہلو پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔

1. پہلے ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ ململ کی قدر میں تبدیلی آئے20؂ اور کوٹ کی قدر مستقل رہے۔فرض کریں کہ زمین کی زرخیزی میں کمی کی وجہ سے ململ کی تیاری کے لئے درکار عرصۂ محن دو چند ہو جاتا ہے۔اس طرح سے ململ کی قدر بھی دو چند ہو جائے گی ، اور بجائے

20گز ململ = ایک کوٹ

کے ہمارے پاس

20 گزململ = دو کوٹ

ہو جائیں گے۔اس صورت میں ایک کوٹ پر استعمال شدہ عرصۂ محن20 گز ململ سے آدھا رہ جائے گا ۔دوسری طرف، اگرپاور لوم کی ٹیکنالوجی میں ترقی کی وجہ سے یہ عرصۂ محن پہلے سے آدھا رہ جائے تو ململ کی قدر بھی نسبتاً آدھی رہ جائے گی۔چنانچہ ہمارے پاس مساوات کی صورت

20 گز ململ = آدھا کوٹ

ہو جائے گی۔اگر B کی قدر کو مستقل سمجھا جائے ،توشے A کی متعلقاتی قدر ، یعنی اس کی وہ قدر جس کا اظہار شے B میں ہوا ہے، شے A کی قدر میں تبدیلی کے باعث گھٹے اور بڑھے گی۔

2. اب ہم ململ کی قدر مستقل تصور کرتے ہیں اور کوٹ کی قدر بدلتے ہیں۔ ا ن حالات میں اگر اون کی فصل اچھی نہ رہی ہو تو اس کے نتیجے میں ایک کوٹ کی تیاری کے لئے درکار عرصۂ محن دو گونا ہو جائے گا اور ہمارے پاس مساوات

20گز ململ = ایک کوٹ

کی صورت درج ذیل ہو گی۔

20 گز ململ = آدھا کوٹ

اگر دوسری طرف کوٹ کی قدر گھٹ کر آدھی رہ جائے ،تو پھر20 گز ململ دو کوٹوں کے برابر ہوگی۔پس ثابت ہوا کہ اگر شے Aکی قدر مستقل رہے تو ا س کی وہ قدر جس کا اظہار شے B کرتی ہے ،شے B کی قدر میں تبدیلی کے ساتھ اس [شےAکی قدر] میں بھی تبدیلی آئے گی۔اگر ہم 1 . اور 2 . میں موجود دونوں مسئلوں کا موازنہ کریں ،تو ہم دیکھیں کے کہ متعلقاتی قدر کے حجم میں آنے والی یہی تبدیلیاں متضاد وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتی ہیں۔پس درج ذیل مساوات

20 گز ململ= 1 کوٹ

مندرجہ ذیل صورت میں بدل جائے گی ، چاہے ململ کی قدر دو چند کر دی جائے ،یا کوٹ کی قدر آدھی رہ جائے ؛

20گز ململ= 2 کوٹ

یا اس سے برخلاف ململ کی قدر گر کر آدھی رہ جائے ،یا کوٹ کی قدر دو چند ہو جائے؛تو مساوات کی صورت درج ذیل ہو جائے گی۔

20گز ململ = 2/1 کوٹ

3.اب ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ ململ اور کوٹ کی تیاری کے لئے درکار عرصۂ محن سمت اور تناسب کے لحاظ سے یکساں طور پر بدلتا ہے۔اس صورت میں 20گز ململ ہر وقت ایک کوٹ کے برابر رہے گی۔ان کی قدر میں تبدیلی صرف اس صورت میں آئے گی جب انہیں کسی ایسی شے کے مقابل لایا جائے جس کی قدر مستقل رہی ہو۔اگر تمام اشیاء کی اقدار یکساں طور پر بڑھیں یا گھٹیں تو ان کی متعلقاتی قدریں یکساں ہی رہیں گی۔ان کی قدر میں اصل تبدیلی صرف اس وقت آئے گی جب دئے گئے وقت میں اشیاء کی پیداوار گھٹے یا بڑھے گی۔

4. ململ اور ک




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

قدر کی متعلقاتی حالت ان داشلائوں میں استعمال ھے
قدر کی اجتماعی یا تصریحی حالت کے نقائص
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ - موضوع کے دوسرے داخلے