قدر کی مساوی القوت حالت : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 785
عنوان قدر کی مساوی القوت حالت
شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
پڑھا گیا 235764
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی مساوی القوت حالت کے بنیاد
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی مساوی القوت حالت - کی دوسری شاخیں-

قدر کی مساوی القوت حالت


شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

ہم نے دیکھا کہ شے A( ململ)جب اپنی قدر کا اظہا ر ایک دوسری شےB( کوٹ)کی قدرِ صرف کے ذریعے کرتی ہے تو یہ موخرالذکر پر قدر کی ایک مخصوص شکل میں اثر انداز ہوتی ہے،جسے مساوی القوت کا نام دیا جا سکتا ہے۔شے ململ اپنے قدر ہونے کا اظہار اس صورت میں کرتی ہے کہ کوٹ اپنے وجود سے مختلف قدری صورت اختیار کئے بغیر ہی ململ کے برابر ہے۔اس حقیقت کا اظہار کہ آخرالذکر قدر کی حامل ہے اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ کوٹ اس سے بلا واسطہ طور پر بدلا جا سکتا ہے۔چنانچہ جب ہم کسی شے کو مساوی القوت کی حیثیت دیں تو اس سے مراد دراصل یہ ہو گا کہ یہ شے دوسری اشیاء سے بلا واسطہ طور پر بدلی جا سکتی ہے۔

چنانچہ جب ایک شے یعنی کوٹ کسی دوسری شے یعنی ململ کے لئے مساوی القوت کے طور پر کام کرے تو اس سے مراد یہ ہے کہ کوٹ ،ململ سے بلا واسطہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ اس صورت میں ہمیں اس بات کا اندازہ نہ ہو گا کہ دونوں کی کتنی کتنی مقدار ایک دوسرے سے بدلی جا سکتی ہے۔ململ کی قدر کے دیے گئے حجم کا دارومدار کوٹ کی قدر پر ہو گا ۔یہ کہ آیا کوٹ کی حیثیت مساوی القوت کی ہے اور ململ متعلقاتی قدر کا کام سر انجام دے رہی ہے، یا اس سے بر عکس کہ ململ کی حیثیت مساوی القوت کی ہے اور کوٹ متعلقاتی قدر کا کام سر انجام سے رہا ہے،جبکہ کوٹ کی قدر کا اجماع انفرادی طور پر ،اس کی قدری صورت سے ،یعنی اس عرصۂ محن سے متعین کیا جاتا ہے جو اس کی تیاری کے لئے درکار ہوتا ہے۔لیکن جب بھی قدری مساوات میں کوٹ ،مساوی القوت شکل میں آتا ہے،تو اس کی قدر کا مقداری اظہار ممکن نہیں رہتا،بلکہ یہ شے کوٹ کسی مخصوص چیز کی خاص مقدار ہو کر رہ جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ململ کے 40 گز کس کے برابر ہوں گے؟ صاف ظاہر ہے کہ دو کوٹ کے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ یہاں کوٹ کی حیثیت مساوی القوت کی ہے۔کیونکہ قدرِ صرف کوٹ ،ململ کے برخلاف ،مجسم قدر کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ کوٹوں کی خاص تعداد ململ میں موجود قدر کے خاص حجم کی عکاسی کر رہی ہے۔ اس طرح سے دو کوٹ چالیس گز ململ میں موجود قدر کی مقدار کا اظہار کر سکتے ہیں،لیکن وہ خود اپنی قدر کی مقدار کسی صورت بھی ظاہر نہیں کر سکتے۔اس حقیقت پر ایک ظائرانہ نگاہ،کہ قدر کی مساوات میں مساوی القوت معروضی طور پر کسی چیزکی قدرِ صرف کی سادہ مقدار کی صورت میں ظاہر ہوتاہے،بیلی(Bailey)اور اس سے پہلے اور بعد کے کئی لوگ اسی غلط فہمی کا شکار ہیں،حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شے مساوی القوت کے طور پر ظاہر ہوتی ہے تواس کی قدر کا مقداری پہلو بالکل ظاہر نہیں ہوتا۔

چیز کی مساوی القوت حیثیت کے مطالعہ کے دوران چونکا دینے والی بات یہ سامنے آتی ہے کہ قدرِ صرف اظہار کی شکل میں آ جاتی ہے ، یعنی اپنی مخالف چیز کی قدر کے ظاہری روپ میں ۔

ایک شے کی ظاہری شکل اس کی قدری شکل میں بدل جاتی ہے۔لیکن واضح رہے کہ یہ،ادلے کا بدلہ،کسی بھی شے Bمیں صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے،جب کوئی دوسری شے Aاس کے ساتھ قدری تعلق میں ظاہر ہو،اور پھر اسی تعلق تک محدود رہ جائے۔چونکہ کوئی ایک شے مساوی القوت کی حیثیت سے اپنے ہی مقابل نہیں آ سکتی اور اسے اپنی ظاہری شکل ہی سے اپنی ذاتی قدر کا تعین کرنا ہوتا ہے اس لئے ہر شے کو مساوی القوت کے لئے کسی دوسری شے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔اور اپنی قدر کی صراحت کے لئے اس دوسری شے کی قدرِ صرف پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔

جن پیمانوں کے ذریعے ہم اشیاء کی مادی ماہیتوں یعنی اقدارِ صرف کا تعین کرتے ہیں ان میں سے ایک کے تحت اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔گڑ کی ایک ڈلی ٹھوس جسامت کی وجہ سے وزن رکھتی ہے،لیکن نہ تو اس کا وزن ہم دیکھ سکتے ہیں اور نہ اسے چھو ہی سکتے ہیں ۔پھر ہم لوہے کے کچھ ٹکڑے لیتے ہیں ۔ان ٹکڑوں کے وزن پہلے سے طے شدہ ہیں ۔اب لوہا گڑ کی ڈلی کے برعکس اپنی ذات میں ما سوائے ایک خاص وزن کے اور کچھ نہیں۔تاہم یہ بیان کرنے کے لئے کہ گڑ کی ڈلی اتنے وزن کی ہے،ہم اس کو لوہے کے ساتھ‘‘ تعلقِ وزن ’’ میں پیش کرتے ہیں۔اس تعلق میں لوہا ماسوائے وزن کے اور کچھ بیان نہیں کر رہا ۔چنانچہ لوہے کی خاص مقدار گڑ کی ڈلی کا وزن بتا رہی ہے،اور اس نے گڑ کی ڈلی سے تعلق کی بنا پر محض مجسم وزن کی صورت اختیار کر رکھی ہے۔لوہا یہ کردار محض اس وقت اد ا کرتا ہے جب گڑ ،یا کوئی بھی دوسری چیز اس انداز میں لوہے کے مقابل آئے کہ اس کے وزن کا تعیین مطلوب ہو۔جب دونوں میں کوئی ایک چیز بھی وزن نہ رکھتی ہو گی تو یہ اس مساوات کے تحت آمنے سامنے نہیں آ سکیں گی،چنانچہ ایک چیز دوسری چیز کا وزن نہ بتا سکے گی۔جب ہم ان دونوں چیزوں کو اوزان کی صورت میں لے جاتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اوزان ہونے کے ناتے دونوں ایک جیسے ہی ہیں۔اور جب ہم ان کی مخصوص مقداروں کو لیتے ہیں تو بھی ان کے اوزان ایک برابر ہوتے ہیں ۔ جس طرح لوہا چونکہ وزن کا پیمانہ ہے ،ا ورگڑکی ڈلی کے ساتھ تعلق کی وجہ سے بجز وزن کے اور کچھ نہیں۔اسی طرح ہماری قدری مساوات میں ،کوٹ کا مادی وجود ململ سے تعلق کی بنا پر صرف اور صرف قدر کا اظہار کرتا ہے۔

اس مقام پر ان کی مطابقت ختم ہو جاتی ہے۔لوہا گڑ کی ڈلی کا وزن بتاتے ہوئے ایک ایسی فطری خاصیت کی عکاسی کر رہا ہے جو ان دونوں میں مشترک ہے،یعنی ان کا وزن۔لیکن جب کوٹ ململ کی قدر بیان کرتا ہے تو دونوں کی غیر فطری خاصیت کا عکاس بن جاتا ہے۔ایک ایسی خاصیت جس کی حقیقت خالص سماجی ہے،یعنی ان کی قدر ۔

جب ایک شے،مثال کے طور پر ململ، کی قدر کی متعلقاتی حالت اس شے کی قدر اس طرح بیان کرے کہ وہ چیز اپنے خواص اور ماہیت سے بالکل الگ نظر آئے، جیسے کوٹ ،تو ہم دیکھیں گے کہ یہ‘‘ اظہار’’خود ہی اس بات کی طرف اشارہ کر رہا اس کی تہہ میں کوئی سماجی تعلق ضرور موجود ہے، جو مساوی القوت کی صورت میں اس سے بالکل مختلف ہے۔اس [مساوی القوت ]شکلFormکی حقیقت یہ ہے کہ کوٹ بحیثیت مادی شے کے ایک خاص قدر کا اظہار کر رہا ہے۔اور یہ خوبی اس [کے جسم] میں فطری طور پر گتھی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ اس بات کی حقیقت صرف اس وقت تک قائم رہتی ہے ،جب تک قدری مساوات کی وہ صورت قائم رہے جس کے تحت کوٹ ململ سے مساوی القوت مانا جاتا ہے22؂۔ تاہم ایک چیز کے خواص اس کے دوسری چیزوں کے ساتھ تعلق کا نتیجہ نہیں ہوتے،بلکہ یہ صرف اپنے آپ کو اس قسم کے تعلقات میں ظاہر ہی کرتے ہیں،کو ٹ کو اس کی مساوی القوت حالت اس وجہ سے ودیعت کی جاتی ہے کہ اس میں بلا واسطہ طور پر تبادل ہونے کی صلاحیت موجوود ہے۔بالکل اسی طرح جیسے یہ فطری طور پر وزن رکھتا ہے ،یا اس میں فطری طور پر جسم کو گرمانے کی صلاحیت موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ مساوی القوت کے الجھاؤ کو بورژوا معیشت دان زیر اس وقت تک زیربحث لانے سے قاصر ہے جب تک یہ پورا ارتقا پا کر اس کے سامنے‘ روپے’کی صورت




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

قدر کی مساوی القوت حالت ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ - موضوع کے دوسرے داخلے