قوتِ محن کی خرید اور فروخت : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 804
عنوان قوتِ محن کی خرید اور فروخت
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 239459
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قوتِ محن کی خرید اور فروخت کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قوتِ محن کی خرید اور فروخت - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی6

قوتِ محن کی خرید اور فروخت


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

قدر کی جو تبدیلی روپے میں اس کے سرمائے میں تبدیلی کے دوران رونما ہوتی ہے ،خود روپے میں وقوع پذیر نہیں ہو سکتی، چونکہ بطور خریداری اور ادائیگی کے ذرائع کے اپنے منصب میں یہ اس سے زیادہ او ر کچھ نہیں کرتا کہ اس شے کی قیمت کا حصول کرے جسے یہ خریدتا یا جس کی ادائیگی کرتی ہے؛ اور اصلی روپے کے بطور یہ وہ قدر ہے جو سکّے یا روپے میں مجتمع ہے، اور کبھی نہیں بدل سکتی1؂۔جس طرح کہ گردش کے دوسرے پھیرے یعنی شے کی باز فروخت میں یہ بہت کم ہی حرکت پذیر ہوتی ہے، یہ عمل اس کے سوااور کچھ نہیں کرتا کہ ایک چیز کو اس کی جسمانی بنتر سے دوبارہ روپے کی بنتر میں بدل دے۔ چنانچہ اس تبدیلی کو شے میں رونما ہونا چاہئے جو پہلی حرکت، M_C ، میں خریدی گئی، نہ کہ اس کی قدر میں، کیونکہ مساوی القدر کا مبادلہ کیا گیا ہے اور شے کو اس کی پوری قدر کے عوض دیا گیا ہے۔چنانچہ ہم اس نتیجے کو اخذ کرنے پر مجبور ہیں کہ مبادلہ شے کی قدرِ صرف میں نمودار ہوتا ہے، کہنے کا مطلب یہ کہ اس کی کھپت میں۔ ایک شے کی قدر اس کی کھپت سے اخذ کرنے کے لئے ہمارے دوست Moneybags کو گردش کے کُرے کے اندر سے یعنی منڈی میں سے خوش قسمتی سے ایک ایسی شے درکار ہو گی جس کی قدرِ صرف اپنے اندر قدر کا ذریعہ ہونے کی مخصوص صفت بھی رکھتی ہو ، اور جس کی حقیقی کھپت بذاتِ خود بھی محن کی جسمانیت ہو ، اور نتیجتاً قدر کی پیدائش۔روپے کا حامل منڈی میں ایک ایسی خاص شے حاصل کر لیتا ہے جو محن یا قوتِ محن کی حامل ہو۔

قوتِ محن یا محن کی اہلیت سے مراد ایک انسان میں موجود جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کا وہ اکٹھ ہے جس کا مظاہرہ اس وقت کرتا ہے جب وہ کسی بھی انداز کی قدرِ صرف پیدا کرتا ہے۔

لیکن اس مقصد کے لئے کہ روپے کا حامل [فرد] اس قابل ہو کہ شے کے بطور لائی جانے والی قوتِ محن حاصل کر سکے متعدد شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے۔ خود اشیاء کا کامبادلہ ان تعلقات کے علاوہ کسی اور پر منحصر نہیں جو اس کی اپنی فطرت کا نتیجہ ہیں۔ اس مفروضے کی رو سے قوتِ محن صرف اس صورت میں منڈی میں شے کے بطور ظاہر ہو سکتی ہے ، جہاں تک اس کے حامل کا تعلق ہے ، یعنی وہ فرد جس کی یہ قوتِ محن ملکیت ہے، اس کو بیچنے کے لئے پیش کرے یا پھر شے کی حیثیت سے اس کو بیچے۔اب اس مقصد کے لئے کہ وہ شخص یہ کام سر انجام دینے میں کامیاب ہو اس کے پاس یہ ہونی چاہیے،اور ساتھ ساتھ اپنی محن کی اہلیت، یعنی اپنی ذات کا آزاد مالک بھی2؂۔ وہ اور روپے کا مالک منڈی میں رو برو ہوتے ہیں، اور حقوق کی برابری کی بنیاد پر،صرف اس فرق کے ساتھ کہ ان میں سے ایک خریدار ہے اور دوسرا فروخت کنندہ، ایک دوسرے سے معاملت کرتے ہیں، اور چنانچہ دونوں قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ اس تعلق کا تسلسل اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ قوتِ محن کا حامل اس کو محض ایک خاص عرصے کے لئے فروخت کرے، کیونکہ اگر وہ اس کو‘ لم سم ’بیچتا ہے یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تو یہ اپنے آپ ہی کو فرخت کرنے کے مترادف ہو گا،یعنی اپنے آپ کو ایک آزاد شخص سے غلام میں بدلنا، ایک شے کے حامل سے شے میں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلسل اپنی قوتِ محن کو ملکیت کے بطور ہی دیکھے یعنی خود اس کی اپنی شے، اور ایسا وہ فقط اسی صورت میں کر سکتاہے اس کو وہ خریدار کی منشا پر عارضی طور پر چھوڑے یعنی ایک مخصوص عرصے کے لئے۔صرف اسی واحد صورت میں وہ اپنے حقوق کو دوسروں کے غلبے میں جانے سے بچا سکتا ہے۔3؂

منڈی میں قوتِ محن کے شے کے بطور متلاشی روپے کے حامل شخص کے لئے دوسری لازمی شرط یہ ہے کہ مزدور ایسی اشیاء بیچنے کے بجائے جن میں اس کا محن خرچ ہوا ہے صرف اس قوتِ محن کو بطور شے بیچنے پر مجبورہو جو خود اس کی اپنی زندہ سیلف میں موجود ہے۔

اس مقصد کے لئے کہ ایک آدمی قوتِ محن کے علاوہ اشیاء بیچنے کے قابل ہو سکے اس کے پاس پیداواری ذرائع ، جیسے خام مال ، آلات وغیرہ موجود ہونا ضروری ہیں۔ چمڑے کے بغیر کوئی بوٹ تیار نہیں کئے جا سکتے۔ اس کو اشیائے خوردونوش کے ذرائع بھی درکار ہوں گے۔ کوئی شخص ، حتٰی کہ مستقبل کا موسیقار بھی ، مستقبل کی مصنوعات پر گذارا نہیں کر سکتا، یا پھر ان اقدارِ صرف پر جو تاحال نا مکمل ہیں۔ اور اگرچہ دنیا کے اسٹیج پر اس کے پہلے لمحے ہی سے انسان ہمیشہ ایک صارف ہی رہا ہے اور پیدا کاری کے عمل کے بعد اور پہلے ہر دو صورتوں میں اسے صارف ہی رہنا ہے۔ایسے معاشرے میں جہاں تمام مصنوعات اشیاء کی بنتر میں آ جاتی ہیں، ان اشیاء کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ چونکہ وہ بن چکی ہیں اس لئے ان کا بیچا جان ضروری ہے۔ یہ صرف ان کی فروخت کے بعد ہی ممکن ہے کہ وہ اپنے پیداکار کی حاجات کی تسکین کر سکتیں ہیں۔ ان کی فروخت کے لئے درکار ضروری وقت کو اس عرصے میں جمع کر دیا جاتا ہے جو ان کی پیداوار کے لئے ضروری ہوتاہے۔

اپنے روپے کو سرمائے میں بدلنے کے لئے روپے کے حامل کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ منڈی میں ایک آزاد مزدور سے ملے، آزاد دوہرے معنوں میں:ایک یہ کہ آزاد آدمی کی حیثیت سے وہ اپنی قوتِ محن کو خود اپنی شے کی مانند آزادانہ فروخت کر سکے، اور دوسری طرف اس کے پاس فروخت کرنے کے لئے کو ئی اور شے موجود نہ ہو، مطلب یہ کہ اپنے محن کو ایک شے کی شکل دینے کے لئے اس کے پاس کو ئی ذریعہ نہ ہو۔

آزاد مزدور اپنے آپ کو منڈی میں کیوں لے جاتا ہے ، ایک ایسا سوال ہے جس سے روپے کے حامل کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے نزدیک محن کی منڈی اشیاء کی عام منڈی کی ایک شاخ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اس وقت ہم اس سے بہت کم سروکار رکھیں گے۔ ہم اس حقیقت کو نظریاتی طور پر لیں گے جیسا کہ وہ اسے عملی عملی طور پر لیتا ہے۔ تاہم یہاں ایک بات واضح ہے، اور وہ یہ کہ فطرت نہ تو ایک طرف اشیاء یا روپے کا حامل ہی پیدا کرتی ہے اور نہ دوسری طرف ایسے آدمی جو بجز اپنی قوتِ محن کے کسی اور چیز کے حامل نہیں ہوتے۔اس تعلق کی کوئی فطری بنیاد نہیں ہے، نہ ہی اس کی کوئی ایک ایسی بنیاد ہے جو تمام تاریخی ادوار میں مشترک ہے۔ یہ واضح طور پر ماضی کے تاریخی ارتقاکا نتیجہ ہے، یعنی کئی ایک معاشی انقلابات کا حاصل، جس میں سماجی پیداوار کی تمام تر قدیم بنتریں فنا ہو گئیں۔

اسی طرح سے ان معاشی اصولوں پر بھی تاریخ کی مہر ثبت ہے جن پر ہم ما قبل بحث کر چکے ہیں۔مخصوص تاریخی حالات اس مقصد کے لئے ضروری ہیں کہ ایک مصنوعہ شے کا درجہ حاصل کر جائے۔ یہ خود پیداکار کے لئے اشیائے خوردونوش کے فوری ذریعے کے بطور تیار نہیں ہونی چاہئے۔اگر ہم اس سے آگے بڑھے ہوتے اور اس بات کی ت




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قوتِ محن کی خرید اور فروخت ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے