قدر کی مساوی القوت حالت : (The Capital سرمایہ)

2022-12-16
داخلا نمبر 785
عنوان قدر کی مساوی القوت حالت
شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
پڑھا گیا 235788
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قدر کی مساوی القوت حالت کے بنیاد
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ / اشیاء / اشیاء اور روپیہ / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قدر کی مساوی القوت حالت - کی دوسری شاخیں-

قدر کی مساوی القوت حالت


شاخ قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

یں ظاہر نہ ہوجائے ۔ پھر وہ سونے اور چاندی کے پر اسرار خاصے کی تشریح اس طرح کرتا ہے کہ کم چمک دار دھاتوں کو ان کا متبادل بنا کر پیش کرے۔ یا پھر بڑے اطمینان سے ممکنہ اشیا کی فہرست بنا تا ہے جو کسی نہ کسی دور میں مساوی القدر کے بطور استعمال ہوئے۔ اس کے ذہن میں بھی نہیں آتا کہ قدر کا سادہ ترین اظہار ، جیسا کہ 20گز ململ = 1 کوٹ، مساوی القوت کی پہیلی کا جواب ہے۔

جو شے [قدری مساوات میں]مساوی القوت کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے اس میں بیک وقت دو صفات یکجا ہو جاتی ہیں: ایک تویہ مجرد محنِ انسانی کی مادی شکل ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ ایک مخصوص محنِ مفید کی پیداوار ہے۔یہی مقرونی محن مجرد محنِ انسانی کے اظہار کا ذریعہ بنتا ہے۔ اگر ایک طرف کوٹ صرف مجرد محنِ انسانی کا اظہار کر رہا ہے تو دوسری طرف سلائی جو حقیقتاً اس میں مجسم ہے ،محض اس مجرد محنِ انسانی کے اظہار کی شکل بنتی ہے۔ململ کی قدر کے اظہار کے لئے سلائی کی افادیت صرف یہ ہے کہ یہ وہ شکل ہے جس میں مجرد محن انسانی نے کوئی [مادی] شکل پائی ہے۔جب ہم ململ کی قدر کا اظہار کرتے ہیں تو سلائی کی افادیت اس میں نہیں کہ یہ کپڑے کو الگ چیز بنا دیتی ہے، اوراس کو لباس میں بدل دیتی ہے، بلکہ ایک شے بنا دیتی ہے جسے ہم فوراً بطور قدر کے پہچان لیتے ہیں، اس وجہ سے اسے محن کی مجتمع صورت بھی کہا جا سکتا ہے۔یعنی ایک ایسا محن جو ململ کے محن سے کسی طرح بھی مختلف نہیں۔قدر کا عکاس ہونے کی حیثیت سے سلائی کے محن کو صر ف اور صرف اپنی مجرد شکل میں یعنی عام محنِ انسانی کے روپ میں ظاہر ہونا چاہئے۔

سلائی اور بنائی ہر دو کاموں میں محنِ انسانی ہی استعمال ہوا ہے۔اس وجہ سے دونوں میں سادہ محنِ انسانی ہی کی خاصیت پائی جاتی ہے،چنانچہ قدر کی پیداوار اور نمائندگی جیسے معاملات میں دونوں کو اسی نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہئے۔اس میں کوئی چیز بھی جادوئی نہیں ہے۔مگر قدر کے اظہار کے سلسلے میں حالات کا رخ ہی بدل جاتا ہے۔مثال کے طور پر اس حقیقت کا اظہار کیسے کیا جائے کہ بنائی ململ کی قدر کا اظہار محنِ انسانی کی عمومی خاصیت کے طور پر کرتی ہے نہ کہ بنائی کی خاص صفت کے طور پر؟سیدھی سی بات ہے کہ یہ بنائی سے متضاد مقرونی محن کی کوئی دوسری ایسی شکل ہو سکتی ہے( اس مثال کی رو سے سلائی)جو بنائی کے اجماع کا مساوی القوت پیدا کرتی ہے۔بالکل اسی طرح جیسے کوٹ کی جسمانی ساخت ہی قدر کا راست اظہار بن جاتی ہے،اب یہی کام سلائی کا ہے،جو بذاتِ خود محن کی مقرونی شکل ہے،اور اب مجسم محنِ انسانی کی سادہ صورت میں سامنے آئی ہے۔

پس مساوی القوت حالت کی دوسری انفرادیت یہ ہے کہ مقرونی محن ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کے تحت اس کا متضاد ، یعنی مجرد انسانی محن اپنا اظہار کرتا ہے۔

لیکن چونکہ ہمارے مسئلے کی رو سے یہ مقرونی محن یعنی سلائی ایک ناقابلِ تخصیص محنِ انسانی ہی ہے،تو یہ کسی قسم کے دوسرے محن سے بھی مساوی ٹھہرتا ہے۔اس نکتے کے تحت اس کو ململ میں مجسم محن سے بھی مشابہت حاصل ہو جاتی ہے ۔چنانچہ دوسری تمام اشیاء پیدا کرنے والے محن کی طرح یہ بھی ایک نجی فرد کا محن ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ براہِ راست سماجی محن کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ جس کے تحت یہ دوسری اشیاء کے ساتھ راست طور پر مبدل پذیر ہے۔اس طرح سے ہمارے پاس مساوی القوت حالت کی تیسری انفرادیت آ جاتی ہے۔یعنی ذاتی طور پر کام کرنے والے افراد کا محن بالکل متضاد شکل اختیار کر لے گا اور اپنی نوعیت میں بلا واسطہ طور پر سماجی ہو جائے گی۔

مساوی القوت کی آ خرالذکر دو خاصیتوں کی مزید وضاحت اس طرح سے ممکن ہے اگر ہم اس مفکر کا سہارا لیں جس نے سب سے پہلے فکر، معاشرہ ،فطرت اور ساتھ ساتھ قدر جیسی چیزوں کا تجزیہ کیا تھا۔اس سے میری مراد ارسطو ہے۔

پہلی بات وہ یہ واضح کرتا ہے کہ اشیاء کی شکلِ روپیہ ،قدرکی حالت کی سادہ سی ترقی کے سوا اور کچھ نہیں۔یعنی ایک شے کی قدر کا کسی ایسی دوسری شے میں اظہار جو حادثاتی طور پر دستیاب ہو۔وہ مزید کہتا ہے کہ

5 بستر =ایک مکان

بجز ذیل کے اور کچھ نہیں۔

5 بستر = اتنے روپے

وہ مزید کہتا ہے کہ وہ قدری تعلق جو اس قسم کے اظہار کاباعث بنتا ہے،اس کے تحت مکان کو معیاری طور پر بستر سے مساوی ہونا چاہیے۔اس برابری کے بغیر یہ متضاد چیزیں ہم انداز مقداروں کے طورپر ایک دوسرے کے مقابل نہیں آ سکتیں۔ وہ کہتا ہے کہ مبادلہ برابری کے بغیر ممکن نہیں،اور برابری کے لئے چیزوں کا ہم انداز ہونا ضروری ہوتا ہے۔اس مقام پر پہنچ کر وہ رک جاتا ہے اور قدر کی مزید وضاحت ترک کر دیتا ہے کہ، ‘‘ تاہم حقیقتاً یہ ناممکن ہے کہ اس قسم کی متفرق چیزیں ہم انداز ہوں۔ ’’ یعنی معیاری طور پر برابر ہوں، اس قسم کی برابری ان کی اصل فطرت سے ہٹ کر کوئی بیرونی چیز ہی ہو سکتی ہے۔جسے محض کسی ‘‘عملی مقصد کا عذر ’’ ہی کہا جا سکتا ہے۔

ارسطو خود اس وجہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس نے اس کو مزید تجزیے سے روک دیا ،کہ وہ خود قدر کے تصور سے آ گاہ نہ تھا۔وہ برابر چیز کون سی ہے یعنی اس کی وہ مشترک ماہیت جس کے تحت بستروں کی قدر کو ایک مکان میں بتایا گیا ہے۔ اس بارے میں ارسطو کہتا ہے کہ ایسی کسی چیز کا وجود نہیں ہے ، اور کیوں نہیں ؟جب مکان کا بستروں سے موازنہ کیا جاتا ہے تو مکان اپنے اندر ایک ایسی چیز کی نشاندہی کرتا ہے جو اس میں اور بستروں میں حقیقتاً مساوی ہے،تو یہ عنصر انسانی محن کے سوا اور کچھ نہیں ۔ارسطو کی اس بات سے لا علمی میں،کہ اشیاء کو قدر تفویض کرنا صرف اس طرح ممکن ہے کہ ہم تمام قسم کے محن کو ایک جیسا اور ایک ہی خاصیت کا محن تصور کریں،ہمیں ایک اہم حقیقت نظر آتی ہے۔یونانی معاشرے کی بنیاد چونکہ غلامی پر استوار ہوئی تھی اس لئے یہ بات فطری تھی کہ وہاں افراد میں اور ان کی قوتِ محن میں برابری نہ تھی۔قدر کے اظہار کا وہ راز، جس کے تحت تمام قسم کا محن بحیثیت عام محن انسانی کے برابر اور مساوی القوت ہوتا ہے ، اس وقت تک نہیں جانا جا تا جب تک انسانی برابری کا نظریہ عام آدمی کے تعصبات کا حصہ نہ بنا۔ یہ صرف اس معاشرے میں ممکن ہے جس میں محن کی پیدا کی ہوئی بہت بڑی مقدار شے کی شکل میں موجود ہے۔نتیجتاً انسان اورا نسان کا تعلق شے کے مالک کی صورت میں ہے۔ ارسطو کی فہم قابل تحسین ہے کہ اس نے قدر کے اظہار میں برابری کے تعلق کی دریافت کی۔ اپنے معاشرے کی مخصوص صوت حال کی وجہ سے وہ اس سچائی کو نہ جان سکا جو اس برابری کی اصل وجہ تھی۔




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

قدر کی مساوی القوت حالت ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
قدر کا ‘روپ’ یا قدرِ مبادلہ - موضوع کے دوسرے داخلے