قوتِ محن کی خرید اور فروخت : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 804
عنوان قوتِ محن کی خرید اور فروخت
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 240015
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قوتِ محن کی خرید اور فروخت کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قوتِ محن کی خرید اور فروخت - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی6

قوتِ محن کی خرید اور فروخت


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

حقیق کی ہوتی کہ وہ کون سے حالات ہیں جن کے تحت مصنوعات کی کثیر تعداد اشیاء کی بنتر اختیار کرتی ہے، تو ہمیں اس بات کا ضرور پتا چلتا کہ ایساصرف ایک مخصوص قسم کی پیداوار [پیداواری نظام] کی صورت ہی میں ممکن ہے، مراد سرمایہ دارانہ پیداوار۔پیداوار اور اشیاء کی گردش وقوع پذیر ہو سکتی ہے، اگرچہ پیدا کی جانے والے چیزوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے پیداکاروں کی فوری ضروریات کے لئے مخصوص کر لیا جاتاہے ، اور ان کو اشیاء میں نہیں بدلا جا سکتااور نتیجتاً سماجی پیداوار اپنی وسعت میں ابھی تک قدرِ مبادلہ سے مغلوب نہیں ہے۔ مصنوعات کا اشیاء کے بطور ظہورمحن کی سماجی تقسیم کی ایسے ارتقا کو پہلے سے فرض کر لیتی ہے جس میں قدرِ صرف سے قدرِ مبادلہ کا امتیاز، ایک ایسی امتیاز جس کا آغاز پہلے پہل بارٹر سے ہوتا ہے ، پہلے ہی مکمل ہو جانا چاہیے۔ لیکن ترقی کا ایسادرجہ سماج کی کئی بنتروں میں مشترک ہے، جو دوسری صورتوں میں بدلتے ہوئے تاریخی خصائص کو بیان کرتا ہے۔ ایک طرف اگر ہم روپے کو تصور کریں جس کا وجود اشیاء کے مبادلے میں مخصوص درجے کا تقاضہ کرتا ہے۔ روپے کے وہ خا ص مناصب جو یہ ادا کرتا ہے ، خواہ اشیاء کے نرے مساوی القدر کے بطور یا گردش کے ذریعے کے بطور ، یا پھر ادائیگی کے ذرائع کے بطور، جمع وست کے بطور یا یونیورسل روپے کے بطور ، ان مناصب میں سے کسی ایک یا کسی دوسرے کی حد یا متعلقاتی برتری کی رو سے ، سماجی پیداوار کے عمل میں ان بہت سے مختلف درجات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ تاہم ہم یہ بات تجربے سے جانتے ہیں کہ نسبتاً قدیم طرز کی اشیاء کی گردش ان تمام قسم کی بنتروں کی پیدائش کے لئے کافی ہے۔ سرمائے کے ساتھ صورت حال مختلف ہے۔اس کے وجود کی تاریخی صورتِ احوال روپے اور اشیاء کی نری گردش کے ساتھ نہیں دی جاتی۔ اس میں زندگی صرف اس صورت میں پھوٹتی ہے جب پیداواری ذرائع اور اشیائے خوردونوش کا حامل ایک ایسے آزاد محن کار سے ملتا ہے جو اپنی قوتِ محن فروخت کر رہا ہو۔ اور یہی واحد تاریخی شرط تاریخِ عالم کا احاطہ کرتی ہے۔ چنانچہ سرمایہ اپنے اولین اظہار پر سماجی پیداوار کے عمل میں اپنے نئے مقام کا علان کرتا ہے4؂۔

اب اس مخصوص شے یعنی قوتِ محن کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ دوسری تمام [اشیاء] کی طرح یہ بھی قدر کی حامل ہے5؂۔ یہ قدر کس طرح متعین کی جاتی ہے؟

دوسری تمام اشیاء کی طرح قوتِ محن کی قدر بھی اس کی پیداوار کے لئے درکار ضروری عرصے سے اور نتیجتاً اس سماجی عنصر کی باز تشکیل سے متعین کی جا سکتی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ بھی قدر کی حامل ہے ، یہ اس میں متجسم سماجی محن کی اوسط مقدار سے زیادہ کسی چیز کو بھی بیان نہیں کرتا۔ قوتِ محن صرف ایک اہلیت یا پھر زندہ فرد کی قوت کی صورت ہی میں وجود رکھ سکتی ہے۔ نتیجتاً اِس کی پیداوار اُس کے وجود کو ماقبل ہی تصور کر لیتی ہے۔ایک خاص فرد میں قوتِ محن کی پیداوار خود اس کی اپنی ذات کی پیداوار پر مشتمل ہوتی ہے، یا اس کی بقا پر۔اپنی بقا کے لئے اسے اشیائے خورد و نوش کی ایک مخصوص مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی وجہ سے قوتِ محن کو پیدا کرنے کے لئے درکار عرصۂ محن اپنے آپ کو اس عرصے تک محدود کر لیتاہے جو اشیائے خوردونوش کو پیدا کرنے کے لئے ضروری ہو۔ دوسرے لفظوں میں قوتِ محن کی قدر ان ذرائع خودرونوش کی قدر ہے جو مزدور کی بقا کے لئے ضروری ہے۔ قوتِ محن صرف اپنے وجود سے ہی حقیقت کی سند پاتی ہے، یہ اپنے آپ کو صرف کام ہی سے متحرک کرتی ہے۔لیکن اس کے باعث انسانی پٹھوں ، اعصاب ، ذہن وغیرہ کی ایک خاص مقدار خرچ ہوتی ہے، اور ان کی بحالی مطلوب ہوتی ہے۔یہ بڑھا ہوا خرچ ایک بڑی آمدن کا تقاضا کرتا ہے6؂۔ اگر قوتِ محن کا حامل آج کام کرتا ہے تو کل اسے دوبارہ اس قابل ہو جانا چاہیے کہ جہاں تک صحت اور قوت کا تعلق ہے وہ دوبارہ اسی صورتِ حال میں اسی عمل کو دوہرا سکے۔ اس کے ذرائع خوردونوش اتنے کافی ہونے چاہئیں کہ اس کو معمول کا کام کرنے والا تندرست مزدور بنا سکیں۔ اس کی فطری ضروریات جیسے خوراک ، لباس، ایندھن اور مکان اس کے ملک کے موسمی اور دیگر طبعی حالات کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ دوسری طرف اس کی نام نہاد لازمی حاجات کی تعداد اور حد، جوان کی تسکین کے انداز بھی ہو سکتے ہیں ، وہ خود بھی تاریخی ترقی کی وجہ سے ہوتے ہیں، اور اسی لئے ان کا زیادہ انحصار ایک ملک کی تہذیبی ترقی کی حد پر ہوتاہے، خاص طور پر ان حالات پر جن کے تحت ، اور نتیجتاً ان عادات اور تسکین کی اس حد پر جس میں آزاد مزدور طبقہ معرضِ وجود میں آیا ہے7؂۔ چنانچہ دوسری اشیاء کے بر عکس خصوصیات کی وجہ سے قوتِ محن کی قدر کی تعیین کے لئے تاریخی اور اخلاقی عوامل ظاہر ہوتے ہیں۔اس کے باوجود کسی بھی ملک میں ایک خاص وقت میں مزدور کے لئے درکار اشیائے خوردونوش کی ایک خاص ضروری مقدار عملی طور پر معلوم ہوتی ہے ۔

قوتِ محن کا حامل ایک فانی ہستی ہے۔ پھر اس صورت میں کہ اُس کی منڈی میں آمد کا تسلسل رہے ، اور روپے کو سرمائے میں بدلنے کا عمل اس کو فرض کر لے ، تو اس صورت میں قوتِ محن کے فروخت کنندہ کو اپنے وجود کو مستقل رکھنا ہو گا،‘‘ بالکل اسی انداز میں جیسے ہر ذی روح اپنے آپ کو مستقل بنانے کے لئے اپنی نسل بڑھاتا ہے8؂۔جو قوتِ محن منڈی سے بے کار، ناکارہ اور موت کی وجہ سے نکل جاتی ہے ، اس کی جگہ مسلسل طور پر کم از کم اتنی ہی مقدارمیں تازہ قوتِ محن ضرور داخل ہونی چاہیے۔ پس قوتِ محن کے لئے ضروری اشیائے خوردونوش کے ذرائع کے حجم میں وہ ذرائع بھی شامل ہونے چاہئیں جو مزدور کے متبادل [مہیا کرنے ]کے لئے ضروری ہیں، جیسے اُس کے بچے ، تا کہ اس مخصوص شے کے حاملین کی نسل منڈی میں اپنی آمد کو یقینی بنا سکے9؂۔

انسانی اعضا کو اس قابل بنانے کے لئے کہ یہ صنعت کی ایک مخصوص شاخ میں مہارت اور صناعی حاصل کر سکے ، اورخاص قسم کی قوتِ محن بن سکے ،خاص قسم کی تعلیم یاتربیت درکار ہے، اور یہ ، اپنی باری آنے پر، اشیاء میں ایک بڑی یا چھوٹی مقدار کا مساوی القدر پیدا کرتی ہے۔ یہ مقدار قوتِ محن کے کم یا زیادہ پیچیدہ خاصے کی رو سے بدلتی ہے۔ اس تعلیم کے اخراجات( عام قوتِ محن کے سلسلے میں کافی حد تک تھوڑے ہوتے ہیں )اس کی پیدا




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قوتِ محن کی خرید اور فروخت ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے