قوتِ محن کی خرید اور فروخت : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 804
عنوان قوتِ محن کی خرید اور فروخت
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 239475
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قوتِ محن کی خرید اور فروخت کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قوتِ محن کی خرید اور فروخت - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی6

قوتِ محن کی خرید اور فروخت


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

وار پر استعمال ہونے والی کل قدر میں اسی حد تک داخل ہو جاتے ہیں۔

ذرائع خورد و نوش میں سے چند ایک ، جیسے خوراک اور ایندھن ، روزانہ خرچ ہوتے ہیں، چنانچہ ہر روز ایک تازہ رسد ضرور مہیا ہونی چاہیے۔ دیگر ذرائع ، جیسے لباس اور فرنیچر وغیرہ ایک طویل عرصے تک استعمال ہوتے رہتے ہیں اس لئے ان کو کافی عرصے کے بعد بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک چیز کو روزانہ خریدنا پڑتاہے کسی دوسری کو ہفتہ وار، اور کسی تیسری کو چار ہفتوں بعد ، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان بیرونی لوازمات کا مجموعہ خواہ کسی بھی طریقے سے پورے سال کو محیط ہو ، ایک دن کو دوسرے دن کے ساتھ شمار کرتے ہوئے ان [لوازمات] کو اوسط آمدن کے ذریعے پورا کرنا ہو گا ۔اگر قوتِ محن کی روزانہ تخلیق کے لئے درکار اشیاء کی کل تعداد =A ،اور ہفتہ وار درکاراشیاء کی تعداد=B ،اور ماہوار درکار اشیاء کی تعداد =C ، وغیرہ وغیرہ ہو تو ان اشیاء کی روزانہ اوسط درج ذیل ہو گی:

365A+52B+4C+&c

365



فرض کریں کہ اشیاء کے اس مجموعے میں جو ایک اوسط دن کے لئے درکار ہوتا ہے ، سماجی محن کے 6 گھنٹے متجسم ہوئے ہیں ، اس صورت میں قوتِ محن کے لئے روزانہ آدھے دن کااوسط سماجی محن ضروری ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں قوتِ محن کی روزانہ کی پیداوار کے لئے آدھے دن کا محن درکار ہو گا۔محن کی یہ مقدار ایک دن کی قوتِ محن کی قدر تشکیل دیتی ہے یا روزانہ دوبارہ پیداہونے والی قوتِ محن۔ اگرآدھے دن کا اوسط محن تین 3 شلنگ میں مجتمع ہو جائے اس صورت میں 3 شلنگ ایک دن کی قوتِ محن کو بیان کرنے والی قیمت کے مساوی سمجھی جائے گی۔چنانچہ اگر اس کا حامل اسے 3شلنگ یومیہ کے حساب سے فروخت کے لئے پیش کرے تو اس کی قیمتِ فروخت اس کی قدر کے مساوی بن جائے گی، اور ہمارے مفروضے کی رو سے ، ہمارا دوست Monybags جو اپنے تین شلنگ کو سرمائے میں بدلنے کا خواہاں ہے یہ قدرادا کر دیتا ہے۔

قوتِ محن کی قدر کی کم سے کم حد ان اشیاء کی قدر سے متعین ہوتی ہے جن کی روزانہ کی رسد کے بغیر مزدور اپنی ناگزیر توانائی کی تعمیرِ نو نہیں کر سکتا، اور نتیجتاً ان ذرائع بقا کی قدر سے بھی جنہیں جسمانی طور پردر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر قوتِ محن کی قیمت اس کم از کم حد سے گر جائے تو یہ خود اپنی قدر سے بھی کم رہ جائے گی، اگرچہ ان حالات کے تحت اس کو صرف ایک مخدوش حالت میں ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے اور ترقی دی جا سکتی ہے ۔ لیکن ہر شے کی قدر اس عرصۂ محن سے متعین کی جاتی ہے جو اس کو کسی معیار کے مطابق بنانے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

یہ بڑی سستی قسم کی جذباتیت ہے جو لوگ قوتِ محن کی تعیین کے اس طریقے کو ، جو خودمسئلے کی اپنی نوعیت ہی کا وضع کردہ ہے، ایک وحشیانہ طریقہ قرار دیتے ہیں ، اور جو Rossiکے ساتھ یہ واویلہ کرتے ہیں،‘‘ محن کی صلاحیت کو سمجھنا،جب کہ ہم بیک وقت پیداوار کے عمل کے دوران مزدوروں کے ذرائع بقا سے [نتائج ] ماخوذ کرتے ہیں ایک غیر مرئی چیز کو سمجھنے کے مترادف ہے۔ جب ہم محن یا محن کی اہلیت کی بات کرتے ہیں، تو ہم بیک وقت مزدور اور اس کے ذرائع بقا، اور مزدور اور اس کی مزدوری کی بات بھی کرتے ہیں10؂۔ ’’ جب ہم محن کی اہلیت کی بات کرتے ہیں توہم محن کی بات نہیں کرتے بالکل اسی طرح جیسے ہاضمے کی صلاحیت کی بات کرتے ہوئے ہاضمے کے بارے میں کچھ نہیں کہتے ۔ آخرالذکر عمل میں ایک اچھے معدے سے کچھ زیادہ درکار ہے۔جب ہم محن کی اہلیت کی بات کرتے ہیں تو ہم ضروری ذرائع بقا سے[نتائج] اخذ نہیں کر سکتے۔ اس سے برعکس اُن کی قدر قوت محن کی اپنی قدر میں بیان ہوتی ہے۔اگر محن کی یہ اہلیت بِن بیچے ہی رہ جائے تو مزدور اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکے گا، بلکہ اس سے برعکس وہ ایسا محسوس کرے گا کہ گویا فطرت کی لاگو کی گئی ایک ظالم لازمیت ہے کہ اس اہلیت نے اپنی پیداوار کے لئے ذرائع بقا کی ایک مخصوص مقدار استعمال کی ہے اور یہ اسی عمل کو اپنی تخلیقِ نو کی غرض سے مسلسل جاری رکھے گی۔ پھر وہ سس مانڈی سے متفق ہو جائے گا :‘‘ محن کی یہ اہلیت ....جب تک بیچی نہ جائے کوئی قدرومنزلت نہیں رکھتی11؂۔ ’’

قوتِ محن کی شے کے بطور انوکھی خاصیت کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی قدر بیچنے اور خریدنے والے کے مابین معاہدے کے نتیجے کے وقت فوراً ہی آخرالذکر کے ہاتھ میں نہیں پہنچ جاتی۔ ہر دوسری شے کی مانند اس کی قدر بھی گردش میں جانے سے پہلے ہی مقرر کر دی جاتی ہے؛ چونکہ اس پر سماجی محن کی ایک خاص مقدار خرچ آئی ہوتی ہے لیکن اس کی قدرِ صرف اس کے عملی استعمال پر منحصر ہے۔ قوتِ محن کا بُعد اور خریدار کے ہاتھ اس کا حقیقی حصول، اس کا قدرِ صرف کے بطور استعمال ، ایک زمانی وقفے کے ذریعے علیحدہ کئے جاتے ہیں۔ لیکن جن صورتوں میں ایک شے کی قدرِ صرف کا فروخت کے ذیعے روایتی بُعد، خریدار کی طرف اس کی حقیقی رسد کے ساتھ ہی رونما نہیں ہوتا ، اس صورت میں آخرالذکر کا روپیہ ادائیگی کے ذریعے کے بطور استعمال ہوتا ہے12؂۔ ہر اس ملک میں جہاں سرمایہ دارانہ نظامِ پیداوار مروج ہو ، یہ رواج ہوتا ہے کہ قوتِ محن کی ادائیگی اس وقت تک نہ کی جائے جب تک کہ یہ معاہدے کے مطابق معینہ مدت تک استعمال نہ ہومثلاً جیسے ہر ہفتے کے اختتام پر۔ لہٰذا ہر صورت میں قوتِ محن کی قدرِ صرف سرمایہ دار کو مہیا کر دی جاتی ہے۔مزدور خریدار کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اس کو خرچ کر لے اس سے قبل کہ اس کی ادائیگی کی جائے۔ مزدور ہر مقام پر سرمایہ دار ہی کو کریڈٹ دیتا ہے۔ کہ یہ ادھار محض قصہ ہی نہیں ، سرمایہ دار 13؂کے دیوالیہ ہو جانے کی صورت میں مزدوری کے ضیاع کی شکل میں سامنے آتا ہے14؂، بلکہ اس سے بھی شدید تر نتائج کی شکل میں بھی۔تاہم چاہے روپیہ خریداری کے ذریعے کا کام دے یا پھر ادائیگی کے ذریعے کا اس کا اشیاء کے مبادلے کی نوعیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قوتِ محن کا عوضانہ معاہدے کے تحت مقرر کیا جاتا ہے ، اگرچہ یہ مکان کے کرائے کی مانند مابعد تک بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔قوتِ محن فروخت کر دی جاتی ہے اگرچہ اس کا معاوضہ بعد ہی کو دیا جاتا ہے۔ چنانچہ فریقین کے مابین تعلق کی واضح سمجھ کے لئے وقتی طور پر یہ فرض کرنا فائدہ مند ہو گا کہ قوتِ محن کا حامل ہر فروخت کے موقع پر اُ س رقم کو فوری طور پر وصول کرلے جو ادائیگی کے لئے رکھی گئی تھی۔

اب ہم یہ جانتے ہیں کہ اس خاص شے ،یعنی قوتِ محن، کی قدر کاتعین کیسے ہوتا ہے ، یعنی وہ قدر جو اس کا خریدار اس کے حامل کو ادا کرتا ہے۔ وہ قدرِ صرف جواول ا




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قوتِ محن کی خرید اور فروخت ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے